مستعین باللہ
مستعین باللہ
مستعین باللہ بن معتصم باللہ بن ہارون الرشید کا اصل نام احمد اور کنیت ابو العباس تھی‘ خوب صورت گورے رنگ کا آدمی تھا‘ چہرے پر چیچک کے داغ اور توتلا تھا‘ مخارق نامی ام ولد کے پیٹ سے ۲۲۱ھ میں پیدا ہوا تھا‘ جب منتصر فوت ہو گیا تو ارکان سلطنت جمع ہوئے کہ اب کس کو خلیفہ بنایا جائے‘ اولاد متوکل میں معتز اور موید موجود تھے لیکن ترک ان کی جانب سے اندیشہ مند تھے اور ترکوں ہی نے ان کو ولی عہدی سے معزول بھی کرایا تھا‘ لہٰذا معتصم باللہ کے بیٹے احمد کو تخت پر بٹھایا گیا اور مستعین باللہ اس کا خطاب تجویز ہوا۔ مستعین باللہ نہایت نیک فاضل ادیب اور فصیح و بلیغ شخص تھا‘ ۶ ربیع الآخر ۲۴۸ھ کو تخت نشین ہوا۔
جب مستعین باللہ کو تخت نشین کرنے کے لیے قصر خلافت کی طرف چلے تو محمد بن عبداللہ بن طاہر اور اس کے ہمراہ اور عام لوگوں نے شور و غوغا مچا کر خروج کیا اور معتز کی خلافت کا مطالبہ پیش کیا‘ آخر ترکوں نے ان لوگوں کا مقابلہ کیا۔
لڑائی میں بہت سے غوغائی مارے گئے‘ بہت سے ہزیمت خوردہ اپنی جان بچا کر لے گئے‘ ادھر لڑائی ہو رہی تھی‘ ادھر ترک مستعین باللہ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے‘ ہنگامہ فرو ہوا اور انعام اور عہدے تقسیم ہونے لگے‘ محمد بن عبداللہ بن طاہر کے پاس بیعت کے لیے پیغام بھیجا گیا اس نے بھی آ کر بیعت کر لی‘ تکمیل بیعت کے بعد خبر پہنچی کہ طاہر بن عبداللہ بن طاہر گورنر خراسان کا انتقال ہو گیا‘ خلیفہ مستعین باللہ نے محمد بن طاہر بن عبداللہ کو گورنر خراسان مقرر کیا۔
اسی عرصہ میں حسین بن طاہر بن حسین کا بھی انتقال ہو گیا جو خراسان کے مشرقی حصہ کا حکمران تھا‘ اس کی جگہ محمد بن عبداللہ بن طاہر کو مامور کیا‘ اس کے چچا طلحہ کو نیشا پور کی اور اس کے بیٹے منصور کو سرخس اور خوارزم کی حکومت سپرد کی‘ حسن بن عبداللہ کو ہرات کی حکومت عطا کی اور اس کے چچا سلیمان بن عبداللہ کو طبرستان کی اور اس کے چچا زاد بھائی عباس کو جرجان و طالقان کی حکومت پر روانہ کیا۔
۲۴۸ھ میں عبداللہ بن یحییٰ بن خاقان نے ادائے حج کی اجازت چاہی‘ خلیفہ نے اجازت مرحمت فرمائی‘ مگر اس کے روانہ ہونے کے بعد ہی ایک سردار کو عبداللہ بن یحییٰ کے گرفتار و جلا وطن کرنے پر مامور کیا‘ جس نے اس کو گرفتار کر کے رقہ میں جلا وطن کر دیا‘ انہیں ایام میں ترکوں نے معتز و موید کے قتل کرنے کا ارادہ کیا‘ احمد بن خصیب نے ان کو اس فعل نارو اسے منع کیا‘ خلیفہ مستعین نے تخت خلافت پر بیٹھتے ہی ترکوں کے ایک سردار تامش نامی کو وزارت کا عہدہ عطا کیا تھا اور احمد بن خصیب کو نائب وزیر بنایا تھا‘ معتز اور موید کو خلیفہ مستعین نے مقام جوسق میں نظر بند کر دیا‘ چند روز کے بعد احمد بن خصیب کو بھی معزول کر کے نظر بند کر دیا اتامش کو وزارت کے علاوہ مصر و مغرب کی حکومت و نیابت بھی سپرد کی‘ بغا صغیر کو حلوان و ماسبذان کی سند حکومت دی‘ اشناس کو سپہ سالاری اور عمال سلطنت کی ذمہ داری کا کام سپرد ہوا‘ غرض تمام بڑے بڑے عہدے ترکوں کو دئیے گئے۔
