ہشام بن عبدالملک
عباسیوں کی سازش
ابوہاشم عبداللہ بن محمد بن حنفیہ بن علی بن ابی طالب کی سلیمان بن عبدالملک وغیرہ خلفائے بنوامیہ بہت عزت ومدارات کیا کرتے تھے لیکن بنوامیہ سے ان کو بھی ہاشمی ہونے کے سبب تعصب تھا اور وہ دل سے بنوامیہ کی حکومت کے مٹانے اور بنوہاشم کو برسر اقتدار لانے کے خواہاں تھے‘ ان کی کوشش صرف یہیں تک محدود تھی کہ وہ اپنے معتقدوں اور دوستوں میں جس کو اہل پاتے اپنے خیالات سے آگاہ فرما دیتے تھے اور اس قسم کے لوگ ان کو تھوڑے نہیں بہت دستیاب ہوگئے تھے جو عراق میں بھی تھے اور خراسان وحجاز میں بھی رہتے تھے۔
محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب بھی بنوامیہ کی حکومت کے مٹانے اور بنوعباس کی خلافت قائم کرنے کی فکر میں مصروف تھے‘ ایک مرتبہ سلیمان بن عبدالملک کے عہد خلافت میں ابوہاشم عبداللہ بن محمد رحمہ اللہ تعالی سلیمان بن عبدالملک کے پاس دمشق گئے‘ وہاں سے واپسی میں وہ مقام حمیمہ علاقہ بلقاء میں محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس کے پاس ٹھہرے‘ اتفاقاً وہ وہاں بیمار ہو کر فوت ہو گئے‘ فوت ہوتے وقت انہوں نے محمد بن علی بن عبداللہ کو وصیت کی کہ تم خلافت اسلامیہ کے حاصل کرنے کی کوشش کرو اس وصیت نے محمد بن علی کو بہت فائدہ پہنچایا یعنی وہ تمام لوگ جو ابوہاشم عبداللہ بن محمد کے معتقد وہم راز تھے محمد بن علی کے ہاتھ پر آ آکر مخفی طور پر بیعت ہوگئے۔
اس کے بعد ۱۰۰ھ میں بعہد خلافت سیدنا عمر بن عبدالعزیز محمد بن علی عباسی نے اپنے کارندے عراق وخراسان وحجاز ویمن ومصر وغیرہ ممالک اسلامیہ کی طرف روانہ کیے‘ سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے اگرچہ بنوامیہ کی نسبت اس عداوت ونفرت کو جو اکثر لوگوں کے دلوں میں تھی بہت کم کر دیا تھا لیکن پھر بھی محمد بن علی کی تحریک برابر مصروف عمل رہی‘ چنانچہ محمد بن علی کی طرف سے میسرہ عراق میں اور ابومحمد صادق خراسان میں عباسیوں کی خلافت کے لیے برابر دعوت کا کام کرتے رہے‘ محمد بن علی نے مضافات بلقاء میں سکونت اختیار کر کے وہیں سے اپنی تحریک کو ممالک اسلامیہ میں شائع کیا‘ چند روز کے بعد اس نے اپنے بارہ نقیب مقرر کئے‘ ہر چہار سمت ممالک اسلامیہ میں بھیجے‘ ان لوگوں کو ہر جگہ کامیابی حاصل ہوئی۔
۱۰۲ھ اور بہ روایت دیگر ۱۰۴ھ میں ابومحمد صادق خراسانی وہاں کے چند بااثر لوگوں کو جنہوں نے اس دعوت کو قبول کر لیا تھا ہمراہ لے کر محمد بن علی کے پاس آیا‘ انہیں ایام میں محمد بن علی اپنے اس لڑکے کو جس کی عمر صرف پندرہ یوم تھی لے کر آیا اور ان لوگوں سے کہا کہ یہی تمہارا سردار ہوگا (یہی لڑکا عبداللہ سفاح تھا‘) اس کے بعد بکیر بن ماہان جو سندھ میں جنید کے ساتھ تھا وہاں سے کوفہ میں آیا اور ابومحمد صادق سے ملا اس نے بکیر کو دعوت دی اس نے فوراً قبول کر لیا‘ یہ ۱۰۵ھ کا واقعہ ہے۔
