مروان بن محمد بن مروان بن حکم

بنوامیہ کے رقیبوں کی کوشش

شہادت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بعد ہاشمیوں اور امویوں میں جو رقابت پیدا ہوئی اس کا نتیجہ بحسب ظاہر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے خلافت سے دست بردار ہو جانے پر یہ نکلا کہ بنوامیہ نے بنو ہاشم پر غلبہ پالیا اور بازی لے گئے‘ جمل اور صفین کی معرکہ آرائیوں اور خارجیوں کی لڑائیوں کے بعد خلافت کا بنوامیہ میں چلا جانا بنو ہاشم کی ایک ایسی ناکامی تھی کہ وہ خلافت کے حصول کے لیے اپنی تلواروں کو کند محسوس کر چکے تھے اور جلد طاقت کے استعمال پر آمادہ نہیں ہو سکتے تھے لیکن سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد یزید کا خلیفہ مقرر ہونا اور ولی عہدی کی بدعت کا ایجاد ہونا بنوامیہ کے لیے بے حد مضر اور ان کی کمزوری کا سامان تھا‘ لہٰذا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جرأت سے کام لیا اور اپنے ہمدردوں کی نصیحت پر عمل نہ کیا‘ جس کے نتیجے میں کربلا کا حادثہ رونما ہوا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے کمزور جانشین یزید اور یزید کے غلط کار اہل کار ابن زیاد نے اپنے غلط اعمال سے بنو ہاشم کی ہمتوں کو تو زیادہ پست کر دیا لیکن ساتھ ہی حکومت بنوامیہ کی قبولیت کو نقصان پہنچا کر عام لوگوں کو بنوامیہ کی مخالفت کے اظہار پر دلیر بنا دیا‘ جس کے نتیجے میں ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ پیش آیا‘ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ جب پیش آیاتو حکومت بنوامیہ کا تاج دار ایک زبردست شخص تھا‘ اس لیے وہ حکومت امیہ کی اس کمزوری کو جلد دور کر کے نہ صرف اقتدار رفتہ ہی کو قائم کر سکا بلکہ اس نے پہلے سے بھی زیادہ لوگوں کو مرعوب و خوفزدہ بنا دیا‘ اب ہاشمیوں کے لیے تلوار کے استعمال اور طاقت کے اظہار کا کوئی موقع باقی نہ رہا تھا انہوں نے اپنے جوش انتقام کے لیے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا اور ان کاروائیوں سے فائدہ اٹھایا‘ جو وہ عبداللہ بن سبا اور اس کے اتباع کی دیکھ چکے تھے اور جن کے سبب وہ صفین اور اذرح میں ناکام ہوچکے تھے۔ ہاشمیوں میں صرف دو ہی گھرانے سردار و مقتدا پائے جاتے تھے‘ ایک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اولاد اور دوسری سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب کی اولاد‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے چچازاد بھائی اور داماد تھے اورسیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا تھے‘ یہ دونوں گھرانے اہل بیت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں شمار ہوتے تھے اس لیے ان کی عظمت و سیادت سب کو تسلیم تھی‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چونکہ بنوامیہ کے مقابلہ میں براہ راست مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا‘ اس لیے علویوں میں عباسیوں کی نسبت زیادہ جوش تھا‘ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے سبب علویوں میں سے فاطمیوں کو زیادہ جوش تھااور وہ زیادہ درپے انتقام تھے۔ علویوں میں دو گروہ تھے‘ ایک وہ جو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد کو مستحق خلافت سمجھتے تھے‘ ایک وہ جو محمد بن الحنفیہ کو سب سے زیادہ خلافت کا حق دار مانتے تھے‘ تیسرا گروہ عباسیوں کا تھا۔ سب سے زیادہ طاقتور گروہ فاطمیوں یا حسینیوں کا تھا کیونکہ واقعہ کربلا کی وجہ سے ان لوگوں کو زیادہ ہمدردی حاصل تھی‘ دوسرے یہ کہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنھا کی اولاد ہونے کے سبب بھی وہ زیادہ محبوب و مکرم تھے۔ ان کے بعد دوسرا گروہ محمد بن الحنفیہ کا تھا اس کے بعد عباسیوں کا مرتبہ تھا‘ بعد میں فاطمیوں کے اندر بھی دو گروہ ہو گئے تھے‘ ایک وہ جو زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنھما کے طرف دار تھے اور وہ زیدی کہلائے‘ دوسرے وہ جنہوں نے اسماعیل بن جعفر صادق کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور وہ اسماعیلی کے نام سے مشہور ہوئے۔ مذکورہ بالا تینوں گروہ بنوامیہ کے مخالف اور تینوں مل کر اہل بیت کے ہوا خواہ کہلاتے تھے‘ زید بن علی بن حسین رضی اللہ عنھما اور ان کے بیٹے یحییٰ کے مقتول ہونے کا حال اوپر پڑھ چکے ہو‘ محمد بن الحنفیہ کی کوششوں اور مختار کی کوفہ میں کاروائیوں کا ذکر بھی اوپر آچکا ہے‘ علویوں کو جب کبھی بھی ذرا سا موقع ملا‘ انہوں نے خروج میں تامل نہیں کیا‘ مگر اکثر ناکام ہوتے رہے‘ علویوں کی ان کارروائیوں اور ان کے انجام سے عباسی نصیحت و عبرت حاصل کرتے رہے اور انہوں نے بنوامیہ کے خلاف اپنی کوششوں کو بڑی احتیاط اور مآل اندیشی کے ساتھ جاری رکھا۔ ان تینوں گروہوں نے اپنے لیے ایک ہی راہ عمل تجویز کی کہ پوشیدہ طور پر لوگوں کو اپنا ہم خیال بنایا جائے اور مخفی طور پر لوگوں سے بیعت لی جائے تاکہ بنوامیہ کے مقابلے اور مقاتلے کے قابل طاقت فراہم ہو جائے‘ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے اپنے لیے مشنری اور مبلغین ملکوں میں پھیلا دیے‘ جو نہایت مخفی طریقوں سے اہل بیعت کی محبت کا وعظ کہتے اور بنوامیہ کی حکومت کے عیوب و نقائص لوگوں کو سمجھاتے اور خلافت و حکومت کا حقدار اہل بیت ہی کو بتاتے تھے۔۱؎ یہ خفیہ اشاعتی کام بڑی احتیاط اور بڑے عزم و حزم کے ساتھ شروع کیا گیا‘ اس کی ابتداء عبدالملک بن مروان ہی کے زمانے سے ہو چکی تھی اور تینوں گروہوں کو ایک دوسرے کی سرگرمیوں کا علم تھا‘ لیکن چونکہ تینوں کا دشمن ایک ہی تھا اس لیے ان تینوں گروہوں کے اندر آپس میں کوئی رقابت نہ تھی اور ایک دوسرے کے راز کے اطلاع ہو جانے پر پوشیدہ رکھنے اور افشا ہونے سے بچانے کی کوشش کرتے تھے‘ ہر ایک کے کارندے اور نقیب اگرچہ جدا جدا تھے‘ لیکن تبلیغ کے لیے ان کو ایسے الفاظ استعمال کرنے کی تاکید کی گئی تھی‘ جس سے دوسرے گروہ کے ساتھ تصادم لازم نہ آئے۔ مثلاً بجائے اس کے کہ سیدنا عباس یا محمد بن الحنفیہ رحمہ اللہ تعالی یا امام زین العابدین رحمہ اللہ تعالی کی فضیلت بیان کی جائے صرف اہل بیت کا ایک عام لفظ استعمال کیا جاتا تھا اور اہل بیت کی فضیلت بیان کر کے ان کو مستحق خلافت ثابت کرنے کی کوشش ہوتی تھی۔ پھر یہی نہیں کہ آپس میں ایک دوسرے کی مخالفت نہ کرتے تھے بلکہ بنوامیہ کی مخالفت کے جوش میں خارجیوں کے ساتھ بھی یہ لوگ ہمدردی و اعانت کا برتائو جائز سمجھتے تھے‘ کیونکہ خارجی بھی شروع ہی سے بنوامیہ کو کافر کہتے اور ان کے خلاف کوششوں میں مصروف رہتے تھے‘ حالانکہ خارجی جس طرح ۱؎یہ سبائی گروہ تھاجو یہ کام کر رہا تھا۔ اگر خلافت کے حق دار اہل بیت تھے تو پھر اس کے لیے قرآن و حدیث سے دلیل چاہیے تھی۔ لیکن ہم دیکھتے ہی کہ نہ قرآن کریم میں اس کی کوئی نص موجود ہے اور نہ ہی احادیث مبارکہ میں اس کی صراحت کی گئی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے آثار میں بھی اس بارے میں کوئی اشارہ تک نہیں ملتا۔ خلافت بنوامیہ کے دشمن تھے اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے بھی مخالف تھے۔۱؎ اس خفیہ اشاعت کے کام میں علویوں سے بار بار جلد بازی کا ارتکاب ہوا اور وہ زیادہ خوبی کے ساتھ اس کام کو انجام نہ دے سکے لہٰذا خلفاء بنوامیہ کو علویوں کی کاروائیوں اور سازشوں کا علم ہوتا رہا اور وہ ان کے خلاف انسدادی کاروائیوں کا موقع بھی پاتے رہے‘ لیکن عباسیوں کی سازش سے خلفاء بنوامیہ آخر تک بے خبر رہے اور اسی لیے عباسی علویوں کو پیچھے چھوڑ کر کامیابی حاصل کر سکے۔ عباسیوں نے علاوہ مذکورہ بالا تدابیر کے ایک اور احتیاط یہ بھی کی کہ اپنا مرکز مدینہ‘ مکہ‘ کوفہ‘بصرہ‘ دمشق وغیرہ میں سے کسی بڑے شہر کو نہیں بنایا بلکہ ایک نہایت غیر معروف گائوں حمیمہ جو بنو امیہ کی عطا کردہ جاگیر اور دمشق و مدینہ کے درمیان واقع تھا اور باوجود دمشق سے قریب ہونے کے خلفاء بنوامیہ یا گورنران بنوامیہ کی توجہ سے محفوظ تھا‘ اپنی قیام گاہ اور مرکز سازش بنایا‘ علویوں کی کوششیں اور سازشیں چونکہ طشت ازبام ہوتی رہیں لہٰذا وہ بار بار قتل ہوتے رہے‘ لیکن بنوعباس اس قسم کے نقصانات سے بالکل محفوظ رہے اور ان کی سازش کی رفتار ترقی معتدل رفتار سے برابر جاری رہی۔ اس رفتار ترقی میں بہت بڑی طاقت اس لیے پیدا ہوگئی کہ محمد بن الحنفیہ کی جماعت تمام و کمال بنوعباس کے ساتھ شامل ہو کر ایک جماعت بن گئی یعنی ابو ہاشم بن محمد نے اپنے تمام حقوق محمد بن علی عباسی کو حمیمہ میں فوت ہوتے وقت تفویض کر دیئے اور ان لوگوں کو جو ابو ہاشم کی خلافت کے لیے کوشش کر رہے تھے تاکیدی نصیحت کی کہ آئندہ محمد بن علی کے زیر فرمان کوشش کریں اور محمد بن علی کو اپنا پیشوا مانیں۔ علویوں کا ایک زبردست گروہ جب عباسیوں میں شامل ہو گیا تو عباسیوں نے پہلے سے زیادہ ہمت کے ساتھ باقاعدہ کوششیں شروع کیں اور قریباً تمام طاقت سازش کنندوں کی عباسیوں کے ہاتھ میں آگئی۔ محمد بن علی عباسی اس زبردست سازشی جماعت کے پیشوا تھے جب ان کا انتقال ۱۲۴ھ میں ہوا تو ان کے بیٹے امام ابراہیم ان کے جانشین ہوئے‘ امام ابراہیم نے اس سازش کو پہلے سے زیادہ وسیع اور باقاعدہ اصولوں پر قائم کر کے ہر ایک علاقہ کے لیے الگ الگ موزوں داعی مقرر کئے اور نہایت نظم و ترتیب کے ساتھ عراق‘ خراسان‘ فارس‘ شام‘ حجاز وغیرہ ممالک اسلامیہ میں اپنی تحریک کا ایک جال پھیلا دیا۔ امام ابراہیم کو خوش قسمتی سے ایک ایسا شخص مل گیا جس نے آئندہ چل کر بہت جلد اس سازش کو ۱؎یہ تحریک کس قدر خطرناک تھی‘ متذکرہ بالا امور سے ہی اس کا کافی حد تک اندازہ ہو جاتا ہے۔ کامیابی تک پہنچانے کا تمام کام اپنے ذمہ لے لیا‘ وہ شخص ابومسلم خراسانی تھا۔ امام ابراہیم نے ابومسلم خراسانی کو عراق و خراسان کے تمام دعاۃ کا سردار بنا کر سب کو حکم دیا تھا کہ ابومسلم کی ماتحتی میں کام کریں اور ابومسلم کے ہر ایک حکم کو مانیں‘ ابومسلم کے ساتھ ان کی خط وکتابت رہتی تھی اور وہ ابومسلم کو اپنے ہر ایک منشاء سے مطلع کرتے رہتے تھے‘ اس میں یہ فائدہ تھا کہ امام ابراہیم کو ہر ایک شخص سے خود خط و کتابت نہیں کرنی پڑتی تھی ۱۳۰ ھ میں امام ابراہیم کی گرفتاری اور وفات کے بعد ان کا جانشین عبداللہ سفاح ان کا بھائی ہوا جو امام ابراہیم کی طرح ذی ہوش و عقلمند تھا ادھر ابومسلم کی قابلیت اور طاقت آخری نتائج پیدا کرنے والی تھی‘ ابومسلم نے جلد جلد خراسان میں طاقت و قوت حاصل کرنی شروع کی‘ امام ابراہیم کی گرفتاری اور بنوامیہ کو اس عباسی تحریک کی واقفیت اس وقت ہوئی جب کہ ابومسلم خراسان پر گویا مستولی ہو چکا تھا اور اس تحریک کے افشاء ہونے کا مناسب وقت آچکا تھا لہٰذا عباسیوں کو کسی ناکامی و نقصان کا سامنا نہ ہوا۔ جب ابومسلم کو خراسان میں امام ابراہیم کی وفات کے بعد قوت و اقتدار حاصل ہونے لگا اور بنوامیہ کی خلافت کے برباد ہونے کی علامت نمایاں طور پر نظر آنے لگیں تو بنی عباس اور علویوں کے خیرخواہوں اور ان کی سازشی کاروائیوں میں حصہ لینے والوں نے اپنے خاص خاص سربرآوردہ ممبروں کو بماہ ذی الحجہ ۱۳۰ھ میں جبکہ وہ بتقریب حج مکہ میں آئے ہوئے تھے ایک مکان میں جمع کیا اور یہ مسئلہ پیش ہوا کہ بنوامیہ کی بربادی اور خلافت ان کے قبضہ سے نکالنے کی کوششیں بہت جلد آخری کامیابی حاصل کرنے والی ہیں لہٰذا یہ طے ہو جانا چاہئے کہ خلیفہ کس کو بنایا جائے گا‘ اس مجلس میں ابوالعباس عبداللہ سفاح کا بھائی ابوجعفر منصور بھی موجود تھا اور اولاد علی رضی اللہ عنہ میں سے بھی چند لوگ تشریف رکھتے تھے‘ ابو جعفرمنصور نے بلا توقف کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر لینا چاہئے‘ حاضرین مجلس نے اس بات کو پسند کیا اور اتفاق رائے سے محمد بن عبداللہ بن حسن بن علی المعروف بہ نفس ذکیہ کو منتخب کیا گیا۔ یہ نہایت ہی نازک موقعہ تھا‘ کیونکہ بنو امیہ کی حکومت کو مضمحل کرنے اور خراسان پر ابومسلم کے قابض ہو جانے میں سب سے زیادہ اس بات کو دخل تھا کہ شیعان علی رضی اللہ عنہ اور شیعان بنوعباس رضی اللہ عنہ مل کر کام کر رہے تھے اور متفقہ طاقت کے ساتھ مصروف عمل تھے‘ اگر اس مجلس میں بنوعباس اور علویوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جاتا تو مکہ سے لے کر خراسان کے آخری سرے تک تمام علاقے میں اختلاف کی ایک لہر ایسی سرعت کے ساتھ دوڑ جاتی کہ پھر اس کی روک تھام قابو سے باہر ہوتی اور خلافت بنو امیہ میں جو مردہ ہو چکی تھی‘ ازسر نوجان پڑجاتی‘ مگر ابوجعفر منصور کی ہوشیاری و دانائی نے اس موقعہ پر بڑا کام کیا اور شیعان علی پہلے سے بھی زیادہ جوش کے ساتھ مصروف عمل ہو گئے اور ان کی یہ تمام کوششیں عباسیوں کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوئیں۔