عبدالملک بن مروان

حجاج و مہلب کی عزت افزائی

عبدالملک بن مروان کے لیے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے بعد سب سے زیادہ خطرناک خوارج کا فتنہ تھا‘ اگر عبدالملک خوارج کی طرف سے چند روز اور بے فکر رہتا‘ اور ان کے استیصال کی تدبیروں میں مصروف نہ ہو جاتا‘ تو یقینا خراسان‘ و فارس و عراق وغیرہ صوبے اس کے قبضے سے نکل گئے ہوتے‘ اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے حجاج نے اپنے فرائض کو عراق میں آکر نہایت خوبی کے ساتھ انجام دیا‘ مہلب بن ابی صفرہ کا انتخاب بھی خوارج کی سرکوبی کے لیے بہت عمدہ اور صحیح انتخاب تھا‘ اب جب کہ کئی برس کی کوششوں کے بعد خوارج کی طرف سے اطمینان حاصل ہوا تو عبدالملک نے ۷۸ھ میں کوفہ و بصرہ یعنی عراق کے سوا خراسان و سجستان بھی براہ راست حجاج کی حکومت و انتظام میں دے دے‘ اس طرح حجاج کو گویا تمام مشرقی ممالک اسلامیہ کا حاکم بنا دیا‘ حجاج نے اسی سال مہلب بن ابی صفرہ کو خراسان کا امیر اور عبیداللہ بن ابو بکرہ کو سجستان کا امیر بنا کر روانہ کیا‘ مہلب اب تک ایک مشہور سپہ سالار تھا لیکن اب وہ امیر خراسان بن گیا۔ مہلب ۸۰ھ تک خود بصرہ ہی میں مقیم رہا اور اپنی طرف سے اپنے بیٹے حبیب کو خراسان کا امیر بنا کر بھیجا‘ حبیب نے باپ کی ہدایت کے موافق خراسان میں جا کر امیہ بن عبداللہ اور اس کے اہل کاروں سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا‘ نہ ان کی تعظیم و تکریم میں کسی قسم کا فرق آنے دیا‘ مہلب کی بیٹی ہند بنت مہلب سے حجاج نے شادی کی اور اس طرح مہلب کو حجاج کے ساتھ رشتہ داری کا تعلق بھی حاصل ہو گیا۔ ۸۰ ہجری میں مہلب نے خود خراسان میں آکر ملک کا اہتمام و انتظام اپنے ہاتھ میں لیا‘ اور پانچ ہزار کی جمعیت لے کر مارواء النہر کی طرف بڑھ کر مقام کش کا محاصرہ کیا‘ یہاں بادشاہ ختن کے چچا زاد بھائی نے آکر مدد کی درخواست کی‘ مہلب نے اپنے بیٹے یزید کو اس کے ساتھ بھیج دیا‘ یزید نے شاہ ختن کو قتل کیا‘ اور ختن کا ملک اس کے بھتیجے کوسپرد کر کے حسب المنشاء عہد نامہ لکھوا کر واپس آیا۔ انہیں ایام میں مہلب نے اپنے بیٹے حبیب کو چار ہزار فوج دے کر بخارا پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا‘ والی بخارا نے چالیس ہزار فوج سے مقابلہ کیا‘ مگر انجام کار حبیب کو فتح اور بخارا والوں کو شکست حاصل ہوئی‘ حبیب بہت سامان غنیمت لے کر مہلب کی خدمت میں واپس آیا‘ کش کا محاصرہ دو برس تک جاری رہا‘ آخر اہل کش نے جزیہ دینامنظورکر لیا اور مہلب بعد صلح قلعہ کش سے واپس ہوا۔