مامون الرشید
اخلاق و عادات
خلیفہ مامون الرشید تمام خاندان بنو عباس میں باعتبار‘ حزم و عزم‘ حلم و علم‘ عقل و شجاعت سب سے بڑھ کر تھا۔ وہ خود کہا کرتا تھا کہ امیر معاویہؓ کو عمرو بن العاص کی اور عبدالملک کو حجاج کی ضرورت تھی۔ مگر مجھ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر شیعیت غالب تھی یعنی علویوں کو بہت قابل تکریم اور مستحق خلافت سمجھتا تھا۔ اسی لیے اس نے اپنے بھائی موتمن کو معزول کر کے علی رضا کو ولی عہد بنایا اور اپنی بیٹی کی شادی کی‘ اس کا یہ بھی خیال تھا کہ وہ خود خلع خلافت کر کے علی رضا کو اپنے سامنے خلیفہ بنا دے۔ مگر ابتدائی دس برس گذر جانے کے بعد آخر عہد خلافت میں علویوں کے خروج اور سرکشیوں سے تنگ آ کر اس کے خیالات میں تغیر آ گیا تھا۔ اس نے یہ بھی حکم جاری کرنا چاہا تھا کہ کوئی شخص سیدنا امیر معاویہؓ کو بھلائی کے ساتھ یاد نہ کرے ورنہ مجرم قرار دیا جائے گا۔ مگر پھر اس حکم کو لوگوں کے سمجھانے سے جاری نہیں کیا۔
قرآن شریف کے پڑھنے کا بھی اس کو بہت شوق تھا۔ بعض رمضانوں میں اس نے روزانہ قرآن شریف ختم کیا ہے۔۱؎ مامون نے جب علی رضا کو ولی عہد بنایا تو بعض بنو عباس نے اس سے کہا کہ آپ امر خلافت علویوں کے سپرد نہ کریں۔ مامون نے جواب دیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں بنو عباس کو اکثر صوبوں کی حکومت پر مامور فرمایا تھا‘ میں اس کا عوض کرنا چاہتا ہوں اور ان کی اولاد کو حکومت و خلافت سپرد کرتا ہوں۔
مامون نے دارالمناظرہ میں جب ہر عقیدہ اور ہر مذہب کے لوگوں کو آزادانہ گفتگو کرنے کا موقعہ دیا اور علمی بحثیں آزادی کے ساتھ ہونے لگیں تو اس کی توجہ متکلمین اور معتزلہ کی طرف زیادہ مبذول ہو گئی۔ انھیں آزادانہ مذہبی بحث مباحثوں کا یہ نتیجہ ہوا کہ خلق قرآن کا مسئلہ جو درحقیقت بالکل
۱؎حدیث میں تین دن سے کم مدت میں قرآن کریم پڑھنے (یعنی ختم کرنے) پر ناپسندیدگی ظاہر کی گئی ہے۔ چنانچہ سنن ترمذی‘ ابواب القرأۃ میں ہے کہ ’’اس شخص نے قرآن نہیں سمجھا جس نے تین دن سے کم مدت میں ختم کیا۔‘‘ (سندہ حسن)
غیر ضروری اور نا قابل توجہ مسئلہ تھا‘ زیر بحث آیا‘ اور مامون خلق قرآن کا قائل ہو کر ان لوگوں پر جو خلق قرآن کے قائل نہ تھے تشدد کرنے لگا‘ اس تشدد و سختی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مخالف عقیدہ کے علماء نے اور بھی زیادہ سختی سے مخالفت شروع کی اور طرفین کی اس مخالفت و عصبیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ مامون کے بعد تک بھی علماء دین کو اس بے حقیقت اور غیر ضروری مسئلہ کی وجہ سے بڑی بڑی اذیتیں برداشت کرنی پڑیں۔
ابو محمد یزیدی کا بیان ہے کہ میں مامون کو بچپن میں پڑھایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ خدام نے مجھ سے شکایت کی کہ جب تم چلے جاتے ہو تو یہ نوکروں کو مارتا پیٹتا اور شوخی کرتا ہے‘ میں نے اس کے سات قمچیاں ماریں‘ مامون روتا اور آنسو پوچھتا جاتا تھا۔ اتنے میں وزیر اعظم جعفر برمکی آ گیا میں اٹھ کر باہر چلا گیا۔ اور جعفر مامون سے بات چیت کر کے اور اس کو ہنسا کر چلا گیا۔ میں پھر مامون کے پاس آیا اور کہا کہ میں تو اتنی دیر ڈرتا ہی رہا کہ کہیں تم جعفر سے شکایت نہ کر دو۔ مامون نے کہا کہ جعفر تو کیا میں اپنے باپ سے بھی آپ کی شکایت نہیں کر سکتا کیونکہ آپ نے تو میرے ہی فائدے کے لیے مجھ کو مارا تھا۔
