ہشام بن عبدالملک

قیصر روم

ہشام بن عبدالملک کے زمانے میں قیصر کی فوجوں کو بھی بار بار مسلمانوں نے شکستیں دیں‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے سے سردی اور گرمی کے موسموں میں شمال کی جانب حملہ آور ہونے والی فوجیں مقرر تھیں‘ یہ سرمائی اور گرمائی فوجیں قسطنطینہ اور قیصر کے علاقوں پر حملہ آور ہوتی رہتی تھیں‘ اور اسی لیے رومیوں پر مسلمانوں کا رعب قائم تھا‘ ہشام کے زمانے میں معاویہ بن ہشام‘ سعید بن ہشام‘ سلیمان بن ہشام‘ مسلمہ بن عبدالملک‘ مروان بن محمد‘ عباس بن ولید وغیرہ شہزادے ان فوجوں کے سردار ہو ہو کر حملہ آور ہوتے رہے‘ ان شہزادوں کے ساتھ عبداللہ بطال اور عبدالوہاب بن بخت وغیرہ مشہور شہسوار سردار ہوتے تھے‘ جن کی بہادری وجال بازی کی دھاک ملک روم میں بیٹھی ہوئی تھی‘ رومیوں کو ہشام کے عہد میں مسلمانوں کے ہاتھ سے بڑے بڑے نقصانات برداشت کرنے پڑے اور کبھی ان کو کوئی فتح مسلمانوں کے مقابلے میں حاصل نہ ہوسکی۔ اندلس میں بھی عبداللہ بن عقبہ کے کارنامے یورپ کے عیسائیوں اور عیسائی بادشاہوں کو خوف زدہ رکھنے اور مسلمانوں کے نام سے لرزاں وترساں بنانے کے لیے کافی تھے‘ حجاز ویمن وغیرہ میں بھی امن وامان ہوگیا۔