متوکل علی اللہ
رومیوں کا حملہ
۲۳۸ھ میں رومیوں کا ایک بیڑہ جس میں سو جہاز تھے ساحل دمیاط پر حملہ آور ہوا‘ دمیاط کی متعینہ فوج کو عنبسہ بن اسحاق والی مصر نے کسی ضرورت سے مصر میں طلب کیا تھا‘ رومیوں نے میدان خالی پا کر دمیاط کو خوب لوٹا‘ وہاں کی جامع مسجد کو جلا دیا اور مال و اسباب اور قیدیوں کو اپنے جہازوں میں سوار کر کے ٹیونس کی طرف گئے‘ وہاں بھی یہی برتائو کیا‘ علی بن یحییٰ ارمنی لشکر صائفہ کے ساتھ ممالک روم پر حملہ آور ہوا اور بہت سے عیسائیوں کو قید کر لایا۔
۲۴۱ھ میں ملکہ ندورہ قیصرہ روم نے مسلمان قیدیوں کو عیسائی بنانے کی کوشش کی جس نے عیسائی ہونے سے انکار کیا اس کو قتل کر دیا‘ بہت سے بخوف جان عیسائی ہو گئے پھر کچھ سوچ کر ملکہ نے درخواست کی کہ قیدیوں کو تبادلہ کر لیا جائے‘ چنانچہ متوکل نے اپنے خادم سیف نامی کو بغداد کے قاضی جعفر بن عبدالواحد کے ہمراہ عیسائی قیدیوں کے ساتھ روانہ کیا اور نہر لامس پر ان قیدیوں کا تبادلہ مسلمان قیدیوں کے ساتھ عمل میں آیا۔