معتصم باللہ
گروہ زط کا خاتمہ
مادی الآخر ۳۱۹ھ کو خلیفہ معتصم نے اپنے ایک سپہ سالار عجیف بن عتبہ کو گروہ زط کی جنگ پر مامور کیا۔ عجیف نے سات مہینے تک اس غارت گر گروہ کے ساتھ ہنگامہ کار زار گرم رکھا۔ آخر ان کو مجبور کر دیا کہ انھوں نے خود ماہ ذی الحجہ ۲۱۹ھ میں امان کی درخواست کی اور اپنے آپ کو عجیف کے سپرد کر دیا۔ عجیف ان سب کو جن کی تعداد معہ عورتوں بچوں کے سترہ ہزار تھی لے کر بغداد کی طرف آیا۔ ان سترہ ہزار میں بارہ ہزار لڑنے کے قابل مرد تھے۔ ۱۰ محرم ۲۲۰ھ کو عجیف بغداد میں داخل ہوا اور معتصم خود کشتی میں سوار ہو کر شمامہ کی جانب آیا اور گروہ زط کے اسیروں کا معائنہ کر کے حکم دیا کہ ان کو سرحد روم کی طرف مقام چشمہ زریہ کے قریب آباد کر دو‘ چنانچہ یہ اس طرف پہنچا دیئے گئے‘ وہاں یہ اتفاق پیش آیا کہ رومیوں نے موقعہ پا کر ان پر شب خون مارا اور سب کو قتل کر کے چلے گئے ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑا اس طرح اس غارت گر گروہ زط کا خاتمہ ہو گیا۔