معتمد علی اللہ

مکہ و مدینہ کے حالات

مدینہ میں محمد بن حسن بن جعفر بن موسیٰ کاظم اور ان کے بھائی علی بن حسن نے ایک دوسرے کے خلاف رقیبانہ خروج کیا‘ حکومت کا رعب اٹھ چکا تھا‘ ہر جگہ خانہ جنگیوں کا بازار گرم تھا‘ اسی سلسلہ میں مدینہ منورہ کے اندر ان دونوں بھائیوں نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا بہت سے آدمی طرفین سے مقتول ہوئے‘ ایک مہینہ تک ۲۷۷ھ میں مدینہ منورہ کے اندر نماز جمعہ ادا نہیں ہو سکی‘ اسی قسم کی حالت مکہ معظمہ کی بھی تھی‘ مکہ معظمہ میں یوسف بن ابی الساج عامل تھا‘ اس کی جگہ دربار خلافت سے احمد بن محمد طائی کو سند حکومت مل گئی‘ احمد طائی نے اپنی طرف سے اپنے غلام بدر کو امیر حجاج بنا کر بھیج دیا‘ یوسف نے مقابلہ کیا‘ مسجد بیت الحرام کے دروازہ پر جنگ ہوئی‘ یوسف نے بدر کو گرفتار کر لیا‘ بدر کے لشکریوں اور حاجیوں نے مل کر حملہ کیا اور یوسف کو گرفتار کر کے بغداد بھیج دیا اور بدر کو آزاد کرا لیا‘ غرض جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا مضمون تھا۔