مستکفی باللہ
مستکفی باللہ
ابو القاسم عبداللہ مستکفی باللہ ایک ام ولد موسومہ املح الناس کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ صفر ۳۳۳ھ کو بعمر اکتالیس سال تخت نشین ہوا‘ ابو القاسم فضل بن مقتدر باللہ بھی دعویدار خلافت تھا‘ وہ روپوش ہو گیا‘ مستکفی نے اس کو بہت تلاش کرایا مگر وہ ہاتھ نہ آیا اور مستکفی کے عہد میں روپوش ہی رہا‘ مستکفی جب اس کی جستجو میں کامیاب نہ ہوا تو اس کا مکان منہدم کرا دیا۔
خلیفہ مستکفی کے تخت نشین ہوتے ہی توزون فوت ہو گیا‘ مستکفی نے ابو جعفر ابن شیرزاد کو امیر الامراء کا خطاب دیا‘ ابن شیرزاد نے تمام انتظامات و اختیارات اپنے ہاتھ میں لے کر بے دریغ روپیہ خرچ کرنا شروع کیا۔ خزانہ خالی ہو گیا‘ تمام انتظام درہم برہم ہو گیا چند ہی روز کے بعد بغداد میں چوریوں اور ڈاکہ زینوں کی کثرت نے یہاں تک نوبت پہنچا دی کہ لوگ شہر چھوڑ چھوڑ کر جلا وطنی اختیار کرنے لگے۔
انتباہ !
سلطنت اسلامیہ کا رقبہ اور وسعت مملکت عہد بنو امیہ تک برابر ترقی پذیر رہا‘ حکومت اسلامیہ کا ایک ہی مرکز تھا اور دمشق کے دربار خلافت سے جو حکم جاری رہتا تھا اس کی تعمیل اندلس اور مراکش کے مغربی ساحل سے چین و ترکستان تک یکساں ہوتی تھی‘ خلافت اسلامیہ جب بنو عباس کے قبضہ میں آئی تو چند ہی روز کے بعد اندلس میں بنو امیہ کی ایک خود مختار سلطنت الگ قائم ہو گئی اور مسلمانوں کی سلطنت کے بجائے ایک کے دو مرکز ہو گئے۔ پھر چند روز کے بعد مراکش میں ایک تیسرا مرکز حکومت قائم ہوا‘ اس کے بعد افریقہ و مصر میں ایک اور حکومت قائم ہوئی۔ اب جس زمانہ کے حالات بیان ہو رہے ہیں یہ وہ زمانہ ہے کہ خلیفہ بغداد کی حکومت شہر بغداد میں بھی باقی نہیں رہی ہے‘ چند روز پہلے دجلہ و فرات کا دوآبہ خلیفہ کی حکومت میں شامل تھا‘ لیکن جب سے امیر الامراء کا عہدہ ایجاد ہوا‘ اس وقت سے اس دوآبہ کی حکومت امیر الامراء کے ہاتھ میں ہوتی تھی اور برائے نام وہ اپنے آپ کو خلیفہ کا محکوم اور نائب کہتا تھا۔
خاص شہر بغداد میں خلیفہ کے احکام کی قدر و منزلت تھی اور بغداد میں وہ سب سے بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی‘ ہر ایک وہ شخص جو دوسروں کو مغلوب کر کے اپنی طاقت کا اظہار کر سکتا تھا‘ اپنے قوت بازو سے امیر الامراء بن سکتا اور خلیفہ کو مجبوراً اسے امیر الامراء کا خطاب دینا پڑتا تھا‘ خلیفہ کے ہاتھ میں طاقت اگرچہ کچھ نہ تھی مگر پھر بھی اس کو تھوڑی بہت آزادی ضروری حاصل تھی اور ایک قسم کا رعب و جلال بھی باقی تھا۔
