مکتفی باللہ

بنی حمدان

۲۹۲ھ میں خلیفہ مکتفی نے ابو الٰہیجا‘ عبداللہ بن حمدان بن حمدون عدوی تغلبی کو صوبہ موصل کی گورنری عطا کی‘ یکم محرم ۲۹۳ھ کو وہ وارد موصل ہوا‘ اس کے موصل پہنچتے ہی کردوں نے علم بغاوت بلند کیا‘ ابو الٰہیجا مصر سے فوج لے کر کردوں کے مقابلہ کو نکلا مگر شکست کھائی‘ موصل میں آ کر خلیفہ سے مدد طلب کی‘ یہاں سے فوج گئی اور ماہ ربیع الاول ۲۹۴ھ میں ابو الٰہیجا نے کردوں پر فوج کشی کی‘ وہ خوف زدہ ہو کر کوہ سلیق میں جا کر پناہ گزین ہوئے‘ بہت دنوں تک محاصرہ اور لڑائی کا سلسلہ جاری رہا‘ آخر کردوں کے سردار محمد بن بلال نے امن کی درخواست کی جو قبول ہوئی‘ ابوالٰہیجا کا تمام صوبہ میں سکہ بیٹھ گیا اور تمام کرد مطیع و منقاد ہو گئے‘ ۳۰۱ھ میں ابو الٰہیجا نے خلیفہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا خلیفہ مقتدر نے مونس نامی اپنے خادم کو بھیجا‘ وہ ابو الٰہیجا کو گرفتار کر کے بغداد لایا اس کا قصور معاف ہوا اور بغداد میں رہنے لگا‘ ابو الٰہیجا کے بھائی حسین و ابو الٰہیجا دونوں بھائیوں کو معہ دوسرے رشتہ داروں کے جیل خانہ میں قید کر دیا گیا جو ۳۰۵ھ میں رہا ہوئے۔