سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما
عبدالملک کی جنگی تیاریاں
عبدالملک نے خالد بن عبیداللہ بن اسید کو خفیہ طور پر بصرہ میں بھیجا‘ کہ وہاں جا کر سیدنا عبداللہ بن زبیر کے خلاف اور بنو امیہ کے موافق لوگوں کو اپنا ہم خیال بنائے‘ چنانچہ خالد نے بصرہ میں آکر بنو بکر بن وائل اور قبیلہ ازد میں اپنا سازشی کام شروع کیا اور ایک بڑی جماعت اپنے ہم خیال بنا لی‘ اس کا حال عمر بن عبداللہ بن معمر کو معلوم ہوا تو اس نے فوج بھیجی‘ خالد کے ہمراہیوں نے مقابلہ کیا اور بالآخر خالد کو بصرہ سے نکال دیا گیا۔ بصرہ کی جب یہ پریشان کن خبریں کوفہ میں پہنچیں اور حالات کا صحیح علم ہوا‘ تو ناممکن تھا کہ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما خاموش بیٹھے رہتے۔
بصرہ کی ایسی تشویشناک حالت سن کر مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما کوفہ سے بصرہ آئے‘ اور وہاں خالد کے ہمراہیوں اور ہم خیالوں کو سزائیں دیں‘ جرمانے کئے‘ بعض کے مکانات منہدم کرا دیئے‘ اسی طرح کوفہ میں بھی اندر ہی اندر عبدالملک کے لوگ اپنا کام کر رہے تھے۔ سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ فوجی سردار مثلاً عتاب بن ورقاء وغیرہ بھی اندرونی طور پر عبدالملک سے ساز باز کر چکے تھے۔
ایک طرف عبدالملک نے فوجی تیاریاں شروع کیں‘ تو دوسری طرف کوفہ و بصرہ کی فوجوں میں بغاوت کی سازشیں بڑے بڑے لالچ دے کر پھیلا دیں‘ چنانچہ ایک مرتبہ ابراہیم بن اشتر کے پاس عبدالملک بن مروان کا ایک سر بمہر خط آیا‘ ابراہیم جانتا تھا کہ اس میں کیا لکھا ہو گا اس نے اس خط کے لفافے کو کھولے بغیر بجنسہ مصعب کی خدمت میں پیش کر دیا‘ مصعب نے اس کو کھول کر پڑھا‘ تو اس میں عبدالملک نے ابراہیم کو لکھا تھا کہ تم میرے پاس چلے آئو‘ میں تم کو تمام ملک عراق کا گورنر مقرر کر دوں گا۔
مصعب نے ابراہیم سے کہا ‘ کہ کیا تم جیسا شخص بھی ایسے فقروں میں آسکتا ہے‘ ابراہیم نے کہا‘ کہ میں تو کبھی غدر و خیانت نہ کروں گا‘ لیکن عبدالملک نے آپ کے تمام سرداروں کو اسی قسم کے خطوط لکھے ہیں‘ اگر آپ میری رائے مانتے ہیں‘ تو ان تمام سرداروں کو قتل یا قید کر دیں‘ مصعب نے اس رائے کو ناپسند فرمایا‘ اور اپنے کسی سردار سے نہ کچھ دریافت کیا‘ نہ کچھ مواخذہ کیا۔