مامون الرشید

حجاز و یمن کی بدامنی

جیسا کہ اوپر مذکور ہو چکا ہے ابوالسرایا نے آل ابی طالب ہی کو صوبوں اور ولایتوں کی حکومت پر مقرر کیا تھا‘ ہر جگہ حکومت عباسیہ کے خلاف علوی ہی مصروف عمل تھے‘ یہ ابوالسرایا کی دانائی تھی کہ اس نے علویوں کو صوبوں اور ولایتوں کی حکومتیں دے کر بظاہر اپنی حکومت کو علوی حکومت بنا دیا تھا‘ ابوالسرایا کا خاتمہ ہو گیا لیکن اکثر علوی جو صوبوں پر قابض و متصرف ہو چکے تھے انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی خلافت قائم کرنے کی جدوجہد میں برابر مصروف رہے‘ قتل امین کے بعد علویوں کو نہایت ہی زریں موقعہ ہاتھ آ گیا تھا‘ کیوں کہ خود مامون پر جن لوگوں نے قبضہ حاصل کر لیا تھا یعنی فضل و حسن پسران سہل بھی ایرانی النسل ہونے کے سبب آل ابی طالب کو آل عباس سے بہتر سمجھتے تھے۔ اور ان کا میلان خاطر علویوں کی طرف زیادہ تھا۔ مامون نے خود جعفر برمکی سے تربیت پائی تھی۔ اس لیے اس کے دل میں بھی سادات کی عزت و عظمت بہت زیادہ تھی اور اس کے وزیراعظم کو بہترین موقع حاصل تھا کہ وہ امین کے قتل سے فارغ ہونے کے بعد سلطنت کا رخ علویوں کی جانب پھیر دے۔ مگر ہرثمہ بن اعین کی فوجی قابلیت نے ابوالسرایا کا خاتمہ کر کے عراق کو صاف کر دیا اور علویوں کے طرز حکومت نے ان کو حجاز و یمن میں ناکام رکھا۔ جس کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب ابوالسرایا نے حسین افطس یعنی حسین بن حسن بن علی بن حسین کو مکہ کا حاکم بنا کر روانہ کیا تو اتفاقاً مکہ میں ہارون الرشید کا مشہور خادم مسرور معہ سو ہمراہیوں کے گیا ہوا تھا۔ اس زمانے میں مامون کی طرف سے مکہ کا عامل دائود بن عیسیٰ بن موسیٰ عباسی تھا۔ مسرور اور دائود نے مکہ میں حسین افطس کے آنے کی خبر سن کر آل عباس اور ہمدردان آل عباس کا ایک جلسہ منعقد کر کے مشورہ کیا کہ اب ہم کو کیا کرنا چاہیئے‘ مسرور اور دوسرے لوگوں نے مقابلہ اور جنگ کرنے کی رائے دی مگر دائود نے کہا کہ میں حرم شریف میں قتل و خون ریزی کو پسند نہیں کرتا۔ اگر حسین افطس مکہ میں ایک طرف سے داخل ہوا تو میں دوسری طرف سے نکل جائوں گا۔ مسرور یہ سن کر خاموش ہو گیا اور دائود نے حسین افطس کے قریب پہنچنے کی خبر سن کر عراق کی طرف کوچ کر دیا۔ یہ دیکھ کر مسرور بھی مکہ سے چل دیا‘ حسین افطس مکہ سے باہر مقیم اور داخل ہونے میں متامل تھا‘ اس نے جب یہ سنا کہ مکہ آل عباس سے خالی ہو گیا ہے تو وہ صرف دس آدمیوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوا۔ طواف کیا اور ایک شب مکہ میں مقیم رہ کر اپنے اور ہمراہیوں کو بھی بلا کر مکہ پر قبضہ کر لیا اور حکومت کرنے لگا۔ ابراہیم بن موسیٰ بن جعفر صادق نے یمن میں پہنچ کر مامون کے عامل اسحٰق بن موسیٰ بن عیسیٰ کو یمن سے بھگا دیا اور یمن پر قابض و متصرف ہو کر حکومت شروع کی۔ حسین افطس نے خانہ کعبہ کا غلاف اتار کر دوسرا غلاف جو ابوالسرایا نے کوفہ سے بھیجا تھا‘ چڑھایا۔ بنو عباس کے مال و اسباب اور گھروں کو لوٹ لیا۔ ان کی امانتوں کو جبراً لوگوں سے چھین لیا۔ پھر عام مکہ والوں کے مال و اسباب پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ کعبہ شریف کے ستونوں پر جس قدر سونا چڑھا ہوا تھا اس کو اتار لیا۔ خانہ کعبہ کے خزانہ میں جس قدر نقد و جنس تھا سب کو نکال کر اپنے ہمراہیوں میں تقسیم کر دیا۔ حسین افطس کے ہمراہیوں نے حرم شریف کی جالیوں تک کو توڑ ڈالا۔ ادھر ابراہیم نے یمن پہنچ کر قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا اور بے گناہوں کو بکثرت قتل کرنے کی وجہ سے قصاب کا خطاب پایا۔ چنانچہ ابراہیم قصاب کے نام سے اب تک تعبیر کیا جاتا ہے۔ علویوں کے دوسرے سرداروں نے بھی جو ابراہیم بن موسیٰ اور حسین افطس کی طرف سے فوجوں اور علاقوں کی سرداریاں رکھتے تھے لوٹ مار اور قتل و غارت میں کمی نہیں کی۔ زید بن موسیٰ کا حال اوپر پڑھ چکے ہو کہ بصرہ میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر کے زید النار کا خطاب پایا تھا۔ غرض علویوں نے ابوالسرایا کی طرف سے حکومتیں پا کر اپنی چند روزہ حکمرانی میں ایک اودھم مچا دی اور غالباً ان کا یہ ظالمانہ و سفاکانہ طرز عمل ہی ان کی ناکامی و نامرادی کا باعث ہوا۔ جب مکہ میں ابوالسرایا کے قتل کی خبر پہنچی تو اہل مکہ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے‘ حسین افطس نے محمد بن جعفر صادق بن محمد باقر بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب کے پاس جا کر کہا کہ یہ موقعہ بہت مناسب ہے۔ لوگوں کے قلوب آپ کی طرف مائل ہیں ابوالسرایا مارا جا چکا ہے‘ آپ اپنی خلافت کی لوگوں سے بیعت لیں۔ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کئے لیتا ہوں‘ پھر کوئی شخص آپ کی مخالفت نہ کرے گا۔ محمد بن جعفر ملقب بہ دیباچہ عالم نے انکار کیا مگر حسین افطس اور محمد بن جعفر کا لڑکا علی دونوں برابر اصرار کرتے رہے۔ آخر محمد بن جعفر بیعت لینے پر آمادہ ہو گئے۔ لوگوں نے ان کی بیعت کر لی۔ اور وہ امیرالمومنین کے لقب سے پکارے جانے لگے۔ اس کے بعد حسین افطس اور محمد بن جعفر کے بیٹے علی نے بد اعمالیوں پر کمر باندھی۔ دونوں نے یہاں تک زنا کاری میں ترقی کی کہ مکہ کی عورتوں کو اپنی عصمت کا بچانا دشوار ہو گیا۔ سر بازار عورتوں اور مردوں کو بے عزت کرنے لگے۔ اوباش لوگوں کی ایک جماعت ان کے ساتھ ہو گئی اور یہ رات دن ان افعال شنیعہ میں مصروف رہنے لگے۔ مکہ کے قاضی محمد نامی کا لڑکا اسحٰق بن محمد ایک روز بازار میں جا رہا تھا۔ علی بن محمد بن جعفر یعنی امیرالمومنین کے صاحبزادے نے اس کو پکڑوا کر بلوا لیا اور اپنے گھر میں بند کر لیا۔ لوگوں نے یہ حالت دیکھ کر ایک جلسہ کیا اور سب اس بات پر متفق و آمادہ ہو گئے کہ محمد بن جعفر صادق کو معزول کیا جائے اور قاضی مکہ کے لڑکے کو علی بن محمد کے پاس سے واپس چھڑایا جائے‘ لوگوں نے شور و غل مچاتے ہوئے محمد بن جعفر امیرالمومنین کے گھر جا کر گھیرا کیا تو انہوں نے لوگوں سے امان طلب کی اور خود اپنے بیٹے علی کے گھر میں گئے تو وہاں اس لڑکے کو موجود پایا اور علی سے لے کر لوگوں کے حوالے کیا۔ اوپر پڑھ چکے ہو کہ ابراہیم بن موسیٰ کاظم المعروف بہ ابراہیم قصاب نے یمن کے عامل اسحٰق بن موسیٰ بن عیسیٰ کو بھگا دیا تھا۔ اسحٰق بن موسیٰ یمن ہی میں موقعہ کا منتظر رو پوش رہا۔ اب علویوں کی اس ظالمانہ حکومت اور لوگوں کی نفرت کو دیکھ کر اس نے ایک لشکر بآسانی فراہم کر لیا۔ ابراہیم بھی یمن سے مکہ آیا ہوا تھا۔ اسحٰق نے یمن سے روانہ ہو کر مکہ پر حملہ کیا۔ علویوں نے ارد گرد کے بدوئوں کو جمع کیا اور خندقیں کھود کر اسحٰق کے مقابلے پر مستعد ہو گئے۔ اسحٰق نے اول تو صف آرائی کی مگر پھر کچھ سوچ کر وہاں سے سیدھا عراق کی جانب چل دیا۔ ادھر حسن بن سہل نے عراق سے فارغ ہو کر ہرثمہ بن اعین کو حجاز و یمن کے فسادات مٹانے کی طرف توجہ دلائی۔ ہرثمہ نے رجاء بن جمیل اور جلودی کو ایک فوج دے کر مکہ کی جانب روانہ کیا۔ ہرثمہ کا فرستادہ یہ لشکر ادھر سے جا رہا تھا ادھر سے اسحٰق آ رہا تھا۔ راستے میں دونوں کی ملاقات ہوئی۔ اسحٰق بھی ان لوگوں کے ساتھ مکہ کی جانب لوٹ پڑا وہاں پہنچ کر علویوں کو مقابلہ پر مستعد پایا۔ سخت معرکہ آرائی کے بعد علویوں کو شکست ہوئی اور عباسی لشکر فتح مند ہو کر مکہ میں داخل ہوا۔ محمد بن جعفر نے امان طلب کی‘ ان کو امان دی گئی‘ محمد بن جعفر مکہ سے جحفہ اور جحفہ سے بلاد جہنیہ کی طرف چلے گئے‘ وہاں انھوں نے لشکر جمع کرنا شروع کیا۔ جب ایک بڑا لشکر جمع ہو گیا تو مدینہ منورہ پر حملہ کیا۔ مدینہ کے عامل ہارون بن مسیب نے مقابلہ کیا۔ متعدد لڑائیاں ہوئیں‘ آخر دیباچہ عالم محمد بن جعفر صادق نے شکست فاش کھائی۔ اور بلاد جہنیہ کی طرف واپس آئے۔ اسی لڑائی میں ایک آنکھ بھی جاتی رہی اور ہمراہی ان کے بہت زیادہ مارے گئے۔ اگلے سال موسم حج میں رجا بن جمیل اور جلودی سے جو ابھی تک مکہ کی حکومت پر مامور تھے امان حاصل کر کے مکہ میں آئے اور لوگوں کو جمع کر کے خطبہ دیا کہ میں جانتا تھا کہ مامون الرشید فوت ہو چکا ہے۔ اسی لیے میں نے لوگوں سے بیعت لی تھی۔ اب صحیح خبر پہنچ گئی ہے کہ مامون زندہ ہے۔ لہٰذا میں تم لوگوں کو اپنی بیعت سے سبکدوش کرتا ہوں۔ حج ادا کرنے کے بعد ۲۰۱ھ میں حسن بن سہل کے پاس بغداد چلے گئے۔ اس نے مامون کے پاس بھیج دیا۔ مامون نے ان کو عزت سے رکھا۔ جب مرو سے عراق کی جانب روانہ ہوئے تو راستے میں بمقام جرجان فوت ہوئے۔