معتصم باللہ

بغاوت طبرستان

مازیار بن قارن رئیس طبرستان‘ عبداللہ بن طاہر گورنر خراسان کا ماتحت اور خراج گزار تھا۔ اس کے اور عبداللہ بن طاہر کے درمیان کسی بات پر ناراضی پیدا ہوئی‘ مازیار نے کہا کہ میں براہ راست خراج دارالخلافہ میں بھیج دیا کروں گا۔ لیکن عبداللہ بن طاہر کو ادانہ کروں گا۔ عبداللہ بن طاہر اس بات کو اپنے وقار گورنری کے خلاف سمجھ کرنا پسند کرتا تھا۔ چند روز تک یہی جھگڑا رہا اور مازیار خراج براہ راست دارالخلافہ میں بھیجتا اور وہاں سے عبداللہ بن طاہر کے وکیل کو وصول ہوتا رہا۔ جنگ بابک کے زمانے میں افشین کو آزادانہ خرچ کرنے کا اختیار تھا اور اس کے پاس برابر معتصم ہر قسم کا سامان اور روپیہ بھجواتا رہتا تھا۔ افشین اپنی فوج کے لیے نہایت کفایت شعاری کے ساتھ سامان اور روپیہ خرچ کرتا تھا۔ باقی تمام روپیہ اور سامان اپنے وطن اشروسنہ (علاقہ ترکستان) کو روانہ کر دیتا تھا۔ یہ سامان جو آذربائیجان سے بھیجا جاتا تھا۔ خراسان میں ہو کر گذرتا تھا۔ عبداللہ بن طاہر کو جب یہ معلوم ہوا کہ افشین برابر اپنے وطن کو سامان رسد‘ سامان حرب اور روپیہ بجھوا رہا ہے تو اس کو شبہ پیدا ہوا۔ اس نے ان سامان لے جانے والوں کو گرفتار کر کے قید کر دیا اور تمام سامان و روپیہ چھین کر اپنے قبضے میں رکھا اور افشین کو لکھ بھیجا کہ آپ کے لشکر سے کچھ لوگ اس قدر سامان لیے ہوئے جا رہے تھے۔ میں نے ان کو گرفتار کر کے قید کر دیا ہے اور سامان اپنی فوج تقسیم کر دیا ہے کیونکہ میں ترکستان پر چڑھائی کی تیاری کر رہا ہوں۔ اگرچہ ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم چور نہیں ہیں اور اپنے آپ کو آپ کا فرستادہ بتایا۔ لیکن ان کا یہ بیان قطعاً غلط اور جھوٹ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر یہ چور نہ ہوتے اور آپ کے بھیجے ہوئے ہوتے تو آپ مجھ کو ضرور اطلاع دیتے۔ اس خط کو دیکھ کر افشین بہت شرمندہ ہوا اور عبداللہ بن طاہر کو لکھا کہ وہ لوگ چور نہیں ہیں بلکہ میرے ہی فرستادہ تھے۔ عبداللہ بن طاہر نے افشین کے اس خط کو دیکھ کو چھوڑ دیا‘ مگر سامان جو ان سے چھینا تھا وہ نہیں دیا۔ اس امر کی ایک خفیہ رپوٹ عبداللہ بن طاہر نے خلیفہ معتصم کے پاس بھی بھیج دی جس پر بظاہر خلیفہ معتصم نے کوئی التفات نہیں کیا۔ حقیقت یہ تھی کہ افشین اپنی ریاست و سلطنت اشروسنہ میں قائم کرنا چاہتا تھا اور اسی لیے وہ پیشتر سے تیاری کر رہا تھا۔ جب افشین جنگ بابک سے فارغ ہو کر سامرا میں واپس آیا تو اس کو توقع تھی کہ خلیفہ معتصم مجھ کو خراسان کی گورنری عطا کرے گا اور اس طرح مجھ کو بخوبی موقعہ مل جائے گا کہ میں اپنی حکومت و سلطنت کے لیے بخوبی تیاری کر سکوں لیکن خلیفہ معتصم نے اس آرمینیا و آذربائیجان کی حکومت پر مامور کیا اور امید خراسان کا خون ہو گیا۔ اس کے بعد جنگ روم پیش آ گئی‘ افشین کو اس لڑائی میں بھی شریک ہونا پڑا مگر اس جنگ میں معتصم خود موجود تھا اور اس نے ابتدا میں اگر کسی کو سپہ سالار اعظم بنایا تھا تو وہ عجیف تھا‘ جو اپنے آپ کو افشین کا مد مقابل اور رقیب سمجھتا تھا۔ عجیف کا جو انجام ہوا وہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ اب افشین نے ایک اور تدبیر سوچی‘ وہ یہ کہ مازیار حاکم طبرستان کو پوشیدہ طور پر ایک خط بھیجا اور عبداللہ بن طاہر کے مقابلے پر ابھارا اس خط کا مضمون یہ تھا۔ ’’دین زردشتی کا کوئی ناصر و مددگار میرے اور تمھارے سوا نہیں ہے‘ بابک بھی اس دین کی حمایت میں کوشاں تھا۔ لیکن وہ محض اپنی حماقت کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوا۔ اور اس نے میری نصیحتوں پر مطلق توجہ نہ کی۔ اس وقت بھی ایک زرین موقعہ حاصل ہے۔ وہ یہ کہ تم علم مخالفت بلند کر دو۔ یہ لوگ تمھارے مقابلے کے لیے میرے سوا یقینا کسی دوسرے کو مامور نہ کریں گے‘ اس وقت میرے پاس سب سے زیادہ طاقتور اور زبردست فوج ہے‘ میں تم سے سازش کر لوں گا اور ہم دونوں متفق ہو جائیں گے‘ اس کے بعد ہمارے مقابلے پر مغاربہ‘ عرب اور خراسانیوں کے سوا اور کوئی نہ آئے گا۔ مغاربہ کی تعداد بہت ہی قلیل ہے‘ ان کے مقابلہ کے لیے ہماری فوج کا ایک معمولی دستہ کافی ہو گا۔ عربوں کی حالت یہ ہے کہ ایک لقمہ ان کو دے دو اور خوب پتھروں سے ان کا سر کچلو‘ خراسانیوں کا جوش دودھ کا سا ابال ہے‘ اٹھا اور فرو ہو گیا۔ تھوڑے سے استقلال میں ان کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ تم اگر ذرا ہمت کرو تو وہی دین مذہب جو ملوک عجم کے زمانے میں تھا پھر قائم و جاری ہو سکتا ہے‘‘۔ مازیار اس خط کو پڑھ کر خوش ہوا اور اس نے علم بغاوت بلند کر دیا۔ رعایا سے ایک سال کا پیشگی خراج وصول کر کے سامان حرب کی فراہمی اور قلعوں کی مرمت و درستی سے فارغ ہو کر بڑی سے بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو بیٹھا‘ عبداللہ بن طاہر کو جب مازیار کی بغاوت و سرکشی کا حال معلوم ہوا تو اس نے اپنے چچا حسن بن حسین کو ایک لشکر کے ساتھ اس طرف روانہ کیا۔ ادھر معتصم کو اس بغاوت کا حال معلوم ہوا تو اس نے دارالخلافہ اور دوسرے مقامات سے عبداللہ بن طاہر کی امداد کے لیے فوجوں کی روانگی کا حکم صادر کیا‘ مگر افشین کو اس طرف جانے کا حکم نہیں دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مازیار گرفتار ہو کر عبداللہ بن طاہر کی خدمت میں پیش کیا گیا‘ عبداللہ بن طاہر نے اس کو معتصم کی خدمت میں روانہ کر دیا اور معتصم نے اس کو جیل خانے بھیج دیا۔ حسن بن حسین نے جب مازیار کو گرفتار کیا تو اتفاق سے افشین کا مذکورہ خط اور اس کے علاوہ اسی مضمون کے اور بھی خطوط جو افشین نے مازیار کے پاس بھیجے تھے مازیار کے پاس سے برآمد ہوئے۔ عبداللہ بن طاہر نے یہ خطوط بھی خلیفہ معتصم کے پاس بھیج دئیے۔ مگر خلیفہ معتصم نے ان خطوط کو لے کر اپنے پاس بحفاظت رکھ تو لیا اور بظاہر کوئی التفات اس طرف نہیں کیا۔ یہ واقعہ ۲۲۴ھ کا ہے۔