راشد باللہ

راشد باللہ

مسترشد باللہ بن مستظہر باللہ ربیع الاول ۴۸۵ھ میں پیدا ہوا اور بعمر ۲۷ سال اپنے باپ کے بعد ۵۱۲ھ ۱۵ ربیع الآخر کو تخت نشین ہوا‘ خلیفہ مسترشد باللہ کے بھائی امیر ابوالحسن بن مستظہر نے بیعت نہیں کی اور بغداد سے واسط چلا گیا‘ سال بھر کے بعد گرفتار ہو کر آیا اور خلیفہ نے اس کا قصور معاف کر کے قصر خلافت میں ٹھہرایا‘ خلیفہ مسترشد باللہ کی تخت نشینی کے دوسرے مہینے مسعود بن سلطان محمد سلجوقی برادر سلطان محمود نے جو موصل میں مقیم تھا‘ خروج کیا اور اپنے ساتھ قسیم الدولہ زنگی بن آقسنفر والی سنجار اور ابو الٰہیجاء والی اربل کو بھی بلایا اور بغداد میں آ کر اپنا عمل دخل بٹھایا۔ ادھر سلطان محمود کا تیسرا بھائی سلطان طغرل بن سلطان محمد اپنے باپ کے زمانے سے زنجان کا حاکم تھا‘ سلطان محمود نے ملک طغرل پر چڑھائی کی‘ ملک طغرل زنجان سے بھاگ گیا‘ سلطان محمود نے زنجان کو لوٹ لیا۔ جب سلطان محمد کا انتقال ہوا اور سلطان محمود تخت نشین ہوا تو اس وقت سلطان محمد کا بھائی یعنی سلطان محمود کا چچا سنجر ماوراء النہر کا حاکم تھا‘ سلطان سنجر کا لقب پہلے ناصر الدین تھا‘ سلطان محمد کے انتقال کے بعد سلطان سنجر نے ماوراء النہر ہمراہ امیر ابوالفضل والی سجستان‘ خوارزم شاہ محمد امیر انزدارور علاء الدولہ والی یزد وغیرہ سردار بھی تھے‘ اس معرکہ میں سلطان محمود کو شکست اور سلطان سنجر کو فتح حاصل ہوئی اور اس نے بڑھ کر ہمدان پر قبضہ کیا‘ یہ خبر جب بغداد میں پہنچی تو یہاں سلطان سنجر کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔ سلطان محمود نے بعد شکست اصفہان میں جا کر دم لیا‘ آخر سلطان سنجر کی ماں یعنی سلطان محمود کی دادی نے کوشش کر کے دونوں میں صلح کرا دی‘ شرط یہ قرار پائی کہ سلطان سنجر سلطان محمود کو اپنا ولی عہد تسلیم کرے اور خطبوں میں سنجر کے بعد محمود کا نام لیا جائے‘ چنانچہ اسی شرط کے موافق سلطان سنجر نے ماوراء النہر غزنہ‘ خراسان وغیرہ اپنے ممالک میں سلطان محمود کی ولی عہدی کے فرامین بھیج دے‘ صرف رے کا علاقہ سلطان سنجر نے سلطان محمود کے مقبوضہ ممالک سے اپنے قبضہ میں لے کر باقی تمام ممالک پر اس کی حکومت کو تسلیم کیا‘ ادھر سلطان محمود نے اپنے بھائی سلطان مسعود سے صلح کر کے اس کو موصل و آذربائیجان کے صوبے دے دئیے اور اس نے موصل کو اپنا مستقر حکومت بنایا۔ ۵۱۳ھ میں سلطان مسعود نے اپنی خود مختاری اور سلطان محمود کی مخالفت کا علم بلند کیا‘ ۱۵ ربیع الاول ۵۱۴ھ کو دونوں بھائیوں میں لڑائی ہوئی‘ مسعود کو شکست ہوئی اور موصل کے قریب جا کر پہاڑوں میں پناہ لی‘ امراء نے درمیان میں پڑ کر دونوں بھائیوں میں صلح کرا دی‘ سلطان محمود ماہ رجب ۵۱۴ھ میں بغداد واپس آ گیا اور سلطان مسعود پھر موصل میں حکومت کرنے لگا۔ ۵۱۵ھ میں سلطان محمود نے موصل کی حکومت آقسنفر برسقی کو دی اور مسعود کے پاس آذربائیجان کا صوبہ رہا۔ سلطان طغرل کا ذکر اوپر آچکا ہے‘ وہ سلطان محمود سے شکست کھا کر گنجہ میں چلا آیا تھا‘ ۵۱۶ھ میں سلطان محمود اور سلطان طغرل کے درمیان صلح نامہ لکھا گیا‘ اس کے بعد سلطان محمود نے آقسنفر برسقی کو موصل کے علاوہ واسط کا علاقہ بھی جاگیر میں دے دیا‘ آقسنفر برسقی نے اپنی طرف سے قسم الدولہ عماد الدین زنگی بن آقسنفر کو واسط کی حکومت پر مامور کیا‘ ۵۱۷ھ میں سلطان محمود نے اپنے وزیر شمس الملک کو قتل کر دیا اور شمس الملک کے بھائی نظام الدولہ کو خلیفہ مسترشد باللہ نے اپنی وزارت سے معزول کیا۔ ماہ ذی الحجہ ۵۱۷ھ میں خلیفہ مسترشد باللہ نے خود فوج تیار کر کے دیبس بن صدقہ کی سرکوبی کے لیے بغداد سے کوچ کیا‘ موصل و واسط کی فوجیں بھی خلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں‘ مقام مبارکہ میں لڑائی ہوئی‘ اس لڑائی میں عماد الدین زنگی بن آقسنفر والی واسط نے بڑی بہادری اور جان فروشی دکھائی اور خلیفہ نے فتح پائی‘ ۱۰ محرم ۵۱۸ھ کو خلیفہ مظفر و منصور بغداد میں داخل ہوا‘ یہ غالباً پہلی جنگ تھی جو عرصہ دراز کے بعد عباسی خلیفہ کی سپہ سالاری میں ہوئی‘ اس کے بعد معلوم ہوا کہ دیبس بن صدقہ بصرہ کو لوٹنا چاہتا ہے‘ چنانچہ عماد الدین زنگی بن آقسنفر بصرے کی حفاظت کے لیے مامور ہو کر روانہ ہوا اور دیبس وہاں سے ناکام و نامراد ہو کر ملک طغرل بن سلطان محمد کے پاس چلا گیا۔ اسی سال یعنی ۵۱۸ھ میں آقسنفر برسقی جو شحنہ عراق مقرر ہو چکا تھا اور موصل میں رومیوں کے حملوں کے روکنے کی تدابیر میں مصروف تھا‘ عماد الدین زنگی کو بصرہ کی حکومت سے اپنے پاس موصل میں طلب کیا۔ عماد الدین زنگی بصرہ سے روانہ ہو کر موصل تو نہیں گیا‘ بلکہ سلطان محمود کے پاس اصفہان پہنچا‘ سلطان محمود نے وہاں سے اس کو بصرہ کی سند حکومت دے کر بصرہ کی طرف واپس کر دیا۔ دیبس بن صدقہ جب سلطان طغرل کے پاس پہنچا تو اس نے اس کو اپنے مصاحبین میں داخل کر لیا۔ دیبس نے طغرل کو ابھار کر عراق پر چڑھائی کرا دی ۵۱۹ھ میں طغرل نے معہ دیبس مقام وقوقا میں پہنچ کر قیام کیا‘ یہ خبر سن کر خلیفہ مسترشد باللہ نے ۵ صفر ۵۱۹ھ کو فوج لے کر بغداد سے بغرض مقابلہ کوچ کیا نہروان میں سامنا ہوا‘ مگر دیبس اور طغرل دونوں خراسان میں سلطان سنجر کے پاس پہنچے۔ رجب ۵۲۰ھ میں یرتقش زکوی کوتوال بغداد سلطان محمود کے پاس اصفہان پہنچا اور کہا کہ خلیفہ مسترشد باللہ نے فوجیں مرتب کر لی ہیں اور سامان جنگ بھی کافی فراہم ہے اور مالی حالت بھی خلیفہ کی اچھی ہو گئی ہے‘ اندیشہ ہے کہ خلیفہ قابو سے نہ نکل جائے‘ یہ سن کر سلطان محمود نے فوجیں آراستہ کر کے خود بغداد کی جانب کوچ کیا‘ خلیفہ مسترشد باللہ نے جب یہ سنا کہ سلطان محمود بغداد کی جانب آ رہا ہے تو اس کو لکھا کہ تمہارے اس طرف آنے کی ضرورت نہیں ہے‘ تم دیبس وغیرہ کے سرکشوں کی سرکوبی کے لیے واپس جائو‘ اس سے سلطان محمود کا شبہ یقین کے درجہ کو پہنچ گیا‘ اور اس نے سمجھا کہ خلیفہ ضرور میرے اثر و اقتدار سے آزاد ہونا چاہتا ہے‘ چنانچہ وہ اور بھی تیزی سے بغداد کی جانب سفر طے کرنے لگا۔ ۱۷ ذی الحجہ ۵۲۰ھ کو سلطان محمود بغداد میں داخل ہوا اور خلیفہ غربی بغداد میں چلا گیا‘ یکم محرم ۵۲۱ھ کو سلطان محمود کے ہمراہیوں نے قصر خلافت کو لوٹا‘ اہل بغداد وتیس ہزار کی تعداد میں خلیفہ مسترشد کے پاس جمع ہو گئے‘ دریائے دجلہ کے ساحل پر لڑائیوں کا سلسلہ جاری ہوا‘ بہت سی لڑائیوں اور زور آزمائیوں کے بعد خلیفہ اور سلطان میں صلح ہو گئی‘ ربیع الثانی ۵۲۱ھ کو سلطان محمود بغداد سے ہمدان کی جانب روانہ ہوا اور عماد الدین زنگی کو بصرہ کی حکومت سے بلا کر بغداد کی شحنگی پر مامور کیا۔ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ دیبس اور طغرل دونوں سنجر کے پاس خراسان پہنچ گئے تھے‘ انہوں نے سنجر کو خلیفہ مسترشد باللہ اور سلطان محمود کی طرف سے بر افروختہ و بدگمان کرنے کی کوشش کی‘ آخر سلطان سنجر خراسان سے فوجیں لے کر رے کی جانب روانہ ہوا‘ رے پہنچ کر سلطان محمود کو ہمدان سے اپنے پاس ملاقات کے لیے بلوایا۔ مدعا اس طلبی سے یہ تھا کہ اگر سلطان محمود مخالف نہیں ہوا ہے تو چلا آئے گا ورنہ انکار کرے گا‘ چنانچہ سلطان محمود اپنے چچا سنجر کے پاس بلا توقف چلا گیا‘ سنجر نے بڑی عزت کا برتائو کیا اور دیبس کی سفارش کر کے محمود کے ساتھ کر دیا‘ محمود دیبس کو ہمراہ لے کر ہمدان واپس آیا اور ۹ محرم ۵۲۲ھ کو معہ دیبس بغداد میں داخل ہوا‘ دربار خلافت میں دیبس کو پیش کر کے عفو تقصیر کی سفارش کی‘ خلیفہ نے دیبس کی خطا معاف کر دی‘ سلطان محمود نے بغداد کی شحنگی پر بہروز کو مامور کیا اور عماد الدین زنگی کو موصل کی گورنری پر مامور کر کے بھیج دیا۔ جمادی الثانی ۵۲۳ھ میں سلطان محمود بغداد سے ہمدان کی جانب روانہ ہوا‘ دیبس کو موقعہ مل گیا اس نے بغداد سے روانہ ہو کر حلہ پر قبضہ کر لیا اور خلیفہ کی مخالفت و بغاوت کا علم بلند کیا‘ خلیفہ نے اس کے مقابلہ کو فوج روانہ کی‘ ابھی مقابلہ جاری تھا کہ ذیقعدہ ۵۲۳ھ کو سلطان محمود بھی دیبس کی سرکشی کا حال سن کر بغداد پہنچ گیا‘ دیبس حلہ چھوڑ کر بصرہ کی طرف روانہ ہوا‘ بصرہ کو خوب لوٹ کر پہاڑوں میں جا چھپا‘ اور سلطان محمود ہمدان واپس چلا گیا۔ ۵۲۵ھ میں شوال کے مہینے میں سلطان نے انتقال کیا‘ اس کی جگہ اس کا بیٹا دائود تخت نشین ہوا‘ بلاد جبل و آذربائیجان میں اس کے نام کا خطبہ پڑھا گیا۔ ماہ ذیقعدہ ۵۲۵ھ میں دائود نے ہمدان سے زنجان کی جانب کوچ کیا‘ اسی اثناء میں خبر سنی کہ سلطان مسعود نے جرجان سے آ کر تبریز پر قبضہ کر لیا ہے‘ دائود نے فوراً تبریز کی جانب کوچ کیا اور محرم ۵۲۶ھ میں تبریز کا محاصرہ کر لیا‘ چچا بھتیجے میں لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا‘ آخر دونوں میں مصالحت ہو گئی‘ دائود تبریز سے ہمدان چلا آیا۔ مسعود نے تبریز سے نکل کر لشکر فراہم کرنا شروع کیا اور جب عظیم الشان لشکر فراہم ہو گیا تو خلیفہ مستر شد کے پاس بغداد میں پیغام بھیجا کہ میرے نام کا خطبہ پڑھوایا جائے‘ خلیفہ نے جواب دیا کہ فی الحال خطبہ میں سلطان سنجر کا نام لیا جاتا ہے‘ تمہارا اور دائود دونوں کا نام فی الحال نہیں لیا جائے گا۔ اسی عرصہ میں سلجوق شاہ ابن سلطان محمد نے فوج فراہم کر کے بغداد میں آ کر قیام کیا‘ خلیفہ نے اس کے ساتھ عزت کا برتائو کیا۔ ادھر سلطان مسعود نے عمادالدین زنگی والی موصل کو اپنا ہمدرد و معاون بنا کر اس سے مدد طلب کی‘ عمادالدین زنگی سلطان مسعود کے پاس پہنچا‘ سلطان مسعود اور عمادالدین زنگی دونوں بغداد کی طرف روانہ ہوئے اور مقام عباسیہ میں قیام کیا‘ سلجوق شاہ نے مقابلہ کی تیاری کی اور قراجا ساقی کو مقابلہ پر روانہ کیا‘ ادھر سے عمادالدین زنگی مقابلہ پر آیا‘ ایک خونریز جنگ کے بعد زنگی کے لشکر کو شکست ہوئی‘ عمادالدین زنگی شکست کھا کر تکریت کی طرف گیا‘ تکریت میں ان دنوں نجم الدین ایوب (پدر سلطان صلاح الدین) حاکم تھا‘ اس نے عمادالدین زنگی کے اترنے کو کشتیاں بھی فراہم کر دیں اور پل بھی بندھوا دیا‘ زنگی نے دریا کو عبور کر کے موصل کا راستہ لیا۔ سلطان مسعود نے خط و کتابت شروع کر کے سلجوق شاہ اور خلیفہ کو اس بات پر رضا مند کر لیا کہ عراق کی حکومت سلطان مسعود کے قبضہ میں رہے اور عراق کی حکومت و سلطنت کے علاوہ خطبہ میں سلطان مسعود کے بعد سلجوق شاہ کا نام لیا جائے۔ اس قرار داد کے موافق سلطان مسعود جمادی الاولیٰ ۵۲۶ھ میں داخل بغداد ہوا اور صلح نامہ لکھا گیا‘ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ سلطان طغرل اپنے چچا سلطان سنجر کے ہمراہ ہے‘ دیبس جو پہاڑوں میں جا چھپا تھا وہ بھی سلطان سنجر کے پاس پہنچ گیا‘ اب ان حالات سے مطلع ہو کر سلطان سنجر معہ طغرل و دیبس رے کی طرف بڑھا‘ وہاں سے ہمدان کی طرف چلا‘ ادھر سے مسعود شاہ اور سلجوق شاہ مع قراجا ساقی سنجر کی روک تھام کے لیے بغداد سے روانہ ہوئے‘ سنجر نے استر آباد سے آگے بڑھ کر مسعود و سلجوق شاہ کا مقابلہ کیا اور دیبس نے بغداد پر حملہ آور ہونے کے لیے کوچ کیا‘ ادھر مسعود و سلجوق دونوں بھائیوں کو سنجر کے مقابلہ میں شکست ہوئی‘ ادھر خلیفہ نے خود بغداد سے نکل کر دیبس کا مقابلہ کیا اور اس کو شکست دے کر بھگا دیا۔ سلطان سنجر نے مسعود و سلجوق کی خطا معاف کر دی اور ان کو اپنے پاس بلا کر عزت و احترام سے رکھا اور اپنے بھتیجے طغرل کو عراق کی حکومت سپرد کی اور اس کے نام کا خطبہ جاری کیا‘ اسی اثناء میں یعنی ذی الحجہ ۵۲۷ھ میں خبر پہنچی کہ والی ماوراء النہر نے علم بغاوت بلند کر کے فوجی تیاریاں شروع کر دی ہیں‘ ملک سنجر کو فوراً خراسان کی طرف روانہ ہونا پڑا۔ اس زمانے میں سلطان دائود بن محمود بلاد آذربائیجان کی طرف تھا‘ وہ فوجیں فراہم کر کے ہمدان کی طرف بڑھا‘ ادھر سے طغرل مقابلہ پر پہنچا‘ دائود کو شکست ہوئی اور وہ شکست کھا کر بغداد کی طرف گیا‘ سلطان مسعود بھی سلطان سنجر سے رخصت ہو کر بغداد کو آیا‘ دائود مسعود دونوں نے مل کر خلیفہ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم کو صوبہ آذربائیجان پر قبضہ کر لینے کی اجازت ہو‘ اجازت ہوئی اور دونوں نے ملک طغرل کے اہل کاروں کو نکال کر آذربائیجان پر قبضہ کر لیا‘ طغرل مقابلہ پر آیا مگر شکست کھا کر بھاگا‘ سلطان مسعود نے ہمدان پر قبضہ کر لیا‘ اور سلطان دائود آذربائیجان پر متصرف رہا۔ سلطان مسعود کو ہمدان میں معلوم ہوا کہ سلطان دائود نے آذربائیجان میں خود مختاری و سرکشی کا اعلان کر دیا ہے‘ اس لیے وہ آذربائیجان کی طرف روانہ ہوا‘ ملک طغرل نے موقعہ پا کر فوجیں فراہم کیں اور بلاد جبل کو فتح کرنا شروع کیا‘ سلطان مسعود مقابلہ پر آیا‘ طغرل نے مسعود کو ماہ رمضان ۵۲۸ھ میں شکست دے کر بھگا دیا‘ سلطان مسعود شکست کھا کر بغداد آیا اور طغرل ہمدان میں آ کر مقیم ہوا۔ غرض سلجوقیوں کی آپس کی خانہ جنگیوں کا قصہ بہت طویل اور بے مزہ ہے‘ سلطان طغرل فوت ہوا اور سلطان مسعود عراق پر قابض و متصرف ہوا‘ خلیفہ مستر شد اور سلطان مسعود کی ان بن ہو گئی‘ خلیفہ مقابلہ کے لیے نکلا‘ دونوں فوجوں نے خوب جدال و قتال کیا‘ خلیفہ کے لشکر نے نمک حرامی کی اور خلیفہ کا ساتھ چھوڑ دیا‘ خلیفہ نے شکست کھائی اور ہمدان کے ایک قلعہ میں قید کر دیا گیا‘ یہ خبر بغداد میں پہنچی تو اہل بغداد میں ماتم برپا ہو گیا۔ انھیں ایام میں متواتر عراق و خراسان میں زلزلے کئی روز تک آتے رہے‘ سلطان سنجر نے اپنے بھتیجے سلطان مسعود کو لکھا کہ تم خود خلیفہ کے پاس جائو اور معافی مانگو یہ زلزلوں کا آنا اور لوگوں کا مسجدوں میں نمازوں کے لیے نہ آنا کوئی معمولی بات نہیں ہے‘ امیرالمومنین کو نہ نہایت عزت و حرمت کے ساتھ دارالخلافہ بغداد پہنچائو‘ سلطان مسعود نے سلطان سنجر کے حکم کی تعمیل کی اور خلیفہ کی خدمت میں خود حاضر ہوا۔ جو لشکر سلطان مسعود کے ساتھ تھا اس میں سترہ آدمی قرامطہ یا باطنی فرقہ کے بھی شامل ہو گئے تھے‘ جن کی سلطان مسعود کو خبر نہ تھی‘ ان باطنیوں نے خلیفہ کے خیمے کے قریب پہنچ کر خلیفہ پر حملہ کیا اور قتل کر ڈالا‘ خلیفہ کے اس طرح قتل ہونے کا حال جب یکایک لوگوں کو معلوم ہوا تو باطنیوں کو گرفتار کیا اور وہ سب کے سب قتل کئے گئے‘ سلطان مسعود کو سخت صدمہ ہوا۔ یہ واقعہ ۱۶ ذیقعدہ ۵۲۹ھ بروز پنجشنبہ وقوع پذیر ہوا‘ یہ خبر جب بغداد میں پہنچی تو اور بھی حشر برپا ہو گیا اور شہر میں بڑا کہرام مچا اور خلیفہ مستر شد کا بیٹا ابو جعفر منصور تخت خلافت پر بیٹھا اور اس نے اپنا لقب راشد باللہ مقرر کیا۔ راشد باللہ راشد باللہ بن مستر شد باللہ ۵۰۰ھ میں ایک ام ولد کے بطن سے پیدا ہوا‘ جب وہ پیدا ہوا تو اس کے پاخانہ کی جگہ نہ تھی‘ طبیبوں نے ایک چاندی کے نشتر سے شگاف دے دیا اور وہ اچھا ہو گیا‘ راشد باللہ بغداد میں تخت نشین ہوا ہے تو سلطان مسعود موجود نہ تھا‘ راشد باللہ کے نام کا خطبہ شہروں میں پڑھا گیا‘ راشد باللہ نے تخت نشین ہونے کے بعد لوگوں سے مال و دولت کے لینے میں کسی قدر ظلم و زیادتی سے کام لیا‘ سلطان مسعود کو لوگوں نے شکایات لکھ کر بھیجیں‘ سلطان مسعود بغداد کی طرف روانہ ہوا‘ سلطان مسعود کے بغداد کی طرف آنے کی خبر سن کر راشد باللہ موصل کی طرف چلا گیا‘ سلطان مسعود نے بغداد میں داخل ہو کر ایک محضر تیار کرایا‘ اس میں بہت سے لوگوں کی شہادت قلم بند کی گئی‘ جنھوں نے بیان کیا تھا کہ راشد نے فلاں فلاں اشخاص پر ظلم کیا‘ زبردستی مال چھینا‘ خوں ریزی کی اور شراب بھی پی‘ یہ محضر فقہاء و قضاۃ کی خدمت میں پیش کر کے استفتاء کیا گیا کہ خلیفہ اگر ایسی حرکات کا مرتکب ہو تو نائب السلطنت کو اس کی معزولی کا اختیار ہے یا نہیں؟ اس پر قاضی شہر نے فتویٰ لکھ دیا کہ نائب السلطنت ایسے خلیفہ کو معزول کر سکتا ہے‘ چنانچہ سلطان مسعود نے راشد باللہ کے چچا محمد بن مستظہر کو تخت خلافت پر بٹھا کر بیعت کر لی اور راشد کی معزولی کا اعلان کر دیا‘ یہ واقعہ ۱۶ ذیقعدہ کا ہے‘ راشد کی خلافت ایک سال رہی‘ محمد بن مستظہر نے تخت خلافت پر بیٹھ کر اپنا لقب مکتفی لامراللہ تجویز کیا۔ راشد کو جب اپنے معزول ہونے کا حال معلوم ہوا تو وہ موصل سے بلاد آذربائیجان کی طرف چلا گیا اور اپنے لشکریوں کو مال و دولت تقسیم کیا‘ آذربائیجان کے شہروں کو لوٹ مار سے برباد کیا‘ وہاں سے ہمدان آیا‘ یہاں بھی خوب فتنہ و فساد برپا کیا‘ لوگوں کو پکڑ کر سولی چڑھایا‘ قتل کیا‘ علماء کی داڑھیاں منڈوائیں‘۱؎ پھر اصفہان پہنچ کر اس کا محاصرہ کیا‘ اسی اثناء میں بیمار پڑا اور ۱۶ رمضان ۵۳۲ھ کو بعض عجمیوں نے آ کر چھریوں سے اسے قتل کر ڈالا۔ بغداد میں راشد کے قتل ہونے کی خبر پہنچی تو اس کے ماتم میں ایک دن کے لیے دفاتر بند کئے گئے‘ چادر اور عصا مرتے وقت راشد کے پاس تھے اس کے قتل ہونے پر یہ دونوں چیزیں مقتفی کے پاس بغداد پہنچائی گئی تھیں۔