واثق باللہ
واثق باللہ
واثق باللہ بن معتصم باللہ بن ہارون الرشید بن مہدی بن منصور عباسی کی کنیت ابو جعفر یا ابوالقاسم تھی۔ اس کا اصل نام ہارون تھا۔ یہ مکہ کے راستے میں قراطیس نامی ام ولد کے پیٹ سے ۲۰ شعبان ۱۹۶ھ میں پیدا ہوا تھا۔ اس کو اس کے باپ معتصم باللہ نے اپنا ولی عہد بنایا تھا۔ معتصم کی وفات کے بعد تخت خلافت پر بیٹھا۔ یہ نہایت خوب صورت گوری چٹی رنگت کا آدمی تھا۔ ڈاڑھی گھنی اور خوب صورت تھی۔ اس کی رنگت میں سفیدی کے ساتھ زردی بھی جھلکتی تھی۔ آنکھوں کی سفیدی میں سیاہ تل بھی نمودار تھا۔ یہ بہت بڑا شاعر اور ادیب تھا۔ عربی ادب میں وہ مامون کا ہم پلہ بلکہ اس سے بھی فائق تھا۔ مگر فلسفہ اور علوم حکمیہ میں مامون سے کمتر تھا۔ اس نے مامون الرشید کی علمی مجلسیں دیکھی تھیں۔ اس کو علم و فضل کا شوق تھا‘ اسی لیے اس کو مامون صغیر یا مامون ثانی کہتے تھے۔
۱؎۱۹۸ھ میں مامون بن ہارون الرشید عباسی نے خلافت کی زمام کار سنبھالی۔ معتزلہ کا فرقہ اٹھتا ہے اور دیگر بدعات کی اشاعت کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کے مخلوق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور بڑی تیزی سے عوام کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں۔ مامون بھی معتزلہ کے ساتھ ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی جب گمراہی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی لہر کو دیکھتے ہیں تو پوری قوت کے ساتھ باطل قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان عمل میں نکلتے ہیں۔ اس مسئلہ میں حق و باطل کی یہ کشمکش کئی سالوں تک جاری رہتی ہے۔ چنانچہ مامون‘ پھر معتصم‘ واثق‘ متوکل ان چار خلفاء کے عہد میں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی پر چاروں خلفاء کے ادوار میں تعذیب و تشدد کا ایک طوفان برپا رہتا ہے۔ لیکن بامشقت قید و بند کے مصائب اور تضحیک و تشنیع کے سلسلے میں بھی اللہ کی توفیق سے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کے پائے استقامت کو متزلزل نہ کر سکے اور وہ فاتح و سرخرو ہو کر تعذیب خانہ سے باہر تشریف لائے۔ یوں باطل کو شکست فاش ہوئی اور حق غالب آیا‘ فللہ الحمد! تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو‘ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کا دور ابتلا مؤلفہ ڈاکٹر محمد نفش مصری‘ مترجم الشیخ محمد صادق خلیل۔
واثق کو عربی اشعار اس قدر یاد تھے کہ خلفاء عباسیہ میں کسی کو اتنے اشعار یاد نہ تھے۔ اپنے باپ کی طرح کھانے پینے کا اس کو بھی بہت شوق تھا۔ بہت پر خور خوش خور تھا۔ شاعروں اور ادیبوں کو بڑے بڑے انعام وصلے دیتا تھا۔ اہل علم کی قدر کرتا تھا اور ان کے ساتھ تعظیم و تکریم کا برتائو ضروری سمجھتا تھا۔ مگر خلق قرآن کے مسئلہ کا خبط اپنے باپ سے وراثت میں پایا تھا۔ اور اس معاملہ میں یہاں تک غلو اختیار کیا تھا کہ اکثر بڑے بڑے علماء کو ثواب سمجھ کر اس نے اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔۱؎
آخر عمر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ مسئلہ خلق قرآن کے متعلق اس نے اپنی سرگرمی کم یا بالکل موقوف کر دی تھی۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ ابو عبدالرحمن عبداللہ بن محمد ازدی جو امام ابو دائود اور نسائی کے استاد تھے مسئلہ خلق قرآن کے متعلق مخالف عقیدہ رکھنے کے سبب گرفتار ہو کر آئے اور دربار میں پیش ہوئے‘ وہاں قاضی احمد بن ابی دئواد سے‘ جو معتصم کے زمانے سے دربار میں وزیراعظم کے برابر مرتبہ رکھتے اور خلق قرآن کے قائل تھے‘ اس مسئلہ میں بحث ہوئی۔
