مامون الرشید

مامون الرشید کی وفات

سفر روم سے واپسی میں نہر بذندون کے کنارے ایک روز مقام ہوا۔ ۱۳ جمادی الثانی ۲۱۸ھ کو یہیں بخار میں مبتلا ہوا۔ اور یہیں ۱۸ رجب ۲۱۸ھ بروز پنج شنبہ فوت ہوا۔ مرنے سے پہلے امرا و اراکین اور علماء و فقہاء کو اپنے رو برو بلا کر وصیت کی اور اپنے کفن دفن کے متعلق ہدایات کیں۔ اپنے مرنے کے بعد لوگوں کو رونے اور ہائے وائے کرنے سے منع کیا۔ پھر اپنے بھائی ابو اسحٰق معتصم کو جس کو ولی عہد سلطنت بنا چکا تھا بلا کر نصیحتیں کیں اور اصول جہاں بانی کی طرف توجہ دلائی۔ پھر قرآن کریم کی آیات پڑھتا رہا۔ ایک مرتبہ بول اٹھا کہ اے وہ جس کی سلطنت کبھی زائل نہ ہو گی اس پر رحم کر جس کی سلطنت زائل ہو رہی ہے۔ اس کے بعد قوت ہو گیا۔ اس کا بھائی ابواسحٰق معتصم اور اس کا بیٹا عباس بذندون علاقہ رقہ سے مقام طرطوس میں لائے اور دفن کیا۔ مامون نے ۴۸ سال کی عمر پائی اور ساڑھے بیس سال حکومت کی۔ مامون کا تمام عہد خلافت لڑائیوں اور بغاوتوں کے فرو کرنے میں گذرا۔ مہم زط اور بابک خرمی کو اس نے نا تمام چھوڑا‘ یعنی دونوں فتنے اس کے عہد خلافت میں فرو نہ ہو سکے درحقیقت مامون کی حکومت و ملک گیری کا زمانہ اب شروع ہوا تھا کہ اس کو موت آ گئی‘ اس نے اپنے آخر ایام حیات میں اپنی بہادری و سپہ سالاری کی قابلیت کا ثبوت بھی دے دیا۔ رومیوں کے مقابلے میں اس نے پیہم کئی سال تک جہاد کئے اور اس میں ذرا شک نہیں کہ وہ حالت جہاد اور میدان جنگ ہی میں فوت ہوا۔