پہلی فصل
دیوان الانہار
اس محکمے کا کام نہروں کی مرمت و نگرانی کرنا اور آب پاشی کے وسائل بڑھانا تھا‘ یعنی نہریں نکالنے میں کاشت کاروں کے سوا امراء اور اہل خیر کو آزادی حاصل تھی‘ کاشت کار یا کسی علاقے کے باشندے اگر کوئی جدید نہر نکالنا چاہتے تھے تو اس نہر کے نکالنے کا نصف خرچ سرکاری خزانہ سے ملتا تھا‘ اگر پانی کی تقسیم میں ایک گائوں والوں کا دوسرے گائوں والوں سے کوئی جھگڑایا فساد ہو جاتا تھا تو اس محکمہ کے اہل کار دخل دے کر اس کا فیصلہ کر دیتے تھے‘ ورنہ عام طور پر گورنمنٹ کوئی دخل نہ دیتی تھی‘ کاشت کار آپس ہی میں سب باتیں طے کر لیتے تھے۔
جدید نہروں کے نکالنے سے حکومت کو صرف یہ فائدہ ہوتا تھا کہ محاصل کی وصولی میں آسانی ہو جاتی تھی اور کاشت کار مال دار و خوشحال ہو کر محاصل کی ادائیگی میں تامل نہ کرتے تھے۔