ابو عبدالرحمن نے ان سے سوال کیا کہ تم پہلے مجھ کو یہ تو بتا دو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی اس کا علم تھا یا نہیں کہ قرآن مخلوق ہے۔
قاضی احمد نے کہا کہ ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کا علم تھا۔۲؎
ابو عبدالرحمن نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو قرآن کے مخلوق ہونے کے عقیدہ کی تعلیم دی یا نہیں۔
قاضی احمد نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تو اس کے متعلق کوئی حکم نہیں فرمایا۔
ابو عبدالرحمن نے کہا کہ جس عقیدہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو تعلیم نہیں دی اور باوجود علم رکھنے کے لوگوں کو اس کے ماننے پر مجبور نہیں کیا۔ تم اس کے متعلق لوگوں کی خاموشی کو کیوں کافی نہیں سمجھتے؟ اور ان کو کیوں اس کے ماننے اور اقرار کرنے پر مجبور کرتے ہو؟ یہ سنتے ہی واثق باللہ چونک پڑا اور دربار سے اٹھ کر اپنی محل سرائے میں چلا گیا۔ اور چار پائی پر لیٹ کر بار بار یہ کہتا رہا کہ ’’جس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خاموشی اختیار کی ہم اس میں سختی کر رہے ہیں‘‘۔ پھر حکم دیا کہ ابو عبدالرحمن کو آزاد کر کے اس کے وطن میں بہ آرام واپس پہنچا دو۔ اور تین سو دینار سرخ بطور انعام دے دو۔
۱؎کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ ایک طرف واثق باللہ قرآن کریم کو مخلوق مان کر ایک صریح غلطی اور گمراہی اختیار کر چکا تھا‘ دوسری طرف اس نے بہت سے بڑے علماء کو قتل کرنے جیسا جرم اور گناہ کبیرہ کیا۔
۲؎قاضی احمد بن ابی دائود نے یہ بالکل غلط بات کہی۔ اگر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس مسئلہ کا علم تھا تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو صحابہ رضی اللہ عنھم کو اس بارے میں رہنمائی کرنی چاہیے تھی۔
خلیفہ معتصم کے حالات میں اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ رجاء بن ایوب کو معتصم نے ابو حرب یمانی کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا تھا۔ رجاء بن ایوب نے کچھ دنوں انتظار کرنے کے بعد ابو حرب سے لڑائی کا سلسلہ جاری کیا۔ اسی اثناء میں معتصم باللہ نے وفات پائی اور واثق باللہ تخت نشین ہوا۔ وفات معتصم کی خبر سنتے ہی اہل دمشق باغی ہو گئے‘ انہوں نے اپنے امیر کو دارالامارت میں محصور کر لیا۔ اور لشکر کی فراہمی و ترتیب میں مصروف ہو کر جمعیت کثیر فراہم کر لی۔
یہ خبر سنتے ہی واثق باللہ نے رجاء بن ایوب کے پاس حکم بھیجا کہ پہلے اہل دمشق کی خبر لو۔ اس وقت رجاء بن ایوب مقام رملہ میں ابو حرب کے مقابل معرکہ آرائی میں مصروف تھا۔ اس حکم کی تعمیل میں اس نے بہت تھوڑی سی فوج ابو حرب کے مقابلہ پر چھوڑی اور باقی فوج کو لے کر دمشق کی جانب متوجہ ہوا۔ یہاں اہل دمشق نے مقابلہ کیا اور بڑی خونریز جنگ ہوئی‘ جس میں ڈیڑھ ہزار آدمی اہل دمشق کے اور تین سو آدمی رجاء کی فوج کے مقتول ہوئے۔ اہل دمشق نے ہزیمت پا کر امن کی درخواست کی اور یہ بغاوت بالکل فرو ہو گئی۔ یہاں سے فارغ ہو کر رجاء رملہ کی جانب گیا۔ اور ابو حرب کو شکست دے کر گرفتار کر لیا۔ ابو حرب کے ہمراہیوں میں سے بیس ہزار آدمی ان لڑائیوں میں مقتول ہوئے تھے۔