متوکل علی اللہ
تعمیر جعفریہ
۲۴۵ھ میں متوکل نے ایک جدید شہر موسوم بہ جعفریہ آباد و تعمیر کرایا‘ اس کی تعمیر میں دو لاکھ دینار صرف ہوئے‘ وسط شہر میں ایک بہت بڑا محل جس کا نام لولوہ رکھا تھا تعمیر کرایا‘ اس کی بلندی تمام شاہی محل سرائوں سے زیادہ تھی‘ اس شہر کو کوئی جعفریہ کوئی متوکلہ کوئی ماخورہ کہتا تھا‘ اسی سال جعفر بن دینار خیاط نے وفات پائی‘ اسی سال نجاح بن مسلمہ کو متوکل نے اس قدر پٹوایا کہ وہ مر گیا‘ نجاح بن مسلمہ بڑے رعب داب کا آدمی کے دفتر فرامین کا افسر تھا اس کی نسبت رشوت کا الزام ثابت ہو گیا تھا اسی لیے اس کو ایسی سخت سزا دی گئی۔