۲۴۹ھ میں رومیوں نے ممالک اسلامیہ پر حملہ کیا‘ رومیوں کے مقابلہ میں عمر ابن عبداللہ اور علی بن یحییٰ دو مشہور سردار معہ بہت سے مسلمانوں کے شہید ہوئے‘ ان دونوں سرداروں کی شہادت کا حال سن کر بغداد میں لوگوں کو سخت ملال و افسوس ہوا اور ترکوں کی نسبت شکایات زبانوں پر آنے لگیں‘ کہ انہوں نے طاقت پا کر خلفاء کو قتل اور شرفاء کو ذلیل کرنے کا تو کام کیا لیکن کفار کے مقابلہ میں جہاد کرنے کی طرف سے غفلت برتی‘ اسی لیے دو خادم اسلام سردار شہید ہو گئے اور رومیوں کی جرئات مسلمانوں کے مقابلہ میں بڑھ گئی۔
اس قسم کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ بغداد میں ایک قسم کی شورش سی برپا ہو گئی اور لوگوں نے جہاد کے لیے تیاریاں شروع کر دیں‘ اطراف و جوانب سے بھی مسلمان بعزم جہاد آ آ کر شریک ہونے لگے‘ مسلمان امراء نے روپیہ بھی جمع کر دیا‘ ایک جم غفیر بغداد سے بغرض جہاد نکل کھڑا ہوا‘ مستعین اور اس کے اراکین دولت سامرا میں خاموش بیٹھے رہے اور کوئی دخل نہیں دیا‘ آخر مسلمانوں نے سامرہ پہنچ کر بھی اس قسم کی شورش برپا کر دی اور جیل خانہ توڑ کر قیدیوں کو آزاد کر دیا‘ اس کے بعد ترکی سردار بغا‘ وصیف اور اتامش ترکی فوج لے کر ان مسلمانوں کے مقابلہ پر آئے‘ عوام الناس کا ایک گروہ کثیر مقتول ہوا اور جوش و خروش فرو ہو گیا۔
اتامش چونکہ زیادہ قابو یافتہ اور خزانہ شاہی میں تصرف کرنے کا بھی اختیار رکھتا تھا لہٰذا بغا اور وصیف اس سے رقابت رکھتے تھے۔ انہوں نے اتامش کے بعد عبداللہ بن محمد بن علی کو عہدہ وزارت عطا کیا‘ چند روز کے بعد بغا صغیر اور ابو صالح عبداللہ بن علی وزیر میں ناراضی پیدا ہوئی۔ ابو صالح عبداللہ بغا صغیر کے خوف سے سامرہ چھوڑ کر بغداد بھاگ گیا اور خلیفہ مستعین نے محمد بن فضل جرجانی کو وزیر بنایا‘ غرض خلیفہ مستعین بالکل ترکوں کے ہاتھ میں تھا‘ سامرہ میں سب ترک ہی آباد تھے اس لیے ترکوں کے قبضہ سے نکلنے کی کوئی کوشش بھی خلیفہ نہیں کر سکتا تھا۔
انہیں حالات میں یحییٰ بن حسین بن زید شہید نے جن کی کنیت ابو الحسین تھی کوفہ میں خروج کیا‘ کوفہ میں محمد بن عبداللہ بن طاہر کی جانب سے ایوب بن حسین بن موسیٰ بن سلیمان بن علی والی کوفہ تھا‘ ابو الحسین نے ایوب کو کوفہ سے نکال دیا اور شاہی بیت المال لوٹ لیا اور کوفہ پر قابض و متصرف ہو گئے۔
ابوالحسین نے کوفہ سے واسط کی طرف کوچ کیا‘ محمد بن عبداللہ بن طاہر نے حسین بن اسمٰعیل بن ابراہیم بن حسین بن مصعب کو روانہ کیا‘ راستہ میں لڑائی ہوئی‘ ابوالحسین حسین بن اسماعیل کو شکست دے کر کوفہ میں واپس آ گئے‘ اور اہل بغداد بھی ان کی امداد پر آمادہ ہو گئے‘ حسین بن اسماعیل اپنا لشکر مرتب کر کے دوبارہ ابو الحسین یحییٰ بن عمر پر حملہ آور ہوا‘ کوفہ سے نکل کر یحییٰ نے مقابلہ کیا‘ سخت لڑائی کے بعد ابوالحسین یحییٰ بن عمر مارے گئے‘ ان کا سر کاٹ کر سامرہ میں خلیفہ مستعین کے پاس بھیجا گیا جس کو مستعین نے ایک صندوق میں بند کرا کر اسلحہ خانہ میں رکھوا دیا‘ ابو الحسن یحییٰ ۱۵ رجب ۲۵۰ھ کو مقتول ہوئے۔