۱۰۷ھ میں بکیر بن ماہان نے جو کوفہ میں محمد بن علی کی جانب سے دعوت عراق وخراسان کا افسر ومہتمم تھا‘ ابوعکرمہ‘ ابومحمد صادق‘ محمد خنیں‘ عمار عبادی وغیرہ چند شخصوں کو خراسان کی طرف خلافت عباسیہ کی دعوت کے لیے روانہ کیا‘ خراسان میں اسد قسری گورنر تھا اس کو اتفاقاً اس کا علم ہوگیا‘ کہ چند آدمی خلافت عباسیہ کے لیے لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں‘ اس نے سب کو گرفتار کرا کر قتل کرا دیا‘ صرف ایک شخص عمار بچ کر بھاگا اور بکیر بن ماہان کو آکر اطلاع دی‘ بکیر نے یہ کیفیت محمد بن علی کے پاس لکھ کر بھیجی‘ محمد بن علی نے جواب میں لکھا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ تمہاری دعوت اور کوشش کامیاب اور نتیجہ خیر ثابت ہوئی‘ اب تم کو خود اپنے قتل کا بھی منتظر رہنا چاہئے۔
۱۱۸ھ میں بکیر نے عمار بن زید کو ہوا خواہان بنوعباس کا سردار بنا کر خراسان کی جانب روانہ کیا‘ اس نے وہاں جا کر اپنے آپ کو خراش کے نام سے موسوم کیا‘ خراش نے ہمدردیٔ بنو عباس کو نماز روزہ پر بھی ترجیح دی اور لوگوں سے کہا کہ روزہ نماز سے بڑھ کر یہ کام ہے کہ بنو عباس کی خلافت قائم کرنے کے لیے کوشش کرو‘ اور اس معاملہ کو رازداری میں رکھ کر افشا ہونے سے بچائو‘ محمد بن علی نے یہ حالات سن کر خراش کی نسبت ناراضی کا اظہار کیا‘ گورنر خراسان اسد قسری کو خراش کا حال معلوم ہوا تو اس نے گرفتار کرا کر اس کو قتل کر دیا۔
محمد بن علی اہل خراسان کی اس ضعیف الاعتقادی سے ناراض ہوگئے تھے‘ لہٰذا خراسان سے بااثر لوگوں کا ایک وفد محمد بن علی کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی خطائوں کی معافی چاہی۔
محمد بن علی نے خراسان میں خود نقیب مقرر کر کے روانہ کئے اور ان کے لیے چند عصا اپنے پاس سے مرحمت فرمائے جو نقیبی اور سرداری کی علامت سمجھے گئے‘ ۱۲۴ھ میں محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس کا بحالت قید انتقال ہوگیا‘ مرتے وقت وہ اپنے بیٹے ابراہیم کو اپنا جانشین بنا گئے اور اپنے نقیبوں اور مریدوں کو وصیت کی کہ میرے بعد سب ابراہیم بن محمد بن علی کو امام تسلیم کر کے ان کی اطاعت وفرمانبرداری کریں۔
بکیر بن ماہان ابراہیم بن محمد کی خدمت میں حاضر ہو کر اور ابراہیم بن محمد سے ہدایات لے کر خراسان کی طرف روانہ ہوا کہ وہاں جا کر لوگوں کو محمد بن علی کے فوت ہونے اور ابراہیم بن محمد کے امام مقرر ہونے کی خبر سنائے‘ بکیر بن ماہان نے خراسان جا کر پوشیدہ طور پر اپنے ہم خیال لوگوں کو جمع کر کے سب کو حالات سنائے اور ہدایات پہنچائیں‘ ہوا خواہان بنوعباس نے جو کچھ زر نقدان کے پاس تھا لا لا کر جمع کیا اور بکیر بن ماہان اس روپیہ کو لے کر امام ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہوا‘ اسی ۱۲۴ھ میں ابراہیم بن محمد نے ابو مسلم کو خراسان کی طرف روانہ کیا۔
ابومسلم اور امام ابراہیم کے حالات اور اس تحریک کی آئندہ حالت آگے کسی دوسرے موقع پر بیان کی جائے گی۔
ہشام بن عبدالملک کی خلافت کے حالات جو قابل تذکرہ تھے مختصر طور پر بیان ہوچکے ہیں‘ یزید بن عبدالملک کی وصیت کے موافق ہشام کے بعد ولید بن یزید ولی عہد تھا‘ لیکن ہشام کی خواہش تھی‘ کہ ولید کو معزول کر کے اپنے بیٹے کو ولی عہد بنائے‘ مگر امرائے سلطنت چونکہ اس پر رضامندنہ تھے‘ لہٰذا وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہوسکا‘ مگر ہشام اور ولید کے دلوں میں رنجش ضرور پیدا ہوگئی‘ آخر ۶ ربیع الثانی ۱۲۵ھ میں ساڑھے انیس سال خلافت کرنے کے بعد ہشام بن عبدالملک نے وفات پائی۔