قائم بامر اللہ
ملک الرحیم کی حکومت
ملک الرحیم کی حکومت
’’ملک الرحیم‘‘ نے بغداد و عراق میں حکومت شروع کی اور اس کے دوسرے بھائی نے شیراز پر قبضہ کیا‘ اسی سال اہل بغداد میں سخت فساد برپا ہوا‘ بنائے فساد وہی شیعہ سنی کا جھگڑا تھا‘ اس کے بعد ملک الرحیم نے اپنے بھائی ابو منصور خسرو پر جس نے شیراز پر قبضہ کر لیا تھا چڑھائی کی‘ لڑائیاں ہوئیں‘ اس کے بعد ملک الرحیم کے دوسرے بھائیوں اور رشتہ داروں نے عراق میں علم بغاوت بلند کیے‘ ۴۴۲ھ میں شیعیوں سنیوں کے درمیان بغداد میں فساد ہوا اور سینکڑوں آدمی طرفین سے مارے گئے۔
اسی سال سلطان طغرل بیگ نے اصفہان پر قبضہ کر لیا اور اپنے بھائی ارسلان بن دائود کو بلاد فارس کی جانب روانہ کیا۔ ارسلان بن دائود نے ۴۴۲ھ میں صوبہ فارس پر قبضہ کر لیا‘ خلیفہ قائم بامر اللہ نے سلطان طغرل بیگ کے پاس ان تمام صوبوں کی سند حکومت بھیج دی جو اس نے فتح کر لیے تھے‘ ۴۴۳ھ میں عید کے موقعہ پر سلطان طغرل بیگ بغداد میں آیا اور خلیفہ کی دست بوسی کا شرف حاصل کیا اور خلعت و اعزاز سے مشرف ہو کر واپس چلا گیا۔
۴۴۵ھ میں بغداد کے اندر شیعہ سنیوں میں ایک بڑا فساد برپا ہوا‘ بغداد کے کئی محلے اس فساد میں جل کر خاک سیاہ ہو گئے‘ خلیفہ قائم بامر اللہ نے اس فساد کو بہ مشکل فرو کیا‘ ملک الرحیم شیراز اور بصرہ وغیرہ میں اپنے بھائی بھتیجوں سے مصروف جنگ رہا یہاں تک کہ ۴۴۷ھ کا زمانہ آ گیا۔
اس عرصہ میں سلطان طغرل بیگ نے آذربائیجان و جزیرہ پر قبضہ کیا‘ رومیوں پر جہاد کیا‘ وہاں سے بے قیاس مال و دولت حاصل کرنے کے بعد خراسان و فارس کے قبضے کو مکمل کر کے موصل و شام پر قبضہ کیا‘ حج ادا کرنے کے لیے بیت اللہ شریف گیا‘ وہاں سے واپس ہو کر رے و خراسان کے انتظام و اہتمام کی طرف متوجہ ہوا‘ بغداد اور اس کے نواح میں اوباشوں اور بدمعاشوں نے بڑی بد امنی برپا رکھی تھی‘ ۴۴۷ھ میں طغرل بیگ نے خلیفہ قائم بامر اللہ کی خدمت میں اطاعت و عقیدت کا ایک خط بھیجا‘ اسی زمانہ میں ملک عبدالرحیم بصرہ سے بغداد آیا اور خلیفہ کو مشورہ دیا کہ طغرل بیگ سے مراسم اتحاد کا قائم رکھنا ضروری ہے‘ خلیفہ نے ماہ رمضان المبارک ۴۴۷ھ میں حکم دیا کہ سلطان طغرل بیگ کا نام خطبوں میں لیا جائے۔ سلطان طغرل بیگ یہ سن کر خوش ہوا اور خلیفہ سے حاضری کی اجازت طلب کی‘ خلیفہ نے اجازت دی اور سرداران لشکر بغداد نے سلطان طغرل بیگ کے پاس اپنی اطاعت و فرماں برداری کے اظہار میں عریضے روانہ کیے‘ ۲۵ رمضان ۴۴۷ھ کو بغداد میں سلطان طغرل بیگ کے استقبال کا اہتمام کیا گیا۔
