مروان بن محمد بن مروان بن حکم

بنو امیہ کا عباسیوں کے ہاتھ سے قتل عام

خلافت اسلامیہ کو جو قوم یا خاندان وراثتاً اپنا حق سمجھے وہ سخت غلطی اور ظلم میں مبتلا ہے‘ بنو امیہ نے اگر حکومت اسلامی کو اپنی ہی قوم اور خاندان میں باقی رکھنا چاہا تو یہ ان کی غلطی تھی‘ بنوعباس‘ بنوہاشم اگر اس کو اپنا خاندانی حق سمجھتے تھے تو یہ ان کی بھی (غلطی و نا انصافی تھی) مگر چونکہ دنیا میں عام طور پر لوگ اس غلطی میں مبتلا ہیں لہٰذا سلطنت اور حکومت میں بھی حق وراثت کو جاری سمجھا جاتا ہے‘ اس بنا پر جو شخص کسی غاصب سلطنت سے اپنا حق سلطنت واپس چھینتا ہے وہ اکثر قتل و تشدد سے کام لیا کرتا ہے‘ لیکن اس قتل و تشدد کو بنوعباس نے بنو امیہ کے حق میں جس طرح روا رکھا ہے اس کی مثال کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔ ہاں تاریخی زمانہ سے گزر کر اگر نیم تاریخی حکایات کو قابل اعتنا سمجھا جائے تو بخت نصر نے بنی اسرائیل کے قتل کرنے میں بڑی سفاکی و بیباکی سے کام لیا تھا اور بنی اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہا تھا‘ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی قوم آج تک دنیا میں موجود ہے‘ اس سے بھی بڑھ کر ہندوستان میں آریوں نے غیر آریوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی مگر کوہ ہمالیہ وبندہیاچل کے جنگلوں اور راجپوتانہ کے ریگستانوں نے غیر آریوں کی نسلوں کو اپنے آغوش میں چھپائے رکھا اور ہندوئوں کی شودر قوموں کی صورت میں وہ آج بھی ہندوستان کی آبادی کا ایک قابل تذکرہ حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ہندوستان کے آریہ بھی ایرانی و خراسان لوگ تھے‘ عباسیوں کے خراسانی سپہ سالار بھی بنوامیہ کے قتل و غارت میں عباسیوں کو ایسے مظالم اور ایسے تشدد پر آمادہ کر سکے کہ ہندوستان کے غیر آریوں کی مظلومی کے افسانے درست نظر آنے لگے۔ دنیا کی خفیہ انجمنوں کے حالات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان خفیہ سازشوں کو کامیاب بنانے والے حد سے زیادہ قتل و خونریزی اور مظالم و بے رحمی کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔ خاندان بنو امیہ سے خلافت اسلامیہ کو نکالنا کوئی جرم نہ تھا لیکن خاندان بنو امیہ سے خلافت اسلامیہ کو نکال کر ایک دوسرے خاندان کو اسی طرح خلافت اسلامیہ کے سپرد کر دینا ہرگز کوئی خوبی کی بات نہ تھی‘ اسلام اور عالم اسلام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا لہٰذا بنوعباس کو نہایت ہی قابل شرم خونریزی اور قتل و غارت کا ارتکاب کرنا پڑا۔ ابومسلم اور قحطبہ بن شبیب اور دوسرے نقباء اہل بیت نے خراسان کے شہروں میں جس قدر قتل عام کا بازار گرم کیا اس کا کچھ تھوڑا تھوڑا تذکرہ اوپر کے صفحات میں آچکا ہے‘ امام ابراہیم نے خود ابومسلم کو اپنے آخری خط میں تاکیدی طور پر لکھا تھا کہ خراسان میں کسی عربی بولنے والے کو زندہ نہ رکھنا‘ اس سے بھی ان کا مدعا یہی تھا کہ بنو امیہ کے طرفدار لوگ خراسان میں وہی عربی قبائل تھے جو فاتحانہ خراسان میں سکونت پذیر تھے‘ جبکہ باشندگان خراسان کو جو نو مسلم تھے وہ سب کے سب دعوت عباسیہ کے معمول بن سکتے تھے۔ لہٰذا ابو مسلم نے اموی اثر و رسوخ اور باقیات کو ختم کرنے کے لیے عرب لوگ قتل کرائے اور نتیجہ یہ ہوا کہ ملک خراسان میں جو کثیرالتعداد عربی قبائل پہنچ کر اس ملک کی زبان‘ معاشرت‘ تمدن کو عربی بنانے میں کامیابی حاصل کر رہے تھے سب کے سب قتل ہو گئے اور عربی عنصر جو تمام ملک کو اپنا ہم رنگ بنا رہا تھا یک لخت مغلوب و بے اثر و ناپید ہو گیا‘ جس کی وجہ سے ایرانی زبان و تمدن‘ ایرانی معاشرت‘ ایرانی اخلاق مرتے مرتے پھر زندہ ہو گئے اور ایران و خراسان جو مصر کی طرح سے آج عربی ملک ہوتے پھر فارسی ملک بن گئے۔ ابو مسلم خود خراسانی اور ایرانی النسل تھا‘ اس کو عربوں کے قتل سے زیادہ دوسرا دلچسپ کام نہیں ہو سکتا تھا‘ قومی تعصب جس کو اسلام نے بالکل مٹا دیا تھا‘ عہد بنوامیہ میں پھر عود کر آیا تھا‘ اور اسی قومی عصبیت اور قبائلی افتراق کے واپس آجانے کا نتیجہ تھا کہ بنو امیہ نے جس طرح تمام عربی قبائل بالخصوص بنو ہاشم کو مجبور بنا دیا تھا‘ اس لیے وہ ہر ایک شخص کو جس کی نسبت انہیں معلوم ہو جاتا تھا کہ یہ قبیلہ بنوامیہ سے تعلق رکھتا ہے نہایت خوف اور دہشت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اب انہوں نے قابو پاتے ہی اپنی تمام قوت اس خوف و خطر سے محفوظ رہنے کے لیے صرف کر دی اور مصمم ارادہ کر لیا کہ اس قبیلہ کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کر دیا جائے۔ عبداللہ سفاح کا چچا عبداللہ بن علی جب ۵ رمضان ۱۳۲ھ کو دمشق میں داخل ہوا ہے تو اس نے قتل عام کا حکم دیا‘ جب آخری اموی خلیفہ مروان بن محمد بوصیر میں قتل ہو چکا تو عباسیوں کے لیے سب سے ضروری کام بنوامیہ کا استیصال تھا‘ لیکن خلافت بنوامیہ کے قصر رفیع کو منہدم کرنے کے کام میں بعض بنوامیہ بھی عباسیوں کے شریک ہو گئے تھے اور فاتح عباسیوں کے ساتھ عزت و تکریم کے ساتھ رہتے تھے… اسی طرح بنو امیہ کی نسل کا تخم سوخت ہونا ممکن نہ تھا‘ لیکن ابومسلم اس کام پر کمر ہمت چست باندھ چکا تھا‘ اس نے عبداللہ سفاح اور عباسی سرداروں کو بار بار لکھا کہ بنو امیہ کے کسی فرد کو چاہے وہ کیسا ہی ہو‘ ہمدرد اور بہی خواہ کیوں نہ ہو‘ ہرگز زندہ نہ چھوڑا جائے لیکن اس مشورے پر عمل نہ ہوا کیونکہ بعض ایسے افراد تھے جنہوں نے بڑی بڑی جمعیت کے ساتھ عین نازک و خطرناک موقعوں پر عباسیوں کی شرکت اور اموی خلیفہ کی بغاوت اختیار کر کے نہایت اہم امداد پہنچائی تھی ان کو قتل کرنے سے انسانی شرافت مانع تھی۔ ابو مسلم نے یہ اہتمام کیا کہ شاعروں اور مصاحبوں کو جو عباسی خلیفہ اور عباسی سپہ سالاروں کے دربار میں آمدورفت رکھتے تھے رشوتیں بھیج بھیج کر اور اپنی طرف سے لوگوں کو یہ تعلیم دے کر روانہ کیا کہ دربار میں جاکر ایسے اشعار پڑھیں اور ایسی باتیں کریں جس سے بنوامیہ کی نسبت عباسیوں کا غصہ بھڑکے اور ان کی طبیعت میں انتقام اور قتل کے لیے اشتعال پیدا ہو‘ چنانچہ اس کوشش کا نتیجہ یہ ہوا کہ عباسیوں نے چن چن کر ہر ایک بنو امیہ کو قتل کر دیا‘ سفاح نے سلیمان بن ہشام بن عبدالملک کو سر دربار ایک ایسے ہی شاعر کے اشتعال انگیز اشعار سن کر بلا توقف قتل کرا دیا‘ حالانکہ سلیمان بن ہشام عبداللہ سفاح کی مصاحبت میں موجود اور اس کا بڑا ہمدرد تھا۔ عبداللہ بن علی جن دنوں فلسطین کی طرف تھا وہاں نہر ابی فطرس کے کنارے دستر خوان پر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا اور اسی(۸۰)نوے(۹۰) بنو امیہ اس کے ساتھ کھانے میں شریک تھے‘ اسی اثناء میں شبل بن عبداللہ آگیا‘ اس نے فوراً اپنے اشعار پڑھنے شروع کئے جن میں بنو امیہ کی مذمت اور امام ابراہیم کے قید ہونے کا ذکر کر کے بنوامیہ کے قتل کی ترغیب دی گئی تھی‘ عبداللہ بن علی (عبداللہ سفاح کے چچا) نے اسی وقت حکم دیا کہ ان سب کو قتل کر دو‘ اس کے خادموں نے فوراً قتل کرنا شروع کیا‘ ان میں بہت سے ایسے تھے جو بالکل مر گئے تھے‘ بعض ایسے بھی تھے کہ وہ زخمی ہو کر گر پڑے تھے مگر ابھی ان میں دم باقی تھا‘ عبداللہ بن علی نے ان سب مقتولوں اور زخمیوں کی لاشوں کو برابر لٹا کر ان کے اوپر دستر خوان بچھوایا اس دستر خوان پر کھانا چنا گیا اور عبداللہ بن علی معہ ہمراہیوں کے پھر اس دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے میں مصروف ہوا یہ لوگ کھانا کھا رہے تھے اور ان کے نیچے وہ زخمی جو ابھی مرے نہیں تھے کراہ رہے تھے حتیٰ کہ یہ کھانا کھا چکے اور وہ سب کے سب مر گئے۔ ان مقتولوں میں محمد بن عبدالملک ‘معز بن یزید‘ عبدالواحد بن سلیمان‘ سعید بن عبدالملک‘ ابوعبیدہ بن ولید بن عبدالملک بھی تھے‘ بعض کا بیان ہے کہ ابراہیم معزول خلیفہ بھی ان ہی میں شامل تھا۔ اس کے بعد عبداللہ بن علی بن عباس نے … خلفائے بنوامیہ کی قبروں کو آکر کھدوایا‘ عبدالملک کی قبر سے اس کی کھوپڑی برآمد ہوئی‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قبر میں سے کچھ نہ نکلا‘ بعض قبروں سے بعض اعضاء برآمد ہوئے‘ باقی سب مٹی بن چکے تھے‘ ہشام بن عبدالملک کی قبر کھودی گئی تو صرف ناک کی اونچائی جاتی رہی تھی‘ باقی تمام لاش صحیح سالم نکلی‘۱؎ عبداللہ بن علی نے اس لاش کو کوڑے لگوائے‘ پھر اس کو صلیب پر چڑھایا‘ پھر جلا کر اس کی راکھ ہوا میں اڑا دی۔ عبداللہ بن علی کے بھائی سلیمان بن علی بن عبداللہ بن عباس نے بصرہ میں بنوامیہ کے ایک گروہ کو قتل کر کے لاشوں کو راستے میں پھینکوا دیا اور دفن کرنے کی ممانعت کر دی‘ ان لاشوں کو مدتوں کتے ۱؎حدیث رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر رکھا ہے کہ وہ انبیاءo کے جسموں کو کھائے۔ (ابوداود‘ کتاب الوتر‘ حدیث ۱۵۳۱۔ نسائی‘ کتاب الجمعہ‘ حدیث ۱۳۷۷۔ ابن ماجہ‘ کتاب اقامۃ الصلوٰۃ والسنۃ فیھا‘ حدیث ۱۰۸۴‘ حدیث صحیح الالبانی رحمہ اللہ تعالی ) کھاتے رہے‘ عبداللہ بن علی کے دوسرے بھائی یعنی سفاح کے چچا دائود بن علی نے مکہ و مدینہ اور حجاز و یمن میں چن چن کر ایک ایک اموی کو قتل کرا دیا اور بنو امیہ میں سے کسی کا نام و نشان باقی نہ رکھا۔ غرض تمام ممالک محروسہ میں حکم عام جاری کر دیا گیا کہ جہاں کوئی بنو امیہ نظر آئے اس کو بلا دریغ قتل کر دیا جائے‘ ولایتوں کے والی اور شہروں کے حاکم جو عموماً عباسی تھے اپنی اپنی جگہ اسی تجسس میں مصروف رہنے لگے کہ کہیں کسی بنوامیہ کا پتہ چلے اور اس کو قتل کیا جائے‘ یہاں تک کہ جس طرح کسی درندے کا شکار کرنے کے لیے لوگ گھر سے نکلتے ہیں اسی طرح بنوامیہ کا شکار کرنے کے لیے روزانہ لوگ گھروں سے نکلتے تھے‘ بنوامیہ کے لیے کوئی مکان‘ کوئی گائوں‘ کوئی قصبہ‘ کوئی شہر جائے امن نہ رہا اور برسوں ان کوتلاش کر کے عباسی لوگ قتل کرتے رہے۔۱؎ خراسان میں ابومسلم نے یہ کام اور بھی زیادہ اہتمام و ہمت کے ساتھ انجام دیا تھا‘ اس نے نہ صرف بنوامیہ بلکہ ان لوگوں کو بھی جنہوں نے کبھی نہ کبھی بنوامیہ کی حمایت یا کوئی خدمت انجام دی تھی قتل کرا دیا‘ اس قتل عام میں بچ بچ کر جو لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ بھاگ کر جا سکے انہوں نے اپنے بھیس بدل بدل کر نام اور قوم دوسری بتا بتا کر ہر جگہ سرحدوں کی طرف رخ کیا۔ خراسان کے صوبوں اور ولایتوں میں چونکہ یہ قتل عام بہت زیادہ سخت و شدید تھا‘ یہاں جو بنوامیہ اور ان کے ہمدرد قبائل تھے وہ سندھ‘ کوہ سلیمان اور کشمیر کی طرف بھاگ کر پناہ گزین ہوئے‘ جن لوگوں نے اپنے قبیلوں کے نام بدل دیئے تھے وہ بھی رفتہ رفتہ اسلامی حدود سے باہر نکل آئے‘ کیونکہ ان کو سلطنت عباسیہ کی حدود میں اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ مفرور عربی قبائل جو سندھ و کشمیر و پنجاب وغیرہ کی طرف بھاگ کر آئے تھے کہا جاتا ہے کہ ان کی نسلیں آج تک ہندوستان میں موجود ہیں اور اپنے بدلے ہوئے ناموں اور پیشوں کی وجہ سے اپنے عربی نژاد ہونے کو بھول گئی ہیں۔ بنو امیہ کا ایک شخص عبدالرحمن بن معاویہ بن ہشام شکار ہوتے ہوتے بال بال بچ گیا اور فرار ہو کر مصر و قیروان ہوتا ہوا اندلس میں پہنچ گیا‘ اندلسی چونکہ دعوت عباسیہ کے اثر سے نسبتاً پاک تھا اور وہاں بنوامیہ کے ہواہ خواہ بکثرت موجود تھے‘ لہٰذا اندلس پہنچتے ہی اس ملک پر قابض ہو گیا اور ایک ایسی سلطنت و خلافت قائم کرنے میں کامیاب ہوا جس کو عباسی خلفاء ہمیشہ رشک کی نگاہوں سے دیکھتے رہے اور اس اموی سلطنت کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ ۱؎گویا عصبیت کی انتہا ہو گئی تھی کہ بنو امیہ کو درندوں کی طرح شکار کیا جاتا تھا۔ یہ عباسیوں کی جاہلانہ سوچ تھی۔ جبکہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں عصبیت کی طرف بلانے والے کی اسی حالت میں موت کو جاہلیت کی موت کہا گیا ہے۔