سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ

فضائل و خصائل

ابو نعیم نے صحیح سند سے بیان کیا ہے‘ کہ ایک روز رباح بن عبیدہ نے دیکھا کہ عمر بن عبدالعزیز نماز کے لیے جارہے ہیں اور ان کے ساتھ ایک بوڑھا آدمی ان کے ہاتھ پر سہارا دیئے ہوئے چلا جا رہا ہے‘ جب نماز سے فارغ ہو کر آپ اپنے مکان میں تشریف لے آئے تو رباح نے پوچھا‘ کہ وہ بوڑھا آدمی کون تھا جو آپ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے جا رہا تھا‘ عمر بن عبدالعزیز نے یہ سن کر تعجب سے کہا کہ آہا تم نے بھی دیکھ لیا ہے‘ تم بھی ایک صالح آدمی ہو‘ لہٰذا تم کو بتا دینے میں کوئی حرج نہیں ہے‘ و خضر تھے مجھ سے امت محمدیہ کا حال پوچھنے اور عدل و انصاف کی تلقین کرنے آئے تھے۔۱؎ ایک مرتبہ ایک شخص نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف رکھتے ہیں‘ آپ کے دائیں طرف صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ‘ بائیں طرف فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بیٹھے ہیں اور سامنے آپ (عمر بن عبدالعزیز) ہیں‘ اتنے میں دو آدمی کچھ خصومت لائے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ (عمر بن عبدالعزیز حح) سے متوجہ ہو کر فرمایا کہ اپنے دوران خلافت میں ان دونوں (ابوبکر ضض‘ عمر ضض) کے قدم بقدم چلنا‘ یہ سن کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ ایسا ہی کرتے ہیں‘ یہ خواب بیان کر کے راوی نے اس خواب پر قسم کھائی‘ تو سیدنا عمر بن عبدالعزیز رونے لگے۔ حکم بن عمر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ میں ایک روز عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی خدمت میں حاضر تھا کہ داروغہ اصطبل حاضر ہوا‘ اور اصطبل کا خرچ مانگنے لگا‘ آپ نے فرمایا کہ تم تمام گھوڑوں کو شام کے شہروں میں لے جا کر جس قیمت پر ممکن ہو فروخت کر کے ان کی قیمت فی سبیل اللہ دے دو‘ میرے لیے میرا ۱؎یہ قصہ حد درجہ مشکوک ہے‘ بلکہ صحیح نہیں ہے۔ خچر ہی کافی ہے۔ زہری کا قول ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز نے بذریعہ خط سالم بن عبداللہ سے دریافت کیا‘ کہ صدقات کے متعلق فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا طرز عمل کیا تھا‘ انہوں نے ان کے سوال کا جواب لکھ کر آخر میں لکھا کہ اگر تم وہی عمل کرو گے‘ جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے عہد خلافت میں لوگوں سے کرتے تھے‘ تو تم اللہ تعالیٰ کی جناب میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ رتبہ پائو گے‘ جب آپ خلیفہ منتخب ہو گئے‘ اور لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تو آپ رونے اور کہنے لگے‘ کہ مجھے اپنی نسبت بڑا ہی خوف ہے‘ سیدنا حماد رحمہ اللہ تعالی نے پوچھا کہ بتائیے آپ کو درہم و دینار کی کتنی محبت ہے‘ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی نے جواب دیا کہ بالکل نہیں‘ حماد رحمہ اللہ تعالی نے کہا کہ پھر آپ کیوں گھبراتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ ضرور آپ کی مدد کرے گا۔ حنیفہ بن سعید بن عاص نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی سے کہا کہ آپ سے پہلے جتنے خلفاء ہوئے وہ ہمیں انعامات دیا کرتے تھے‘ مگر آپ نے خلیفہ ہو کر وہ سب روک دیئے‘ میرے پاس کچھ جاگیر بھی ہے‘ اگر آپ حکم دیں تو میں اس میں سے اس قدر لے لیا کروں کہ میرے عیال کو کافی ہو‘ آپ نے فرمایا کہ جو کچھ تم مشقت سے حاصل کرو وہ تمہارا مال ہے‘ پھر فرمایا کہ موت کو اکثر یاد کیا کرو‘ کیوں کہ اگر تم تکلیف میں ہو گے تو عیش پائو گے‘ اور عیش میں ہو گے تو اس میں کچھ کمی نہ ہو گی۔ بعض عمال نے آپ کو لکھا کہ ہمارے شہر میں قلعوں اور راستوں کی مرمت ہونی چاہیئے‘ لہٰذا امیر المومنین ہمیں کچھ مال عطا فرمائیں کہ ہم آبادی و مرمت کی کوشش کریں‘ آپ نے جواب میں لکھا‘ کہ اس خط کے پڑھتے ہی تم اس شہر میں عدل قائم کر کے قلعے بنا لو‘ اور ان کے راستوں کو ظلم سے دور کر کے پاک کرو‘ پس یہ مرمت ہے۔ ابراہیم سکونی رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز فرمایا کرتے تھے کہ جب سے مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ جھوٹ بولنا عیب ہے‘ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا‘ وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ اگر اس امت میں کوئی مہدی ہونے والا ہے تو وہ عمر بن عبدالعزیز ہیں۔ محمد بن فضالہ کہتے ہیں‘ کہ عبداللہ بن عمر بن عبدالعزیز ایک راہب کے پاس سے گذرے جو ایک جزیرہ میں رہتا تھا‘ وہ راہب ان کو دیکھ کر ان کے پاس چلا آیا‘ حالاں کہ وہ کبھی کسی کے پاس نہیں آیا تھا اور ان سے کہنے لگا کہ تم کو معلوم ہے میں تمہارے پاس کیوں چلا آیا‘ انہوں نے کہا کہ نہیں‘ راہب نے کہا کہ محض اس لیے کہ تم ایک امام عادل کے بیٹے ہو۔ مالک بن دینار رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی خلیفہ ہوئے تو چرواہے تعجب سے دریافت کرنے لگے کہ یہ کون شخص خلیفہ ہوا ہے کہ بھیڑیئے ہماری بکریوں کو اب کچھ نقصان نہیں پہنچاتے‘ موسیٰ بن اعین کہتے ہیں کہ ہم کرمان میں بکریاں چرایا کرتے تھے‘ بھیڑیے ہماری بکریوں کے ساتھ چلتے پھرتے رہتے تھے اور بکریوں کو نقصان نہ پہنچاتے تھے ایک روز ایسا ہوا کہ بھیڑیا ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا‘ میں نے اسی روز کہہ دیا‘ کہ آج خلیفہ صالح یقینا فوت ہو گیا‘ چنانچہ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اسی روز سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی نے انتقال فرمایا۔ ولید بن مسلم رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے کہ ایک باشندئہ خراسان نے خواب میں دیکھا کہ کوئی اس سے کہتا ہے‘ کہ جب بنو امیہ کا ایک داغ دار آدمی خلیفہ ہو تو فوراً اس کی بیعت کرلینا‘ چنانچہ وہ ہر ایک خلیفہ کا حلیہ دریافت کرتا رہا‘ جب سیدنا عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہوئے تو اس نے متواتر تین رات خواب میں دیکھا کہ وہی شخص کہتا ہے کہ جا اب بیعت کر لے‘ اس پر وہ خراسان سے روانہ ہوا اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حبیب بن ہند اسلمی کہتے ہیں کہ مجھ سے سعید بن المسیب رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ خلفاء تین ہیں اور وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی ہیں‘ میں نے پوچھا‘ کہ اول الذکر دونوں بزرگوں کو تو ہم جانتے ہیں یہ تیسرے کون ہیں‘ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم زندہ رہے تو معلوم ہی کر لو گے‘ اور اگر مر گئے تو وہ تمہارے بعد ہوں گے‘ ابن مسیب رحمہ اللہ تعالی کا انتقال سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی خلافت سے پہلے ہو چکا تھا۔ مالک بن دینار رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے کہ لوگ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص زاہد ہو سکتا ہے تو وہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی ہیں‘ دنیا ان کے پاس آئی‘ اور انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔ یونس بن ابی شبیب کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کو خلافت سے پہلے دیکھا کہ ان کے پاجامہ کا نیفہ فربہی کے سبب ان کے پیٹ میں گھستا ہوا تھا‘ لیکن خلیفہ ہونے کے بعد وہ اس قدر لاغر ہو گئے تھے ان کی ایک ایک ہڈی گنی جا سکتی تھی۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو جعفر منصور نے پوچھا‘ کہ جب انہوں نے انتقال کیا تو کیا آمدنی تھی‘ میں نے کہا کہ کل چار سو دینار اور اگر کچھ دنوں اور زندہ رہتے تو اور بھی کم ہو جاتی۔ مسلمہ بن عبدالملک کا قول ہے کہ میں عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی عیادت کے لیے گیا تو دیکھا کہ وہ ایک میلا کرتا پہنے ہوئے ہیں‘ میں نے اپنی بہن یعنی ان کی بیوی سے کہا کہ تم ان کا کرتا دھو کیوں نہیں دیتیں‘ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس دوسرا کرتا نہیں ہے کہ اس کو اتار کر اسے پہن لیں۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے غلام ابو امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز اپنے آقا کی حرم محترم کی خدمت میں عرض کی کہ مسور کی دال کھاتے کھاتے ناک میں دم آگیا ہے‘ انہوں نے کہا کہ تمہارے آقا کا بھی روز کا یہی کھانا ہے۔ ایک روز اپنی بیوی سے کہا کہ انگور کھانے کو جی چاہتا ہے‘ اگر تمہارے پاس کچھ ہو تو دو‘ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کوڑی بھی نہیں‘ تم باوجودیکہ امیر المومنین ہو تمہارے پاس اتنا بھی نہیں کہ انگور لے کر کھا لو‘ آپ نے فرمایا کہ انگوروں کی تمنا دل میں لے جانا بہتر ہے‘ بہ نسبت اس کے کہ کل کو دوزخ میں زنجیروں کی رگڑیں کھائوں۔ آپ کی حرم محترم فرماتی ہیں‘ کہ ایام خلافت میں آپ کی یہ حالت رہی ہے کہ باہر سے آکر سجدے میں سر رکھ دیتے اور روتے روتے اسی حالت میں سو جاتے‘ جب آنکھ کھلتی تو پھر رونے لگتے‘ ولید بن ابی سائب کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز سے بڑھ کر کسی شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں دیکھا۔ سعید بن سوید کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی جمعہ کی نماز پڑھانے کے لیے آئے تو دیکھا‘ کہ ان کے کرتے میں سامنے اور پیچھے پیوند لگے ہوئے ہیں‘ ایک شخص نے کہا کہ امیر المومنین خدائے تعالیٰ نے آپ کو سب کچھ عطا فرمایا ہے‘ پھر آپ رحمہ اللہ تعالی کپڑے کیوں نہیں بنواتے‘ آپ تھوڑی دیر سر جھکائے ہوئے کچھ سوچتے رہے‘ پھر فرمایا کہ تو نگری میں میانہ روی اور قدرت میں عفو بڑی چیز ہے۔ ایک روز آپ نے فرمایا کہ میں پچاس برس بھی تم میں رہوں‘ تو مراتب عدل کو تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا‘ میں عدل کرنا اور تمہارے دلوں میں سے طمع دنیوی کو نکال ڈالنا چاہتا ہوں‘ لیکن دیکھتا ہوں کہ تمہارے دل متحمل نہ ہو سکیں گے‘ ابراہیم بن میسرہ نے طائوس سے کہا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی مہدی ہیں‘ انہوں نے کہا کہ صرف مہدی ہی نہیں‘ بلکہ عادل کامل بھی ہیں۔ آپ کے انتقال کے وقت لوگ بہت سا مال لے کر آپکی خدمت میں حاضر ہوئے‘ آپ نے فرمایا کہ یہ سب لے جائو‘ اور اپنے کام میں لائو‘ اس کے بعد آپ نے اپنا مال بھی اس مال میں شامل کر دیا۔ جویریہ کہتی ہیں کہ ہم فاطمہ بنت علی بن ابی طالب کے پاس گئے انہوں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی بڑی تعریف کی‘ اور فرمایا کہ اگر وہ زندہ رہتے تو ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں رہتی۔ اوزاعی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ آپ کی عادت تھی کہ جب کسی شخص کو سزا دینا چاہتے تھے پہلے احتیاطاً تین روز تک اسے قید کر رکھتے تھے تاکہ غصہ اور جلدی میں اسے سزا نہ دی جائے۔ آپ نے فرمایا کہ جب میں نے نفس کو اس کی خواہش کے موافق کچھ دیا تو اس نے اس سے افضل چیز کی خواہش کی۔ عمر بن مہاجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں‘ کہ آپ کی تنخواہ دو درہم روزانہ مقرر کی گئی اور آپ کا چراغ دان تین لکڑیوں کو کھڑا کر کے اس پر مٹی رکھ کر بنایا گیا تھا‘ آپ نے اپنے غلام کو پانی گرم کرنے کے لیے کہا‘ وہ شاہی باورچی خانے سے جا کر گرم کر لایا‘ آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے ایک درہم کی لکڑیاں اس کے عوض میں بھیجوا دیں‘ آپ کی عادت تھی کہ جب تک آپ کے پاس بیٹھے ہوئے لوگ سلطنت کے معاملات میں گفتگو کرتے رہتے آپ بیت المال کا چراغ جلائے رکھتے‘ اور جب وہ اٹھ جاتے تو اس کو گل کر کے اپنا ذاتی چراغ جلا لیتے۔ خلیفہ کی اردلی میں سو چوکیدار و کوتوال مقرر تھے۔ جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ میری حفاظت کے لیے قضا و قدر اور اجل کافی ہے‘ مجھے تمہاری ضرورت نہیں‘ تاہم اگر تم میں سے کوئی میرے پاس رہنا چاہے‘ تو دس دینار تنخواہ ملے گی اور اگر نہ رہنا چاہے تو اپنے اہل و عیال میں چلا جائے۔ عمر بن مہاجر کہتے ہیں کہ آپ کا جی انار کھانے کو چاہا‘ آپ کے ایک عزیز نے انار بھیج دیا‘ آپ نے اس کی بہت ہی تعریف کی اور اپنے غلام سے فرمایا کہ جس شخص نے یہ بھیجا ہے اس سے میرا سلام کہنا اور یہ انار واپس کر کے کہہ دینا کہ تمہارا ہدیہ پہنچ گیا‘ غلام نے کہا کہ امیر المومنین رحمہ اللہ تعالی یہ تو آپ کے قریبی عزیز نے بھیجا ہے اس کو رکھ لینے میں کیا مضائقہ ہے‘ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی تو ہدیہ قبول فرما لیا کرتے تھے‘ آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ہدیہ تھا‘ مگر ہمارے لیے رشوت ہے‘ آپ نے سوائے ایک شخص کے جس نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی کی تھی‘ کسی شخص کے درے نہیں لگوائے۔ جب آپ نے اپنے عیال کے نفقہ میں تخفیف کی‘ تو انہوں نے آپ سے شکایت کی‘ آپ نے فرمایا کہ میرے مال میں اس قدر وسعت نہیں ہے کہ تمہارا سابقہ نفقہ جاری رکھوں‘ باقی رہا بیت المال سو اس میں تمہارا بھی اتنا ہی حق ہے‘ جتنا اور مسلمانوں کا‘ یحییٰ غسانی کہتے ہیں‘ کہ جب سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی نے مجھے موصل کا حاکم بنایا‘ تو میں نے دیکھا کہ وہاں چوری کی وارداتیں بہت ہوتی ہیں‘ میں نے آپ کو اس کیفیت سے اطلاع دے کر دریافت کیا کہ ایسے مقدموں میں شہادت پر فیصلہ کروں‘ یا محض اپنی رائے اور وجدان پر‘ آپ نے حکم دیا کہ ہر مقدمہ میں شہادت کا لینا ضروری ہے اگر حق نے ان کی اصلاح نہ کی تو خدائے تعالیٰ ان کی کبھی اصلاح نہیں کرے گا‘ میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کی اور موصل سب سے زیادہ صاف مقام ہو گیا۔ رجاء بن حیٰوۃ کہتے ہیں کہ ایک روز میں سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ چراغ گل ہو گیا‘ وہیں آپ کا غلام سو رہا تھا‘ میں نے چاہا کہ اسے جگا دوں‘ آپ نے منع فرما دیا‘ پھر میں نے چاہا کہ میں خود اٹھ کر چراغ جلا دوں‘ آپ نے فرمایا‘ کہ مہمان کو تکلیف دینا خلاف مروت ہے‘ آپ خود اٹھے اور تیل کا کوزہ اٹھا کر چراغ میں تیل ڈالا‘ اور اس کو جلا کر پھر اپنی جگہ آبیٹھے اور فرمایا‘ کہ میں اب بھی وہی عمر بن عبدالعزیز ہوں جو پہلے تھا‘ یعنی چراغ جلانے سے میرے مرتبہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ عطاء کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی رات کے وقت فقہاء کو جمع فرماتے اور موت و قیامت کا ذکر کر کے اس قدر روتے کہ گویا ان کے سامنے کوئی جنازہ رکھا ہوا ہے‘ عبداللہ بن غبراء کہتے ہیں کہ ایک روز آپ نے خطبہ میں فرمایا کہ لوگو اپنی پوشیدہ باتوں میں اصلاح کرو‘ ظاہری باتوں میں خود اصلاح ہو جائے گی‘ آخرت کے واسطے عمل کرو اور دنیا کے لیے اسی قدر توجہ کرو‘ جتنی ضرورت ہو اور یاد رکھو کہ تمہارے آباء و اجداد کو موت کھا چکی ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ سلف صالحین کی راہ پر عمل کرو‘ کیوں کہ وہ تم سے اچھے اور زیادہ عالم تھے۔ جب آپ کے صاحبزادے عبدالملک نے انتقال کیا‘ تو آپ ان کی تعریف کرنے لگے‘ مسلمہ نے کہا کہ کیوں‘ ان کی تو آپ تعریف کرتے ہیں‘ آپ نے فرمایا کہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ مرحوم میری ہی نظروں میں قابل تعریف تھا یا اور بھی اسے قابل تعریف سمجھتے تھے کیونکہ باپ کی نظروں میں بیٹا ہمیشہ قابل تعریف ہوتا ہے‘ اس لیے اس کے اندازے کا اعتبار نہیں ہے‘ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی آپ کے پاس آئیں‘ آپ نے ان کا استقبال کیا اور ان کے سامنے مئودب بیٹھ گئے‘ انہوں نے جو کچھ طلب کیا ان کو عطا فرمایا۔ ایک مرتبہ آپ کے قریبی رشتہ داروں نے کہا کہ ہم مزاح و خوش طبعی کے ذریعہ امیر المومنین رحمہ اللہ تعالی کو اپنی طرف متوجہ کر لیں گے‘ چنانچہ کئی شخص جمع ہو کر آپ کے پاس پہنچے‘ ایک شخص نے خوش طبعی کی راہ سے کوئی بات کہی‘ دوسرے نے اس کی تائید کی‘ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی نے کہا کہ تم لوگ ایک نہایت ذلیل بات پر جمع ہوئے ہو …… جس کا انجام دشمنی ہے‘ بہتر یہ ہے کہ قرآن شریف پڑھو‘ اس کے بعد حدیث شریف دیکھو اور معانی حدیث میں تدبر کرو۔ یحییٰ غسانی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ آپ نے خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کو ایک خارجی کے قتل سے منع فرمایا اور رائے دی کہ اس کو اس وقت تک قید رکھئے جب تک کہ یہ توبہ کرے‘ سلیمان نے اس خارجی کو بلایا اور کہا کہ بولو اب کیا کہتے ہو‘ اس نے کہا کہ اے فاسق ابن فاسق کیا پوچھتا ہے‘ سلیمان نے کہا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کی رائے سے مجبور ہوں‘ پھر ان کو بلایا اور کہا کہ دیکھو یہ کیا کہتا ہے‘ خارجی نے پھر انہیں الفاظ کا اعادہ کیا‘ سلیمان نے کہا بتائو اب اس کے لیے کیا کہتے ہو‘ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی نے کسی قدر سکوت کے بعد کہا کہ امیر المومنین جس طرح اس نے آپ کو گالی دی ہے‘ آپ بھی اسے گالی دے لیجئے‘ خلیفہ سلیمان کہا نہیں یہ مناسب نہیں ہے‘ چنانچہ حکم دیا کہ اس … کو قتل کر دیا جائے وہ قتل کر دیا گیا۔ آپ وہاں سے نکلے تو راستے میں آپ کو خالد کوتوال ملا اور کہنے لگا‘ کہ آپ نے عجیب رائے دی‘ کہ امیر المومنین بھی اس کو ویسی ہی گالی دے دیں‘ جیسی اس نے دی ہے‘ میں تو ڈر گیا تھا‘ کہ کہیں امیر المومنین آپ کی گردن اڑانے کا حکم نہ دے دیں۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی نے پوچھا کہ اگر میری گردن اڑانے کا حکم ملتا تو میری گردن اڑا دیتے‘ خالد نے کہا کہ میں ضرور آپ کو قتل کر دیتا۔ جب سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کو خلافت پہنچی تو خالد حسب معمول اپنے مرتبہ پر آکر ان کے سامنے کھڑا ہوا‘ آپ نے خالد کو حکم دیا‘ کہ یہ تلوار رکھ دو اور اپنے آپ کو معزول سمجھو‘ پھر عمرو بن مہاجر انصاری کو بلایا اور کوتوال مقرر کر کے کہا کہ میں نے اس کو اکثر قرآن شریف پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور اس کو ایسی جگہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جہاں کوئی اس کو نہ دیکھ سکتا تھا۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص نزاع‘ غصہ اور طمع سے دور رہا وہ فلاح پا گیا‘ کسی نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی سے کہا کہ اگر آپ اپنے لیے کوئی لحاظ مقرر کر لیں اور کھانے پینے میں احتیاط رکھیں تو بہت اچھا ہو‘ آپ نے فرمایا کہ الٰہی اگر میں قیامت کے سوا کسی اور چیز سے ڈرتا ہوں تو مجھے اس سے امن میں نہ رکھنا۔ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا: کہ لوگو اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘ اور طلب رزق میں مارے مارے نہ پھرو‘ رزق مقسوم اگر پہاڑ یا زمین کے نیچے بھی دبا ہوا ہو گا تو پہنچ کر رہے گا‘ ازہر کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو خطبہ پڑھتے ہوئے دیکھا ہے آپ کی قمیص میں پیوند لگے ہوئے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے عمرو بن قیس سکونی کو لشکر صائفہ کا سپہ سالار بنا کر روانہ کیا‘ اور رخصت کرتے ہوئے فرمایا کہ وہاں کے نیک لوگوں کی بات سننا اور بدوں سے درگزر کرنا‘ جاتے ہی ان کا قتل شروع نہ کر دینا اور آخر میں بدنامی نہ اٹھانا‘ متوسط حالت اختیار کرنا کہ وہ تمہارا مرتبہ بھول نہ جائیں اور تمہاری باتیں سننے کی تمنا کرتے رہیں۔ جراح بن عبداللہ عامل خراسان نے آپ کو لکھا کہ اہل خراسان بہت ناہموار لوگ ہیں۔ یہ بغیر تلوار کے سیدھے نہ ہوں گے‘ آپ نے جواب لکھا کہ تم یہ جھوٹ کہتے ہو کہ اہل خراسان بغیر تلوار کے اصلاح پر نہ آئیں گے‘ عدل اور حق رسانی وہ چیزیں ہیں کہ ان سے خود درست ہو جائیں گے‘ پس ان میں انہیں دو چیزوں کی اشاعت کرو۔ صالح بن جبیر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ کبھی ایسا اتفاق ہوتا کہ میں کوئی بات امیرالمومنین رحمہ اللہ تعالی سے کہتا اور وہ مجھ سے ناراض ہو جاتے‘ ایک مرتبہ ان کے سامنے ذکر ہوا کہ ایک کتاب میں لکھا ہے کہ بادشاہ کی ناراضی سے ڈرنا چاہیئے‘ اور جب بادشاہ کا غصہ اتر جائے تب اس کے سامنے جانا چاہیئے‘ آپ نے یہ سن کر فرمایا کہ صالح میں تجھے اجازت دیتا ہوں کہ تو میرے ساتھ اس کی پابندی نہ کر۔ ذہبی کہتے ہیں کہ میلان نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے عہد خلافت میں قدر کا انکار کیا‘ آپ نے اس کو بلا کر توبہ کرنے کا حکم دیا‘ اس نے کہا کہ اگر میں گمراہ ہوتا‘ تو آپ کا یہ ہدایت کرنا مناسب تھا‘ آپ نے فرمایا کہ الٰہی اگر یہ شخص سچا ہے تو خیر ورنہ اس کے ہاتھ اور پیر کاٹ اور سولی پر چڑھا‘ یہ فرما کر اس کو چھوڑ دیا‘ وہ اپنے عقیدہ پر قائم رہا اور اس کی اشاعت بھی کرتا رہا‘ مگر خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے اس کو اس عقیدے کے جرم میں پکڑ کر اس کے اعضاء کٹوائے اور سولی پر چڑھا دیا۔ ایک مرتبہ بنو مروان سیدنا عمر بن عبدالعزیز کے دروازے پر جمع ہوئے‘ اور آپ کے صاحبزادے سے کہا کہ اپنے والد سے جا کر کہو کہ آپ سے پہلے جتنے خلفاء ہوتے رہے ہیں وہ سب ہمارے لیے کچھ عطایا اور جاگیریں مخصوص کرتے رہے ہیں‘ لیکن آپ نے خلیفہ ہو کر ہم پر تمام چیزیں حرام کر دیں‘ آپ کے صاحب زادے نے یہ پیغام جا کر کہا‘ تو آپ نے فرمایا کہ ان سے جا کر کہہ دو کہ میرا باپ کہتا ہے: {اِنِّیْ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ} (الانعام : ۶/۱۵) ’’اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