یحییٰ بن اکثم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مامون الرشید کے کمرہ میں سو رہا تھا۔ مامون بھی قریب ہی مصروف خواب تھا۔ مامون نے مجھ کو جگا کر کہا کہ دیکھنا میرے پائوں کے قریب کوئی چیز ہے۔ میں نے دیکھ کر کہا کہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن مامون کو اطمینان نہ ہوا‘ اس نے فراشوں کو آواز دی۔ انہوں نے شمع جلا کر روشنی سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کے بچھونے کے نیچے ایک سانپ بیٹھا ہے۔ میں نے مامون سے کہا کہ آپ کے کمالوں کے ساتھ آپ کو عالم الغیب بھی کہنا چاہیئے۔ مامون نے کہا معاذ اللہ یہ آپ کیا کہتے ہیں۔ بات صرف یہ تھی کہ میں نے ابھی خواب میں دیکھا ہے کہ کوئی شخص مجھ سے کہتا ہے کہ اپنے آپ کو ننگی تلوار سے بچائو۔ میری فوراً آنکھ کھل گئی اور میں نے سوچا کہ کوئی حادثہ قریب ہی ہونے والا ہے‘ سب سے قریب بچھونا ہی تھا۔ لہٰذا میں نے بچھونے کو دیکھا اور سانپ نکلا۔
محمد بن منصور کا قول ہے کہ مامون کہا کرتا تھا کہ شریف آدمی کی ایک یہ علامت ہے کہ اپنے آپ سے برتر کے مظالم سہے اور اپنے آپ سے کمتر پر ظلم نہ کرے۔
سعید بن مسلم کہتے ہیں کہ مامون نے ایک مرتبہ کہا کہ اگر مجرموں کو یہ معلوم ہو جائے کہ میں عفو کو کس قدر دوست رکھتا ہوں تو ان سے خوف دور ہو جائے اور ان کے دل خوش ہو جائیں۔
ایک مجرم سے مامون نے کہا کہ واللہ میں تجھ کو قتل کر ڈالوں گا۔ اس نے کہا کہ آپ ذرا تحمل کو کام میں لائیں۔ نرمی کرنا بھی نصف عفو ہے۔ مامون نے کہا اب تو میں قسم کھا چکا۔ اس نے کہا کہ اگر آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے قسم توڑنے والے کی حیثیت سے پیش ہوں۔ تو اس سے لاکھ درجہ بہتر ہے کہ ایک خونی کی حیثیت سے پیش ہوں یہ سن کر مامون نے اس کا قصور معاف کر دیا۔
عبدالسلام بن صلاح کہتے ہیں کہ ایک روز میں مامون کے کمرے میں سویا‘ چراغ گل ہونے لگا۔ دیکھا تو مشعلچی سو رہا ہے۔ مامون خود اٹھا اور چراغ کی بتی درست کر کے لیٹ گیا اور کہنے لگا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں غسل خانے میں ہوتا ہوں اور یہ خدمت گار مجھ کو گالیاں دیتے ہیں اور طرح طرح کی تہمتیں مجھ پر لگاتے رہتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ میں نے سنا نہیں۔ لیکن میں سنتا ہوں اور معاف کرتا رہتا ہوں اور کبھی یہ بھی ظاہر نہیں کرتا کہ میں نے تمھاری باتیں سنی ہیں۔
ایک روز مامون الرشید دجلہ کی سیر کر رہا تھا‘ ایک پردہ پڑا ہوا تھا‘ اس کے دوسری طرف کنارے پر ملاح بیٹھے ہوئے تھے جن کو مامون کی موجودگی کا علم نہ تھا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ مامون یہ سمجھتا ہو گا کہ میرے دل میں اس کی قدر ہے مگر وہ اتنا نہیں سمجھتا کہ جو شخص اپنے بھائی کا قاتل ہو اس کی ذرا بھی قدر میرے دل میں نہیں ہو سکتی‘ مامون مسکرا کر کہنے لگا کہ یارو تم ہی کوئی تدبیر بتائو کہ اس جلیل القدر شخص کے دل میں میری قدر ہو جائے۔
