معتضد باللہ

معتضد باللہ

معتضد باللہ بن موفق باللہ بن متوکل علی اللہ بن معتصم باللہ بن ہارون الرشید کا اصل نام احمد اور کنیت ابو العباس تھی‘ ربیع الاول ۲۴۳ھ میں صوآب نامی ام ولد کے پیٹ سے پیدا ہوا اور اپنے چچا معتمد باللہ کے بعد ماہ رجب ۲۷۹ھ میں تخت نشین ہوا‘ خوب صورت بہادر اور عقل مند شخص تھا‘ سخت گیری اور خوں ریزی سے بھی اگر ضرورت ہوتی تھی تو در گذر نہیں کرتا تھا‘ باہیبت اور معاملہ فہم تھا‘ منجموں اور افسانہ گو لوگوں کا دشمن تھا‘ مامون کے زمانہ سے فلسفہ کا بہت چرچا ہو گیا تھا‘ معتضد نے فلسفہ اور مناظرہ کی کتابوں کی اشاعت کو روک دیا‘ تاکہ مذہبی فتنوں اور لڑائی جھگڑوں کا سد باب ہو‘ رعایا کے خراج میں اس نے کمی کر دی تھی‘ عدل کا شائق تھا‘ رعایا پر سے ظلم وستم کو دور کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ مکہ میں دار الندوہ کی عمارت ابھی تک موجود تھی‘ معتضد نے اس کو گرا کر مسجد بیت الحرام کے پاس ایک مسجد بنا دی‘ مجوسی النسل لوگوں کی کثرت نے بغداد میں نو روز۱؎ کے دن عید منانے اور آگ جلانے کی رسم بھی جاری کر دی تھی۔ معتضد نے اس مجوسی رسم کو حکماً بند کر دیا‘ خماریہ بن احمد طولون حاکم مصر کی لڑکی سے اس نے عقد کیا‘ اس نے دفتر میراث قائم کیا اور ذوی الارحام کو بھی میراث میں سے حصہ دلانے کا التزام کیا‘ اس سے لوگوں نے اس کو بہت دعائیں دیں اور اس کی قبولیت رعایا میں بڑھ گئی۔ معتضد نے ایک مرتبہ قاضی ابو حازم کے پاس کہلا بھیجا کہ آپ نے فلاں شخص سے لوگوں کا ۱؎یہ پارسیوں (آتش برستوں یا مجوسیوں) کی قومی عید ہے۔ اسے جشن بزرگ بھی کہتے ہیں۔ وہ اپنے ماہ فرورین کے چھٹے دن یہ تہوار مناتے ہیں۔ پارسی زیادہ تر ایران میں رہتے ہیں۔ دور قدیم سے ایران پارسیوں کی آماج گاہ چلا آ رہا ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت سے سینکڑوں سال پہلے سے ایران پر‘ آتش پرستوں کا غلبہ تھا اور یہ ملک اس وقت دنیا کی ایک بڑی مملکت تھی‘ جو جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں فتح ہوا اور یوں مجوسیوں کا غلبہ ختم ہو گیا بلکہ مجوسی سٹیٹ ختم ہو گئی‘ فللہ الحمد! مال دلوایا ہے‘ میرا بھی کچھ مال اس کے پاس ہے مجھ کو بھی دلوائو‘ قاضی نے جواباً کہلا بھجوایا کہ آپ گواہ پیش کریں تو آپ کو بھی ڈگری دی جائے‘ معتضد کے گواہوں نے قاضی ابو حازم کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا کہ کہیں قاضی ہم کو ناقابل شہادت نہ ٹھہرائے‘ اس لیے معتضد کو اس کا مال نہ ملا۔ معتضد نے خلافت عباسیہ کا بہت نازک اور خراب دور پایا تھا مگر اس نے بہت کوشش کی کہ خلافت عباسیہ کی حالت سقیم درست ہو جائے چنانچہ اس کی وجہ سے کچھ کچھ ترقی کے آثار نمایاں بھی ہوئے مگر اس کے جانشینوں میں یہ قابلیت نہ تھی کہ رفتار ترقی کو قائم رکھ سکتے۔ معتضد کے تخت نشین ہونے کے چند روز بعد ہی نصر بن احمد سامانی فوت ہو گیا تھا‘ اس کی جگہ اس کا بھائی اسماعیل بن احمد سامانی ماوراء النہر کا حکمران ہوا‘ موصل کے علاقے میں خوارج کے دوگروہ آپس میں لڑ رہے تھے‘ ایک گروہ کا سردار ابوجوزہ ۲۸۰ھ میں گرفتار ہو کر بغداد میں آیا۔ معتضد نے اس کو بڑی تکلیفوں سے قتل کرایا‘ دوسرے گروہ کا سردار ہارون شاری بدستور مصروف بغاوت و سرکشی رہا‘ ۲۸۰ھ میں معتضد نے جزیرہ پر خود فوج کشی کی اور قبائل بنی شیبان کو قرار واقعی سزا دے کر اور بہت سا مال غنمیت لے کر بغداد واپس آیا۔ معتضد نے اپنے غلام بدر نامی کو پولیس کی افسری اور عبیداللہ بن سلیمان بن وہب کو قلمدان وزارت عطا کیا‘ ۲۸۱ھ میں حمدان بن حمدون کو جو قلعہ ماردین پر قابض اور ہارون شاری خارجی سے دوستی پیدا کر چکا تھا‘ خلیفہ معتضد نے گرفتار کیا اور قلعہ ماردین کو مسمار کرا کر زمین کے برابر کر دیا۔ ۲۸۱ھ میں خلیفہ معتضد نے اپنے بیٹے علی المعروف بہ مکتفی کورے‘ قزوین‘ زنجان‘ قم‘ جدان کی حکومت پر مامور فرمایا۔ ماہ ربیع الاول ۲۸۳ھ میں خلیفہ معتضد نے اطراف موصل میں پہنچ کر ہارون شاری خارجی کے استیصال کی کوشش میں کامیابی حاصل کی‘ ہارون کو گرفتار کر کے قید کر دیا اور بغداد کی طرف واپس آیا‘ بغداد میں ہارون کو تشہیر کر کے قتل کرا دیا۔ ۲۸۵ھ میں معتضد نے آزربائیجان پر چڑھائی کی قلعہ آمد کو فتح کر کے احمد بن عیسیٰ بن شیخ کو گرفتار کیا اور ماہ ربیع الثانی ۲۸۶ھ میں بغداد واپس آیا … ۲۸۱ھ میں قرامطہ کے معتقدین میں سے ایک شخص یحییٰ بن مہدی نامی نے مقام قطیف من مضافات بحرین میں وارد ہو کر علی بن معلی بن حمدان کے مکان میں قیام کیا اور کہا کہ مجھ کو مہدی امام زمان نے بھیجا ہے اور وہ بھی عن قریب خروج کرنے والے ہیں‘ علی شیعہ تھا‘ اس نے تمام شیعوں کو فراہم کیا اور امام زمان کا خط جو یحییٰ نے پیش کیا تھا پڑھ کر سنایا‘ شیعوں نے نہایت خلوص کے ساتھ بوقت ظہور مہدی خروج کا وعدہ کیا‘ تھوڑے دنوں کے بعد یحییٰ چند روز کو غائب ہو گیا اور پھر آ کر امام زمان کا ایک دوسرا خط پیش کیا جس میں لکھا تھا کہ ہر شخص یحییٰ کو چھتیس چھتیس دینار نذر کرے‘ شیعوں نے اس حکم کی فوراً تعمیل کی‘ چند روز کے بعد یحییٰ پھر آیا اور تیسرا خط لایا جس میں لکھا تھا کہ تم لوگ اپنے مال کا پانچواں حصہ امام زمان کے لیے یحییٰ کے حوالے کرو۔ ۲۸۶ھ میں ابو سعید جنانی نے بحرین میں آ کر مذہب قرامطہ کی لوگوں کو علانیہ دعوت دی‘ اس نواح میں جو لوگ پہلے سے خفیہ طور پر اس مذہب میں شامل ہو چکے تھے‘ وہ اب علانیہ آ آ کر جھنڈے کے نیچے جمع ہونے لگے‘ ابو سعید نے سب کو لے کر مقام قطیف میں قیام کیا اور ساز و سامان سے درست ہو کر بصرہ کا قصد کیا‘ بحرین کے یہ تمام حالات خلیفہ معتضد کو معلوم ہوئے تو اس نے بصرہ کے عامل احمد بن محمد بن یحییٰ واثقی کو لکھا کہ بصرہ کی شہر پناہ تعمیر کرا لو چنانچہ چودہ ہزار دینار کے خرچ سے شہر پناہ تیار ہو گئی۔ جس وقت ابو سعید بصرہ کے قریب پہنچا تو دارالخلافہ بغداد سے عباس بن عمر غنوی دو ہزار سواروں کے ساتھ بصرہ کی حفاظت کے لیے آ پہنچا‘ بصرہ سے باہر ہی عباس اور ابو سعید کی لڑائی ہوئی۔ دو روز کی سخت لڑائی کے بعد ابو سعید نے عباس کو گرفتار کر لیا اور جس قدر آدمی عباس کے ہمراہیوں میں سے گرفتار ہوئے سب کو ابو سعید نے آگ میں ڈال ڈال کر جلا دیا‘ یہ واقعہ ۲۸۷ھ کے مہینہ شعبان کا ہے۔ ابو سعید قرمطی نے اس فتح کے بعد بصرہ کو چھوڑ کر علاقہ ہجر کا قصد کیا‘ اہل ہجر کو امن دے کر ہجر پر قبضہ کر لیا اور پھر بصرہ کی طرف آیا۔ اہل بصرہ پہ بہت خوف طاری ہوا مگر بصرہ کے عامل احمد بن محمد واتشفی نے سب کو تسکین و تشفی دی‘ ابو سعید اس مرتبہ بھی بصرہ کو چھوڑ کر اور عباس کو قید سے آزاد کر کے مضافات بحرین کی طرف چلا گیا۔ ۲۸۸ھ میں ایک شخص ابو القاسم یحییٰ المعروف بہ زکرویہ بن مہرویہ کوفہ میں گیا اور قبیلہ قلیص بن ضمضم بن عدی اس مذہب قرامطہ کی جانب مائل ہو گیا‘ رفتہ رفتہ یہ جمعیت بڑھنے لگی تو شبل نامی ایک سردار نے ان پر حملہ کیا۔ اس لڑائی میں قرامطہ کا ایک سردار ابو الفوارس نامی گرفتار ہوا‘ باقی بھاگ کر دمشق کی جانب چلے گئے‘ ابو الفوارس کو شبل نے خلیفہ معتضد کے پاس بغداد بھیج دیا‘ معتضد نے اس کو قتل کرا دیا‘ قرامطہ نے دمشق میں جا کر لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی‘ اس وقت دمشق کا حاکم طفج تھا اس نے قرامطہ کا مقابلہ کیا کئی مرتبہ لڑائی ہوئی ہر لڑائی میں قرامطہ نے فتح پائی‘ یہ ۲۸۹ھ کا واقعہ ہے‘ یعنی اس زمانہ میں معتضد باللہ کا عہد حکومت ختم ہو جاتا ہے‘ ۔۔۔۔۔۔ قرامطہ کا باقی حال بعد میں ذکر کیا جائے گا۔ ۲۸۶ھ میں خلیفہ معتضد نے اپنے بیٹے علی کو جس کا آئندہ لقب مکتفی ہوا جویرہ اور عواصم کی سند گورنری عطا کی اور حسن بن عمرو نصرانی کو رقہ سے طلب کر کے مکتفی کا میر منشی یا وزیر مقرر کیا۔ ۲۸۸ھ میں طاہر بن محمد بن عمرو بن لیث صفار نے ایک لشکر فراہم کر کے فارس کے صوبہ پر قبضہ کرنا چاہا‘ مگر اسماعیل سامانی نے اس کو ٹوکا کہ اس صوبہ پر اگر تم نے تصرف کا ارادہ کیا تو میں آتا ہوں‘ طاہر تو رک گیا مگر خلیفہ معتضد کے غلام بدر نے جا کر فارس پر قبضہ کر لیا۔ وزیر عبیداللہ بن سلیمان بن وہب کے انتقال پر خلیفہ معتضد نے اس کے بیٹے ابو القاسم کو وزیر اعظم بنایا تھا‘ خلیفہ معتضد کے زمانہ میں رومیوں پر ۲۸۵ھ‘ ۲۸۷ھ‘ ۲۸۸ھ میں مسلمانوں نے چڑھائیاں کیں‘ کبھی رومیوں کا زیادہ نقصان ہوا‘ کبھی مسلمانوں کا۔