ملک عرب
خلاصہ کلام
مذکورہ بالا حالات کے پڑھنے سے یہ بات بآسانی ذہن نشیں ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مبعوث ہونے سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے وقت ساری کی ساری دنیا تاریک ہو چکی تھی اور ربع مسکون پر جہالت کی اندھیری رات اس طرح چھائی ہوئی تھی کہ کسی حصہ اور کسی ملک میں کوئی ٹمٹماتی ہوئی روشنی مطلق نظر نہیں آتی تھی۔
دنیا پر اس سے پہلے کبھی ایسا وقت نہیں آیا تھا کہ ایک ہی وقت میں ہر جگہ تہذیب و تمدن اخلاق‘ علم و حکمت‘ معرفت الہی سب کے سب اس طرح برباد ہوئے ہوں اور تمام ربع مسکون تیرہ و تاریک ہو گیا ہو‘ ہر ملک میں خدائے تعالیٰ کے مرسل اور ہادی و رہنما آتے رہے اور یکے بعد دیگرے روشنی اور تاریکی کے دور دورے رات اور دن کی طرح نمودار ہوتے رہے لیکن چونکہ اب تمام ملکوں یعنی دنیا کے لیے ایک ہی ہادی برحق مبعوث ہونے والا تھا‘ لہذا خدائے تعالیٰ نے تمام ہادیوں اور ہر ملک کے رہبروں کی لائی ہوئی تعلیمات کے زمانہ کو ایک ہی مقررہ وقت میں ختم کر کے ہر ملک اور دنیا کے ہر حصہ میں نئے ہادی اور نئے ہدایت نامہ کی ضرورت کو پیدا و ہویدا کر دیا تھا‘ اور ساری کی ساری دنیا یک زبان ہو کر زبان حال سے کسی ہادی اور ہدایت کی خواہش کا اظہار کر رہی تھی۔
چنانچہ خدائے تعالیٰ نے اس کامل ہادی اور ختم الرسل صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت اور پیدائش کے لیے ملک عرب کا انتخاب کیا اور ربع مسکون کی اس تاریک شب کے ختم کرنے کے لیے مکہ معظمہ سے آفتاب رسالت طلوع ہوا اور اس نے طلوع ہو کر تمام دنیا کو اپنی نورانی شعاعوں سے منور کر دیا۔ ہم کو اپنی کتاب اس طلوع آفتاب ہی سے شروع کرنی ہے‘ مگر اصل مدعا کے شروع کرنے سے پیشتر اس سوال کا جواب دینا مزید باقی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے لیے ملک عرب ہی کیوں پسند کیا گیا؟ اور دوسرے کسی ملک میں نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ و سلم کو کیوں نہ پیدا کیا گیا۔