معتمد علی اللہ
ولی عہدی کی بیعت
ماہ شوال ۲۶۱ھ میں خلیفہ معتمد نے ایک دربار عام کیا اور تمام اراکین دربار کے روبرو اس بات کا اعلان کیا کہ میرے بعد میرا بیٹا جعفر ولی عہد سلطنت ہے اور اس کے بعد میرا بھائی احمد موفق مستحق خلافت ہے۔ لیکن اگر میری وفات تک جعفر بالغ نہ ہو تو پھر موفق ہی تخت خلافت کا مالک ہو گا اور اس کے بعد جعفر مستحق خلافت سمجھا جائے گا۔
چنانچہ اسی قرار داد پر سب سے بیعت لی گئی‘ جعفر کو مفوض الی اللہ کا خطاب دیا گیا اور افریقہ‘ مصر‘ شام‘ جزیرہ موصل‘ ارمینیا کی حکومت اس کو دی گئی‘ موسیٰ بن بغا کو اس کا نائب مقرر کیا گیا اور احمد موفق کو الناصرلدین اللہ الموفق کا خطاب دے کر بلاد شرقیہ‘ بغداد‘ کوفہ‘ طریق‘ مکہ‘ یمن‘ کسکر‘ اہواز‘ فارس‘ اصفہان‘ رے‘ زنجان اور سندھ کی حکومت عطا کی‘ ان دونوں ولی عہدوں کے لیے دو سفید جھنڈے بنائے گئے‘ اس بیعت ولی عہدی کے بعد خلیفہ معتمد نے اپنے بھائی موفق کو زنگیوں کی سرکوبی پر مامور کیا۔