بساسیری چونکہ شیعہ تھا اور حاکم مصر عبیدی سے سازش رکھتا تھا‘ اس نے بغداد میں فساد برپا کرا دیا‘ طغرل بیگ نے وارد بغداد ہو کر ہر طرح کا انتظام کیا‘ دیلمیوں کے زور قوت کو توڑا‘ ۴۴۸ھ کے شروع ہونے پر سلطان طغرل بیگ نے اپنی بھتیجی خدیجہ المخاطب بہ ارسلان خاتون بنت دائود کا نکاح خلیفہ قائم بامر اللہ سے کر کے خاندان خلافت سے رشتہ داری قائم کی‘ آخر شوال ۴۴۸ھ کو سلطان طغرل بیگ کے چچا زاد بھائی قطلمش نے بساسیری سے مقام سنجار کے قریب لڑائی کی‘ قطلمش کو ہزیمت ہوئی۔
بساسیری نے صوبہ موصل پر قبضہ کر کے مستنصر عبیدی حاکم مصر کے نام کا خطبہ جاری کیا اور صوبہ جزیرہ کا والی بھی باغی ہو گیا‘ سلطان طغرل بیگ نے موصل پر چڑھائی کی اور اس کو فتح کر کے باغیوں کو قرار واقعی سزا دے کر ۴۴۹ھ کے شروع ہونے پر بغداد کی جانب لوٹا‘ خلیفہ نے بڑی عزت و تکریم کی‘ ایک دربار منعقد کیا گیا‘ خلیفہ نے طغرل بیگ کو ’’ملک المشرق و المغرب‘‘ کا خطاب دے کر تمام ملکوں کی حکومت و انتظام کی سند عطا کی۔
اس عرصہ میں بساسیری اور والی مصر عبیدی نے سلطان طغرل بیگ کے بھائی ابراہیم کو بہکا کر ہمدان میں بغاوت کرا دی‘ سلطان طغرل بیگ ہمدان کی بغاوت فرو کرنے کے لیے بغداد سے روانہ ہوا‘ بساسیری نے اس موقعہ کو غینمت سمجھ کر بغداد پر قبضہ کر لیا اور جامع بغداد میں مستنصر عبیدی کے نام کا خطبہ پڑھوایا‘ یہ واقعہ ذیقعدہ ۴۵۰ھ کا ہے‘ بغداد کے شیعوں نے بساسیری کی ہر طرح مدد کی‘ بساسیری نے بغداد کے اندر اذانوں میں ’’حی علی خیر العمل‘‘ ۱؎کا اضافہ کرایا‘ بساسیری کے مظالم سے تنگ آ کر
۱؎اہل سنت کے مطابق قرآن و حدیث سے اذان میں اس جملہ کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
بغداد کے سنیوں نے بغاوت کی‘ مگر بساسیری کی فوج سے شکست کھا کر مقتول ہوئے‘ بساسیری نے خلیفہ کے وزیراعظم معروف بہ رئیس الرئوساء کو پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا‘ یہ واقعہ آخر ذی الحجہ ۴۵۰ھ کو وقوع پذیر ہوا۔
بساسیری نے مستنصر عبیدی کے پاس مصر میں بشارت نامہ روانہ کیا اور امداد طلب کی‘ مگر مصر سے کوئی امداد اس کو نہ پہنچی۔
ادھر بساسیری کے پاس خبر پہنچی کہ سلطان طغرل بیگ کو اپنے بھائی ابراہیم کے مقابلے میں فتح حاصل ہو چکی ہے‘ خلیفہ قائم بامر اللہ اور اس کی بیوی ارسلان خاتون کو گرفتار کر کے بغداد سے باہر کسی مقام پر نظر بند کر دیا اور قصر خلافت کو لٹوا دیا گیا‘ طغرل بیگ یہ تمام خبریں سن کر بغداد کی طرف متوجہ ہوا۔
بساسیری یہ خبر سن کر ۶ ذیقعدہ ۴۵۱ھ کو پورے ایک سال کے بعد بغداد سے چل دیا‘ طغرل بیگ بغداد میں داخل ہوا‘ خلیفہ کو بغداد میں بلوایا اور تخت خلافت پر بٹھا کر معذرت کی کہ میری غیر حاضری کی وجہ سے آپ کو اس قدر اذیت پہنچی‘ اس عرصہ میں دائود برادر طغرل بیگ کا خراسان میں انتقال ہو گیا تھا‘ ۲۵ ذیقعدہ ۴۵۱ھ کو خلیفہ قائم بامر اللہ بغداد میں داخل ہوا۔