ولید بن عبدالملک

ولید بن عبدالملک کی وفات

ولید نے اپنے بھائی سلیمان کو ولی عہدی سے معزول کر کے اپنے بیٹوں کو ولی عہد بنانے کی جوکوشش کرنی چاہی تھی‘ اس میں وہ کامیاب نہ ہو سکا‘ اگر وہ چند روز اور نہ مرتا تو شاید اپنے ارادے میں کامیاب ہو جاتا‘ لیکن اب یہ ہوا‘ کہ سلیمان ان سرداروں کا جنہوں نے ولید کے ارادے کی تائید کی تھی دشمن ہو گیا‘ نیز ہر ایک اس سے جس کو ولید محبوب و مکرم رکھتا تھا‘ سلیمان کو دشمنی ہو گئی‘ اور اس کا نتیجہ آئندہ عالم اسلام کے لیے کسی قدر مضر ثابت ہوا۔ ولید بن عبدالملک نے ۱۵ جمادی الثانی ۹۶ھ‘ مطابق ۲۵ فروری ۷۱۵ء میں پنتالیس سال‘ چند ماہ کی عمر میں نو سال‘ آٹھ مہینے خلافت کرنے کے بعد ملک شام کے مقام دیر مران میں وفات پائی اور ۱۹ بیٹے چھوڑے۔ ولید کے عہد خلافت میں سندھ‘ ترکستان‘ بخارا‘ سمر قند‘ وغیرہ اور اندلس‘ ایشیائے کوچک کے اکثر شہر و قلعے اور بعض جزیرے اسلامی حکومت میں شامل ہوئے‘ ولید کی خلافت مسلمانوں کے لیے ایک طرف راحت و آرام اور خوش حالی کا زمانہ تھا تو دوسری طرف فتوحات ملکی کا خاص زمانہ تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد اس قدر عظیم و اہم فتوحات ملکی اور کسی خلیفہ کے زمانہ میں اب تک مسلمانوں کو حاصل نہ ہوئی تھیں‘ جب ولید کا انتقال ہوا تواس کا بھائی سلیمان بن عبدالملک مقام رملہ میں تھا۔