یحییٰ بن اکثم کا بیان ہے کہ میں مامون کے کمرہ میں لیٹا ہوا تھا‘ ابھی سویا نہ تھا کہ مامون کو کھانسی اٹھی‘ اس نے اپنی قمیص کے دامن سے اپنا منہ دبا لیا۔ تاکہ کوئی جاگ نہ اٹھے۔
مامون کا قول ہے کہ مجھ کو غلبہ حجت غلبہ قدرت سے اچھا معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ غلبہ قدرت زوال قدرت کے وقت زائل ہو جائے گا‘ مگر غلبہ حجت کو کسی وقت زوال نہیں۔
مامون کہا کرتا تھا کہ بادشاہ کی خوشامد پسندی بہت ہی بری ہے اس سے بھی بری قاضیوں کی تنگ دلی ہے جب کہ وہ معاملہ سمجھنے سے پہلے سرزد ہو‘ اس سے بھی بدتر معاملات دین میں فقہا کی کم عقلی‘ اس سے بدتر مالدار لوگوں کی کنجوسی‘ بوڑھے آدمیوں کا مذاق کرنا‘ جوانوں کا سستی کرنا اور جنگ میں بزدلی دکھانا ہے۔
علی بن عبدالرحیم مروروذی کہتے ہیں کہ مامون کا قول ہے کہ وہ شخص اپنی جان کا دشمن ہے جو ایسے شخص کی مقاربت کا خواہاں ہو جو اس سے دوری اختیار کرنا چاہتا ہے‘ اور ایسے شخص کی تواضع کرے جو اس کا اکرام نہ کرتا ہو‘ اور ایسے شخص کی تعریف کرنے سے خوش ہو جو اسے جانتا ہی نہ ہو۔
ہدیہ بن خالد کہتے ہیں کہ میں ایک روز مامون کے ساتھ کھانا کھانے میں شریک تھا‘ جب دسترخوان اٹھایا گیا تو میں فرش پر سے کھانے کے ریزے چن کر کھانے لگا۔ مامون ے پوچھا کہ کیا تمھارا پیٹ نہیں بھرا ہے۔ میں نے کہا پیٹ تو بھر گیا ہے لیکن حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص دستر خوان اٹھانے کے بعد کھانے کے بچے ہوئے ریزے اٹھا کر کھائے وہ مفلسی سے امن میں رہے گا۔۱؎ مامون نے یہ سن کر مجھے ایک ہزار دینار عطا کئے۔
ایک مرتبہ ہارون الرشید حج کرنے کے بعد کوفہ میں آیا اور وہاں کے محدثین کو بلا بھیجا۔ تمام لوگ حاضر ہو گئے مگر عبداللہ بن ادریس اور عیسیٰ بن یونس نے حاضری سے انکار کیا۔ ہارون الرشید نے اپنے بیٹوں امین و مامون کو ان کی خدمت میں بھیجا۔ یہ دونوں جب عبداللہ بن ادریس کے پاس گئے تو انھوں نے امین کو مخاطب کر کے سو حدیثیں پڑھ دیں۔ مامون بھی بیٹھا ہوا سنتا رہا۔ جب وہ خاموش ہوئے تو مامون نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں ان احادیث کو سنا دوں‘ چنانچہ انھوں نے اجازت دی اور مامون نے بلا کم و کاست تمام حدیثیں سنا دیں۔ ابن ادریس مامون کی قوت حافظہ کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔
مامون الرشید نے ایک مرتبہ ذکر کیا کہ میں کسی شخص کے جواب سے ایسا بند نہیں ہوا جیسا کہ ایک مرتبہ اہل کوفہ نے مجھ کو لاجواب کر دیا۔ بات یہ تھی کہ انھوں نے آ کر کوفہ کے عامل کی شکایت کی۔ میں نے کہا تم لوگ جھوٹ کہتے ہو‘ وہ عامل نہایت عادل ہے۔ انھوں نے کہا کہ بے شک ہم جھوٹے اور امیرالمومنین سچے ہیں لیکن اس عامل کے عدل کے لیے ہمارا ہی شہر کیوں مخصوص کیا گیا ہے‘ اس کو کسی دوسرے شہر میں بھیج دیجئے‘ تاکہ وہ شہر بھی اس کے عدل سے ویسا ہی فائدہ اٹھائے جیسا ہمارا شہر اٹھا چکا ہے۔ مجبوراً مجھے کہنا پڑا کہ اچھا جائو میں نے اسے معزول کیا۔
