پہلی فصل

سلطنت کے عام حالات

حکومت کی طرف سے رعایا کے طرز زندگی اور آپس کے تعلقات میں قطعاً کوئی دخل نہیں دیا جاتا تھا‘ شہروں اور قصبوں کے اندرونی انتظامات بھی سب باشندگان شہر کے اختیار میں تھے‘ وہ خود ہی آپس میں آزادانہ اپنی حفاظت کی تدبیریں کرتے‘ اور اگر ایک عامل سے ناراض ہو جاتے تو اس کے وہاں سے تبدیل کرنے کی درخواست خلیفہ کی خدمت میں بھجواتے‘ اور خلیفہ عموماً ان کی درخواست منظور کر لیتا‘ اور کسی شہر کا عامل شہر والوں کی رضا مندی کے بغیر مقرر نہ کیا جاتا‘ ہر ایک شہر کے باشندے بجائے خود ایک فوجی طاقت رکھتے تھے‘ بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ کسی شہر کے عامل کا کسی فوج نے محاصرہ کر لیا ہے‘ وہ اپنی سرکاری فوج سے دشمن کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے‘ لیکن شہر والوں نے محاصر دشمن سے مصالحت کر لی ہے تو اس عامل کو مجبوراً شہر چھوڑ کر چلا جانا پڑا ہے۔ شہریوں کے حقوق کو پامال کرنے کی حکام کو عموماً جرأت نہ ہوتی تھی‘ معمولی سے معمولی آدمی بھی بڑے سے بڑے حاکم بلکہ خلیفہ تک پہنچ سکتا تھا اور جو کچھ اس کے جی میں آئے کہہ گذرتا تھا‘ خلفاء عموماً اپنے آپ کو ہر دل عزیز اور نافع الناس ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے‘ علوم و فنون کی قدردانی عام طور پر خلفاء عباسیہ نے بہت کی ہے۔