مقتفی لامر اللہ

دیلمیہ و سلجوقیہ

دیلمی یعنی بنی بویہ نے طاقت حاصل کر کے خاندان عباسیہ کے خلفاء کی عزت کو برباد کیا اور اپنے عہد حکمرانی میں خلافت اسلامیہ کو سخت نقصان پہنچایا‘ ان لوگوں کے زمانے میں آئے دن شیعہ سنیوں کے ہنگامے بھی برپا رہے اور مسلمانوں کی طاقت دم بدم کمزور ہوتی رہی‘ ان کے بعد جب سلجوقیوں نے ان کی جگہ لی اور وہ برسر اقتدار آئے تو خلافت اور خلفاء کی عزت و تعظیم نے ترقی کی‘ سلجوقیوں نے خاندان عباسیہ کے ساتھ عقیدت مندی کا برتائو کیا‘ سلجوقیوں کی طاقت بنی بویہ سے بدرجہا زیادہ تھی‘ سلجوقی سلطانوں نے بحیثیت مجموعی خلیفہ سے غداری و بے وفائی کا برتائو نہیں کیا‘ سلجوقیوں کے زمانہ میں مسلمانوں کی ضائع شدہ طاقت و عظمت پھر واپس آئی‘ سلجوقیوں میں قابلیت ملک گیری و ملک داری بنی بویہ کی نسبت بہت زیادہ تھی۔ اسی نسبت سے ان میں دین داری اور مذہبیت بھی زیادہ تھی‘ آخر زمانے میں آپس کی نا اتفاقی اور خانہ جنگی نے دولت سلجوقیہ کا خاتمہ کر دیا اور یہ وہ مرض ہے جس سے دنیا میں کوئی خاندان محفوظ نہیں نظر آتا‘ بہرحال خلیفہ مقتفی کے زمانہ میں سلجوقیوں کا بھی خاتمہ ہو گیا‘ اگرچہ سلجوقی سردار اس کے بعد عرصۂ دراز تک چھوٹے چھوٹے قطعات ملک پر حکمران نظر آتے رہے مگر نائب السلطنت اور سر پرست ہونے کی حیثیت سے وہ اپنا دور ختم کر چکے۔