لیکن اب معز الدولہ احمد بن بویہ ماہی گیر اہواز سے آ کر بغداد اور خلیفہ پر مسلط ہوتا ہے‘ اس کو ملک کا خطاب ملتا ہے‘ اور اس کے بعد سے یکے بعد دیگرے ملوک ہوتے ہیں‘ معز الدولہ نے خلیفہ کو نظر بند کر کے ایک معزز قیدی کی حیثیت سے رکھا اور شہر بغداد میں جو اثر اقتدار خلیفہ کو حاصل تھا وہ بھی چھین لیا۔ خلیفہ کا کام صرف یہ رہ گیا تھا کہ جب کوئی سفیر باہر سے آئے تو وہ خلیفہ کے دربار میں حاضر کیا جائے اور اس مصنوعی دربار میں خلیفہ کی پر شوکت نمائش کر کے حسب منشاء اس سے کام لیا جائے‘ کسی شخص کو خطاب دینا‘ کسی کو کوئی سند عطا فرمانا یہ سب خلیفہ کے ہاتھ سے ہوتا تھا‘ لیکن خلیفہ کے اختیار سے نہیں ہوتا تھا‘ اختیار ہر ایک کام میں ملک ہی کا ہوتا تھا۔
خلیفہ کی حیثیت شاہ شطرنج سے زیادہ نہ تھی‘ ملک خلیفہ کی ایک تنخواہ مقرر کر دیتا تھا‘ یہ تنخواہ جب خلیفہ کو دیر سے ملتی تھی یا نہیں ملتی تھی تو اسے مجبوراً اپنا سامان فروخت کر کے اپنی گذر کرنی پڑتی تھیں‘ پس جب کہ خلفاء عباسیہ کی یہ حالت ہو چکی ہے تو اب ظاہر ہے کہ حکومت و سلطنت کی تاریخ لکھنے والے کے لیے ان کا تذکرہ غیر ضروری ہو چکا ہے‘ کیونکہ سوائے صرف لفظ خلیفہ کے اور کوئی چیز باقی نہیں رہی‘ مگر چونکہ ہم کو حکومت اسلامیہ کی تاریخ پوری کرنی ہے اور اس میں ان حکمرانوں کا حال بیان ہونا ضروری ہے‘ جنہوں نے بغداد میں ملک کے نام سے نہ صرف بغداد بلکہ دوآبہ فرات و دجلہ اور دوسرے صوبوں پر بھی حکومت کی ہے لہٰذا ان ملکوں کے حالات بیان کرنے میں ہم کو ابھی تھوڑی دور تک اور انہیں خلفائے عباسیہ کے سہارے سے چلنا چاہیئے‘ جو اگرچہ شاہ شطرنج سے زیادہ مرتبہ نہیں رکھتے مگر خلیفہ ضرور کہلاتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ اب ہم خلفائے عباسیہ کے حالات مطالعہ نہیں کر رہے ہیں‘ بلکہ حکومت بغداد کے حالات مطالعہ کر رہے تھے۔ ساتھ ہی اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے کہ اگرچہ جابجا صوبوں میں الگ الگ خود مختار حکومتیں اور سلطنتیں قائم ہو چکی ہیں‘ مگر خلیفہ کے نام کی تکریم سب بجا لاتے اور خطبوں میں اس کا نام ضرور لیتے تھے۔
اندلس میں بجائے خود خلافت قائم تھی اور عبیدیین جو شیعہ بلکہ قرامطہ تھے خلافت و امارت کے مدعی تھے‘ اس لیے اندلس و افریقہ میں خلیفہ بغداد کا نام خطبوں میں نہیں لیا جاتا تھا‘ مگر باقی تمام ممالک اسلامیہ میں بغداد کے عباسی خلیفہ کو سب خلیفہ مانتے اور اپنا مذہبی پیشوا جانتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی ایسا ضرور ہوا ہے کہ خاص بغداد میں کسی ملک نے خلیفہ کا نام خطبہ سے خارج کر دیا اور صرف اپنے نام کا خطبہ پڑھوایا‘ مگر دوسرے ملکوں میں خلیفہ کا نام خطبوں میں ضرور شامل رہا۔