پہلی فصل
دارالعدل
اس میں ہر ایک عدالت کے فیصلے پر اپیل ہو سکتی تھی‘ دارالعدل میں قاضی بغداد یعنی قاضی القضاۃ‘ وزراء‘ شہر کے فقہاء و علماء سب جمع ہو کر اہم مقدمات کی سماعت کرتے تھے‘ دارالعدل میں خلیفہ بھی بطور صدر شریک ہوتا تھا اور اگر خود خلیفہ کی ذات کو اس معاملے سے کوئی تعلق ہو تو وزیراعظم یا قاضی القضاۃ کو صدارت کا منصب دیا جاتا تھا‘ صوبہ داروں پر بغاوت کا الزام لگایا جاتا یا سپہ سالاروں کو سازش سے متہم کیا جاتا تو انہیں اسی عدالت میں پیش ہو کر اپنی صفائی اور برأت پیش کرنے کا موقعہ دیا جاتا تھا‘ اس عدالت میں وہی شخص بطور گواہ پیش ہو سکتا تھا جو اپنے نیک چلن ہونے کی تحریری سند جس پر قاضی اور محتسب کے دستخط ہوں پیش کر سکتا تھا‘ بڑے بڑے عالی رتبہ اشخاص اس عدالت میں گواہی دیتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں ہماری نیک چلن پر کوئی اعتراض ہو کر ہماری شہادت مسترد نہ ہو جائے۔