مامون الرشید
نصر بن شیث کی بغاوت کا خاتمہ
نصر بن شیث کا حال اوپر مذکور ہو چکا ہے یہ امین بن ہارون سے دوستی و محبت رکھتا تھا۔ قتل امین کی خبر سن کر اور عربی عنصر کو مغلوب اور عجمیوں کو خلافت اسلامیہ پر حاوی دیکھ کر بغاوت و سرکشی پر آمادہ ہو گیا تھا۔ اس کو علویوں سے کوئی ہمدردی نہ تھی۔ مگر عجمیوں کی مخالفت و نفرت نے اس کو مامون کے مقابلہ پر آمادہ کر دیا تھا۔ عبداللہ بن طاہر سے پہلے طاہر بن حسین اس کے مقابلہ پر بے دلی کے ساتھ کام کرتا رہا۔ لہٰذا نصر بن شیث عقیلی کا تادیر مقابلوں میں ثابت قدم و محفوظ رہنا اس کی شہرت و حوصلہ کی ترقی کا سبب بن گیا۔ صوبہ جزیرہ کے قریباً تمام اضلاع پر اس نے قبضہ کر لیا تھا۔ اور حلب کے شمال مقام کیسوم میں مقیم تھا۔ آخر ۲۰۹ھ میں عبداللہ بن طاہر نے ہر طرف سے اس کو گھیر کر کیسوم میں محصور کر لیا اور نصر نے شدت محاصرہ اور اپنی سخت مجبوری کے عالم میں بلا شرط ہتھیار رکھ کر اپنے آپ کو عبداللہ بن طاہر کے سپرد کر دیا۔ عبداللہ نے اس کو مامون کے پاس بغداد کی طرف روانہ کیا۔ مامون کے دربار میں حاضر ہوا اور مامون نے صفر ۲۱۰ھ میں اس کو مدینۃ المنصور میں نظر بند کر دیا۔