ابو جعفر ہارون الرشید بن مہدی

ملک شام میں بدامنی

۱۷۶ھ میں ملک شام کے اندر صفریہ و یمانیہ قبائل کی خانہ جنگی نے ترقی کر کے خطرناک صورت اختیار کی۔ دمشق کا گورنر عبدالصمد بن علی اس خانہ جنگی کے فرو کرنے میں ناکام رہا تو ہارون الرشید نے عبدالصمد کو معزول کر کے ابراہیم بن صالح کو شام کی گورنری پر مامور کیا۔ مگر ابراہیم بن صالح نے یمانیہ قبائل کی درپردہ اعانت و حمایت کی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرصہ دراز تک یہ فتنہ فرو نہ ہوا اور قبائل مضر نے دمشق پر قبضہ کر کے کئی مرتبہ حاکم دمشق کو بے دخل اور معطل کیا۔ آخر مجبور ہو کر ہارون الرشید نے جعفر بن یحییٰ برمکی کو شام کی طرف روانہ کیا‘ اور ۱۸۰ھ میں جعفر برمکی اس فساد کو فرو کرنے کے بعد دار الخلافہ بغداد میں واپس آیا۔ اسی سال یعنی ۱۷۶ھ میں افواج صائفہ کے سردار عبدالرحمن بن عبدالملک بن صالح نے رومیوں کے شہر ویسہ کو فتح کیا اور رومی لشکر کو کئی شکستیں دیں۔