ابوالحسین پر فتح یاب ہونے کے صلہ میں خلیفہ مستعین نے محمد بن عبداللہ بن طاہر کو طبرستان میں جاگیریں عطا فرمائیں جن میں ایک جاگیر حدود دیلم کے قریب تھی۔ اس جاگیر پر قبضہ کرنے کے لیے جب محمد بن عبداللہ کا عامل گیا تو رستم نامی ایک شخص نے مخالفت کی‘ آخر ویلم والے اس مخالفت میں رستم اور اس کے دونوں بیٹوں محمد و جعفر کے طرف دار ہو گئے۔
طبرستان میں اس زمانہ میں محمد بن ابراہیم علوی موجود تھے۔ محمد و جعفر دونوں بھائیوں نے ان کے پاس آ کر کہا کہ آپ امارت کا دعوی کیجئے۔ ہم آپ کے حامی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تم رے میں جا کر حسن بن زید بن محمد بن اسمعیٰل بن حسن بن زید بن حسن سبط کی خدمت میں یہ درخواست پیش کرو وہ ہمارے سردار اور مقتدا ہیں۔ محمد و جعفر نے اپنے باپ رستم سے آ کر کہا‘ اس نے ایک آدمی رے بھیجا وہاں سے حسن بن زید طبرستان چلے آئے‘ یہاں دیلم‘ دربان وغیرہ سے لوگ آ آ کر بیعت ہونے شروع ہوئے‘ ایک جم غفیر فراہم ہو گیا اور حسن بن زید نے علاقہ طبرستان پر قبضہ کر لیا‘ اس کے بعد رے بھی قبضہ میں آ گیا۔
یہ خبر سن کر مستعین نے ہمدان کے بچانے کو ایک لشکر بھیجا جس کو شکست ہوئی اس کے بعد موسیٰ بن بغاکبیر کو دارالخلافہ سے معہ فوج روانہ کیا گیا۔ اس نے طبرستان کو تو حسن بن زید کے قبضہ سے نکال لیا‘ ویلم پر حسن بن زید کا قبضہ رہا‘ موسیٰ وہاں سے رے کی طرف واپس چلا آیا۔
انہیں ایام میں خلیفہ مستعین نے دلیل بن یعقوب نصرانی کو اپنا وزیر بنایا‘ چند روز کے بعد باغر نامی ایک ترک کو دلیل نصرانی وزیر سے کوئی شکایت پیدا ہوئی‘ اس معاملہ میں بغاصغیر اور وصیف نے باغر کو مجرم بتایا‘ خلیفہ نے اس کو قید کر دیا‘ ترکوں نے شورش برپا کی‘ ترکوں کی اس شورش کو دیکھ کر بغاصغیر نے باغر کو قتل کرا دیا‘ اس سے بجائے فرو ہونے کے شورش اور بھی ترقی کر گئی‘ تمام سامرا باغی ہو گیا اور ہر طرف سے بلوائیوں کے جھنڈے نظر آنے لگے‘ مجبوراً خلیفہ مستعین‘ بغاوصیف‘ شاہک اور احمد بن صالح بن شیر زاد سامرا سے نکل کر بغداد چلے آئے اور محرم ۲۵۱ھ میں بغداد کے اندر محمد بن عبداللہ بن طاہر کے مکان میں فروکش ہوئے‘ خلیفہ کے آنے کے بعد دفتر کے آدمی بھی وفا تر لے کر بغداد ہی آ گئے۔
خلیفہ کے بغداد چلے جانے کے بعد ترکوں کو پشیمانی ہوئی اور سامرا سے چھ ترک سردار بغداد میں خلیفہ کے پاس آ کر ملتجی ہوئے کہ آپ سامرا ہی تشریف لے چلیں‘ ہم سب اپنی حرکات ناشائستہ سے پشیمان اور معافی کے خواہاں ہیں۔
خلیفہ مستعین نے ترکوں کو ان کی بے وفائیاں اور گستاخیاں یاد دلائیں اور سامرہ جانے سے انکار کیا‘ ترکوں نے سامرہ واپس جا کر معتز بن متوکل کو جیل سے نکالا اور اس کے ہاتھ پر بیعت خلافت کر لی‘ ابو احمد بن ہارون الرشید بھی اس زمانہ میں سامرہ میں موجود تھا‘ ابو احمد سے جب بیعت کے لیے کہا گیا تو اس نے کہا کہ میں چونکہ مستعین کے ہاتھ پر بیعت کر چکا ہوں اور معتز اپنی معزولی ولی عہدی سے خود تسلیم کر چکا تھا لہٰذا میں بیعت نہیں کروں گا۔