یحییٰ بن اکثم کا قول ہے کہ میں ایک رات مامون الرشید کے کمرے میں سویا۔ آدھی رات کے وقت مجھے پیاس لگی‘ میں کروٹیں بدلنے لگا‘ مامون نے پوچھا کیا حال ہے‘ میں نے کہا پیاس لگی ہے‘ مامون اپنے بستر سے اٹھا اور پانی لایا اور مجھے پلایا۔ میں نے کہا آپ نے کسی خادم کو آواز کیوں نہ دی۔ مامون نے کہا کہ میرے باپ نے اپنے باپ سے اور انھوں نے اپنے دادا سے اور انھوں نے عقبہ بن عامر سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ قوم کا سردار ان کا خادم ہوتا ہے۔۲؎
۱؎اس روایت کی سند نہیں مل سکی۔ البتہ ایک صحیح حدیث میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ فرمایا کہ : ’’جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا لے اور اس میں جو گندگی (مٹی) لگ گئی ہو اسے صاف کر لے اور کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے اور اپنے ہاتھ کو تولیے سے نہ پونچھے‘ یہاں تک کہ (پہلے) اپنی انگلیاں چاٹ لے۔ اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کون سے کھانے میں برکت ہے؟‘‘ (صحیح مسلم‘ کتاب الاشربہ‘ حدیث ۲۰۳۳ و ۲۰۳۴)
۲؎صحیح مسلم اور سنن ترمذی میں سید القوم کی بجائے ساقی القوم کے الفاظ ہیں‘ یعنی قوم کا پلانے والا (صحیح مسلم‘ کتاب الصلوٰۃ‘ با الصلوٰۃ الفائتۃ۔ سنن ترمذی‘ ابواب الاشربہ‘ حدیث ۱۸۹۴‘ حدیث حسن صحیح)
خلیفہ مامون الرشید کے کاموں اور کارناموں میں سب سے زیادہ قابل تعریف اور قابل تذکرہ یہ بات ہے کہ اس نے ولی عہد بنانے میں نہایت نیک نیتی اور بلند ہمتی کا ثبوت دیا اور محبت پدری کے فریب میں نہیں آیا جیسا کہ اس سے پہلے خلفاء ولی عہدی کے معاملے میں غلطی کا ارتکاب کرتے اور حکومت اسلامیہ کے لیے ولی عہدی کے متعلق وراثت کی لعنت کو مضبوط و استوار بناتے رہے۔ مامون الرشید نے امام علی رضا کو ولی عہد خلافت بنا کر خاندان عباسیہ کو بالکل محروم رکھ کر نہایت آزادی کے ساتھ ایک بہترین شخص کا انتخاب اسی نمونہ پر کیا تھا جیسا کہ صدیق اکبرؓ نے سیدنا عمر فاروقؓ کو اپنا ولی عہد بنایا تھا۔ مگر مامون الرشید کو بہت جلد معلوم ہو گیا کہ عباسی لوگ اس پر کسی طرح رضا مند نہ ہوں گے اور فتنہ و فساد پر آمادہ ہو کر عالم اسلامی کو مبتلائے مصیبت کر دیں گے۔ مگر امام علی رضا کی وفات نے مامون کے اس منشاء کو پورا نہ ہونے دیا۔
اس کے بعد اس نے اپنے خاندان میں سے اپنے بھائی ابواسحٰق معتصم کو ولی عہد بنایا اور اپنے بیٹے عباس کو جو ہر طرح حکومت و خلافت کی قابلیت رکھتا تھا‘ محروم رکھا۔ معتصم چونکہ عباس سے بھی زیادہ حکومت و سلطنت کی اہلیت رکھتا تھا لہٰذا اس نے معتصم ہی کو انتخاب کیا اور اپنے بیٹے کی مطلق پرواہ نہ کی۔ مامون کے پیش رو خلفاء صرف ایک ہی ولی عہد نہیں بلکہ دو دو ولی عہدوں کے تعین کی بدعت کے مرتکب ہوتے رہے تھے۔ مامون اگر ان کی تقلید کرتا تو معتصم کے بعد اپنے بیٹے عباس کو نامزد کر سکتا تھا۔ اور اس طرح اس کو اطمینان ہو سکتا تھا کہ معتصم کے بعد میرا بیٹا خلیفہ ہو گا۔ لیکن اس نے اس نا معقول حرکت کو بھی پسند نہیں کیا۔ اس معاملے میں مامون الرشید کی جس قدر تعریف کی جائے وہ بہت کم ہے۔