ابراہیم بن ولید بن عبدالملک

ابراہیم بن ولید بن عبدالملک

ابو اسحاق ابراہیم بن ولید بن عبدالملک اپنے بھائی یزیدالناقص کی وفات کے بعد اس کی وصیت کے موافق خلیفہ ہوا‘ ابراہیم کے ہاتھ پر بیعت عامہ نہیں ہوئی بعض لوگ اس کی بیعت سے انکار بھی کرتے رہے‘ مروان بن محمد بن مروان گورنر آرمینیا نے جب یزید کے مرنے کی خبر سنی تو وہ دمشق کی جانب فوج لے کر چلا اول قنسرین پہنچا قنسرین کو فتح کر کے حمص کی جانب روانہ ہوا‘ حمص کی یہ حالت تھی کہ حمص والوں نے ابراہیم کی بیعت نہیں کی تھی اس لیے دمشق سے لشکر شام عبدالعزیز بن حجاج بن عبدالملک کی افسری میں ابراہیم کا فرستادہ حمص کا محاصرہ کئے ہوئے پڑا تھا۔ جب مروان بن محمد کے قریب پہنچنے کی خبر سنی تو عبدالعزیز لشکر شام کو لے کر اور محاصرہ اٹھا کر دمشق کی جانب چل دیا اور مروان کے پہنچنے پر اہل حمص نے بلا توقف اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ ابراہیم کو جب ان حالات کی اطلاع ملی‘ تو اس نے سلیمان بن ہشام کو ایک لاکھ بیس ہزار کی جمعیت سے مروان کے مقابلے کے لیے روانہ کیا‘ مروان کے پاس کل اسی ہزار فوج تھی‘ مروان نے جنگ شروع ہونے سے پیشتر یہ پیغام بھیجا کہ ہم ولید بن یزید کے خون کا دعویٰ چھوڑے دیتے ہیں تم اس کے بیٹے حکم و عثمان کو جنھیں ولید نے ولی عہد بنایا تھا رہا کر دو‘ سلیمان بن ہشام نے اس درخواست کو نامنظور کیا‘ آخر لڑائی شروع ہوئی‘ سلیمان بن ہشام کو ۷ ہزار آدمی کٹوا ڈالنے کے بعد شکست فاش حاصل ہوئی۔ مروان نے حکم و عثمان پسران ولید بن یزید کی بیعت لوگوں سے لی اور دمشق کی طرف بڑھا‘ یہاں دمشق میں ابراہیم اوراس کے مشیروں نے مشورہ کیا کہ حکم و عثمان کو قتل کر دینا چاہیئے‘ چنانچہ یہ دونوں قیدی قتل کر دیئے گئے‘ مروان فاتحانہ دمشق میں داخل ہوا اور ابراہیم و سلیمان وغیرہ دمشق سے تدمر کی طرف فرار ہو گئے‘ مروان نے حکم و عثمان کی لاشوں کو دیکھا‘ بہت افسوس کیا‘ نماز جنازہ پڑھا کر ان کو دفن کرایا‘ اور یہ سوال لوگوں کے سامنے ۔ ۔ ۔ ۔پیش کیا کہ تم کس کو اپنا خلیفہ بنانا چاہتے ہو‘ سب نے با لاتفاق مروان بن محمد بن مروان بن حکم کے ہاتھ پر بیعت کی یہ روز دو شنبہ ۲۴ صفر ۱۲۷ھ کا واقعہ ہے ابراہیم کو مروان نے امان دیدی اور اس نے مروان کے حق میں بہ خوشی خلافت سے دست برداری داخل کر دی۔ ابراہیم بن ولید کی خلافت کے متعلق مئورخین کا اختلاف ہے‘ بعض اس کو خلیفہ سمجھتے ہیں‘ اور بعض خلفاء میں اس کا شمار نہیں کرتے کیونکہ اس کی خلافت پورے طور پر تمام عالم اسلام میں تسلیم نہیں ہوئی تھی کہ اس نے خلع خلافت کیا‘ ابراہیم کی خلافت جیسی کچھ تھی صرف دو مہینے چند روز رہی۔