معتز نے ابو احمد کو اس کے حال پر چھوڑ دیا اور زیادہ اصرار نہیں کیا‘ بغاکبیر کے دونوں بیٹوں موسیٰ و عبداللہ نے بھی معتز کی بیعت کر لی‘ اسی طرح جو لوگ معتز کی خلافت کو پسند کرتے تھے وہ معتز کے پاس سامرا چلے گئے‘ جو مستعین کو پسند کرتے تھے وہ سامرا سے بغداد چلے آئے۔
یہی حال صوبوں کے عاملوں اور گورنروں کی ہوا‘ کچھ اس طرف ہو گئے کچھ اس طرف‘ بغداد و سامرہ دونوں جگہ دو الگ الگ خلیفہ تھے‘ مستعین کی طرف خاندان طاہر یہ اور خراسانی لوگ زیادہ تھے‘ معتز کی جانب قریباً تمام ترک اور بعض دوسرے سردار بھی تھے‘ گیارہ مہینے تک جنگ و پیکار کا ہنگامہ دونوں خلیفوں میں برپا رہا۔ باہر کے صوبہ داروں سے دونوں خط و کتابت کرتے اور اپنی اپنی طرف مائل کرتے تھے‘ یہ جنگ سامرا و بغداد تک ہی محدود نہ رہی‘ بلکہ باہر کے صوبوں میں بھی اس کے شعلے مشتعل ہونے لیے‘ مگر زیادہ زور بغداد کے نواح میں رہا کیونکہ باہر والے دارالسلطنت کے نتائج کا انتظار کرتے تھے۔
آخر ماہ ذیقعدہ ۲۵۱ھ میں محمد بن عبداللہ بن طاہر نے جو بغداد میں مستعین کی فوجوں کا سپہ سالار تھا ترکوں پر جو بغداد کا محاصرہ کئے ہوئے تھے ایسا سخت و شدید حملہ کیا کہ وہ ہزیمت پا کر فرار ہو گئے‘ بغا اور وصیف بغداد میں مستعین کے ساتھ تھے‘ اس حملہ میں یہ بھی محمد بن عبداللہ بن طاہر کے ساتھ اپنے چھوٹے چھوٹے دستوں کو لیے ہوئے موجود تھے‘ یعنی ترکوں کی بہت ہی قلیل تعداد‘ جو ان دونوں ترک سرداروں کے مخصوص آدمیوں پر مشتمل تھی‘ مستعین کی فوج میں شامل تھی۔
بغا اور وصیف نے جب ترکوں کو شکست پا کر خراسانیوں اور عراقیوں کے مقابلے سے بھاگتا ہوا دیکھا تو ان کی قومی عصبیت میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ فوراً جدا ہو کر ترکوں کی منہزم فوج سے جا ملے‘ ان کے پہنچنے سے ترکوں کی ہمت بندھ گئی اور وہ اپنی جمعیت کو درست کر کے پھر لوٹ پڑے اور دوبارہ بغداد کا محاصرہ کر لیا۔
ادھر شہر والوں نے محمد بن عبداللہ بن طاہر کے متعلق خبریں اڑانی شروع کر دیں کہ یہ دیدہ و دانستہ خلیفہ مستعین کو مشکلات میں مبتلا کر رہا ہے جس سے محمد بن عبداللہ بھی کچھ سست ہو گیا۔
آخر ۶ محرم ۲۵۲ھ کو مستعین باللہ نے معتز باللہ کے پاس ایک تحریر بھیج دی‘ جس میں معتز باللہ کی خلافت کو تسلیم کر کے خود خلافت سے دست برداری ظاہر کی تھی‘ خلیفہ معتز نے بغداد میں داخل ہو کر معزول خلیفہ مستعین کو واسط کی طرف نظر بند کر کے بھیج دیا‘ وہاں مستعین نو مہینے تک ایک امیر کی حراست میں رہا‘ پھر سامرہ میں واپس چلا آیا اور ۳ شوال ۲۵۲ھ کو خلیفہ معتز کے اشارے سے قتل کیا گیا۔۱؎
---
۱؎یہ تھا ان خلفاء کا حال! کہ ایک طرف متعین باللہ خود خلافت سے دست بردار ہو گیا اور دوسری طرف نئے خلیفہ معتز باللہ نے اسے قتل کرا دیا۔ حالانکہ اسے معاف کر دینا چاہیے تھا۔