محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

شام کا دوسراسفر

یہ تجارتی قافلہ جس کے ہمراہ آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ کا مال کے روانہ ہوئے تھے ملک شام میں داخل ہو کر ایک صومعہ کے قریب ٹھہرا‘ اس صومعہ میں ایک راہب رہتا تھا جس کا نام نسطورا تھا‘ نسطورا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا تو اپنے صومعہ سے بعض کتاب سماویہ لے کر آیا اس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے جسم اور چہرے کی دیکھ بھال شروع کی کبھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھتا کبھی کتب سماویہ کو پڑھتا اور مقابلہ کرتا‘ اس عجیب کیفیت کو دیکھ کر خزیمہ کے دل میں شک پیدا ہوا اور اس نے بلند آواز سے یا ’’آل غالب‘‘ کہا یعنی آل غالب جلدی مدد کو پہنچو‘ یہ آواز سن کر قافلہ کے تمام قریش دوڑ پڑے۔ نسطورا اس طرح قریش کو آتے دیکھ کر وہاں سے بھاگا اور اپنے صومعہ کی چھت پر جا بیٹھا۔ وہاں سے قافلہ والوں کو بتایا کہ خطرہ کی کوئی بات نہیں تھی میں اس شخص کا جو تمہارے ساتھ ہے کتب سماویہ کو دیکھ دیکھ معائنہ کر رہا تھا‘ نبی آخرالزماں کے جو جو علامات اور خط و خال ہماری کتابوں میں لکھے ہیں وہ سب اس میں موجود ہیں‘ یہ سن کر سب کو اطمینان ہوا۔ اس سفر میں بھی قافلہ کا مال بہت منافع سے فروخت ہوا‘ کہا جاتا ہے کہ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کئی مرتبہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ کا مال لے کر بحرین یمن اور شام کی طرف گئے‘ ہر مرتبہ تجارت میں خوب نفع ہوا۔۱؎