قادر باللہ !

مشرف الدولہ کی حکومت

مشرف الدولہ کی حکومت و امارت کو جب سب دیلمی سرداروں نے جو عراق میں موجود تھے منظور کر لیا تو سلطان الدولہ نے اپنے بیٹے ابو کالیجار کو فوج دے کر روانہ کیا‘ ابو کالیجار نے اہواز پر قبضہ کر لیا‘ چند معرکہ آرائیوں کے بعد ۴۱۲ھ میں یہ فیصلہ ہوا کہ عراق پر مشرف الدولہ کی حکومت رہے اور فارس سلطان الدولہ کے قبضے میں رہے‘ ۴۱۴ھ میں کوفہ کے اندر شیعوں اور سنیوں میں سخت فساد ہوا اور اس فساد کے شعلے بغداد تک بھی پہنچے اور یہاں بھی فساد برپا ہو گیا۔ دیلمی جو قابو یافتہ تھے شیعہ تھے‘ خلیفہ جو کوئی طاقت نہ رکھتا تھا سنی تھا‘ ترکوں کی آبادی بغداد و سامرا میں کافی تھی‘ ترک بھی سب سنی تھے اور اسی بنا پر خلیفہ کے احکام کی تعمیل ضروری سمجھتے تھے‘ خلیفہ قادر نے ان تمام حالات پر خوب غور کر کے سنیوں کی حمایت اور امداد میں کئی مرتبہ جرئات سے کام لیا اور شیعوں کو ان کی ناشدنی حرکات سے روکا‘ اس طرح ترکوں اور بغداد کے سینوں کی ایک معقول تعداد خلیفہ قادر باللہ کی حامی تھی اور یہی وجہ تھی کہ خلیفہ قادر باللہ نے کچھ نہ کچھ رعب و وقار حاصل کیا‘ ماہ ربیع الاول ۴۱۶ھ میں مشرف الدولہ نے اپنی حکومت کے پانچویں سال وفات پائی اور اس کی جگہ اس کا بھائی ابو طاہر جلال الدولہ والی بصرہ مسند نشین ہوا۔