معتمد علی اللہ

طبرستان کے حالات‘ (علوی‘ رافع‘ صفار)

اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ اہل دیلم کی امداد و اعانت سے طبرستان میں حسن بن زید علوی کی حکومت قائم ہو چکی تھی‘ ماہ رجب ۲۷۰ھ میں حسن بن زید کا انتقال ہوا‘ اس کے بعد محمد بن زید اس کا بھائی حاکم طبرستان ہوا‘ ۲۷۲ھ میں قزوین کے ایک ترکی عامل نے چار ہزار فوج کے ساتھ طبرستان پر چڑھائی کی‘ محمد بن زید نے آٹھ ہزار فوج لے کر مقابلہ کیا مگر شکست کھائی اور جرجان میں جا کر پناہ گزیں ہوا اور فتح مند فوج کے واپس جانے پر پھر طبرستان پر قبضہ کر لیا۔ ۲۷۵ھ میں رافع بن ہرثمہ نے جرجان پر فوج کشی کی‘ محمد بن زید نے مقابلہ کیا اور ایک طویل مدت کے مقابلہ اور معرکہ آرائی کے بعد ۲۷۷ھ میں طبرستان سے بالکل بے دخل ہو گیا‘ آخر ۲۸۳ھ میں رافع بن ہرثمہ عمرو بن لیث کے مقابلہ میں مقتول ہوا تو محمد بن زید نے پھر طبرستان پر قبضہ کیا‘ مگر عمرو بن لیث صفار نے اس کو طبرستان سے بے دخل کر دیا۔ ۲۸۸ھ میں اسماعیل سامانی نے عمرو بن لیث صفار کو گرفتار کر کے بغداد بھیج دیا تو محمد بن زید نے پھر ویلم سے خروج کیا اور طبرستان پر قبضہ کر لیا‘ اس کے بعد اسمعیٰل سامانی نے محمد بن ہارون کو طبرستان کی طرف روانہ کیا اور محمد بن زید مقابلہ کر کے مارا گیا‘ اس کا بیٹا زید بن محمد بن زید گرفتار ہو کر بخارا کے قید خانہ میں بھیج دیا گیا۔