ملک عرب
غارت گری
جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے عرب میں دو قسم کے لوگ تھے ایک وہ جو شہروں اور بستیوں میں آباد تھے‘ دوسرے وہ جو خانہ بدوشی کی حالت میں پھرتے تھے اور تعداد میں زیادہ تھے‘ شہری لوگوں میں اگرچہ حقوق ہمسایہ کی رعایت‘ امانت و دیانت داری وغیرہ صفات تھے مگر تجارت میں مکرو دغا دھوکہ بازی وغیرہ عیوب ان میں بھی موجود تھے‘ خانہ بدوش یا بدوی رہزنی اور ڈاکہ ڈالنے میں بے حد مشاق تھے‘ مسافروں کو لوٹ لینے اور زبردستی کسی کا مال چھین لینے کی سب کو عادت تھی‘ اگر کسی شخص کو تنہا سفر میں پاتے تو اس کا مال چھین لیتے اور اس کو غلام بنا کر بیچ ڈالتے‘ راستوں میں جو کنویں بنے ہوئے ہوتے ان کو گھاس وغیرہ سے چھپا دیتے کہ مسافر کو پانی نہ مل سکے‘ اور پیاس سے مر جائے تو بلازحمت اس کا مال ہاتھ آئے‘ چوری میں بھی خوب مشاق تھے بعض بعض تو چوری میں اس قدر مشہور تھے کہ ان کے نام بطور ضرب المثل مشہور ہوئے‘ ان چوروں کو ذئوبان العرب (عرب کے بھیڑئیے) بھی کہا جاتا تھا۔