سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما

مختار کا قتل اور کوفہ پر قبضہ

جب مہلب آگیا‘ تو مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما نے اس کو حکم دیا کہ حبر اکبر پر اپنے لشکر کو مرتب کرو‘ عبدالرحمن بن احنف کو کوفہ کی طرف روانہ کیا کہ وہاں جا کر قیام کرو اور پوشیدہ طور پر لوگوں سے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے نام پر بیعت لو‘ عباد بن حصین حطمی تمیمی کو مقدمۃ الجیش کا افسر بنایا‘ میمنہ پر عمر بن عبیداللہ بن معمر کو اور میسرہ پر مہلب بن ابی صفرہ کو مامور کیا اور قلب لشکر کی سرداری خود معصب بن زبیر رضی اللہ عنھما نے اپنے پاس رکھی‘ اس طرح یہ لشکر مرتب ہو کر بصرہ سے کوفہ کی جانب روانہ ہوا۔ مختار کو جب اس فوج کشی کا حال معلوم ہوا تو وہ بھی فوج لے کر کوفہ سے نکلا‘ ابراہیم بن مالک اس زمانہ میں موصل کی حکومت پر مامور تھا اور وہ کوفہ نہیں آسکا تھا‘ بصرہ کی فوج میں ایک دستہ فوج ان لوگوں کا تھا‘ جو کوفہ سے بھاگ کر بصرہ پہنچے تھے‘ اس دستہ فوج کی سرداری محمد بن الاشعت کو دی گئی تھی‘ دونوں فوجوں کا مدارا نامی گائوں کے قریب مقابلہ ہوا خوب زور شور کی لڑائی ہوئی‘ آخر مختار کو شکست ہوئی اور وہ فرار ہو کر کوفہ میں داخل ہوا‘ قصر امارت کی مضبوطی کر کے محصور ہو بیٹھا۔ میدان جنگ سے جب کوفی لشکر بھاگا تو محمد بن الاشعت نے فراریوں کا تعاقب کیا اور بھاگتے ہوئوں کو دور تک قتل کرتا چلا گیا‘ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما نے دارالامارۃ کا محاصرہ کر لیا یہ محاصرہ کئی روز تک جاری رہا‘ مختار کے ساتھ ایک ہزار آدمی قصر کے اندر محصور تھے‘ آخر سامان رسد کی کمی سے مجبور ہو کر مختار نے قلعہ کا دروازہ کھولنے اور مقابلہ کر کے مرنے کا ارادہ کیا‘ اس کے ہمراہیوں نے اس کو منع کیا اور مشورہ دیا کہ مصعب سے جان کی امان طلب کر کے دروازہ کھولو‘ یقین ہے کہ مصعب بن زبیر ضرور امان دے گا‘ لیکن مختار نے اس مشورے کو ناپسند کیا‘ سر میں خوشبودار تیل ڈالا‘ کپڑوں کو عطر ملا‘ اور ہتھیار لگا کر قصر سے نکلا‘ صرف انیس آدمیوں نے اس کا ساتھ دیا‘ باقی قصر کے اندر ہی رہے‘ مختار نے نکل کر حملہ کیا اور طرفہ و طراف پسران عبداللہ بن دجاجہ صیفی کے ہاتھ سے مارا گیا۔ مختار ۱۴ رمضان المبارک ۶۷ھ کو مقتول ہوا‘ مختار کے ہمرائیوں میں عبیداللہ بن علی بن ابی طالب بھی مقتول ہوئے‘ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما نے ان لوگوں کو جو قصر امارت کے اندر محصور تھے …گرفتار کیا‘ تمام وہ لوگ بھی جو میدان جنگ میں گرفتار ہوئے تھے کوفہ کے اندر لائے گئے‘ اور ایک وسیع مقام پر ان تمام قیدیوں کو فراہم کر کے ان کی نسبت مشورہ کیا گیا‘ مہلب بن ابی صفرہ نے کہا کہ ان سب کو چھوڑ دینا چاہیئے‘ لیکن محمد بن الاشعت اورتمام دوسرے کوفیوں نے یہ سن کر مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما کو اس رائے پر عمل کرنے سے منع کیا۔ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما حیران تھے کہ میں کیا کروں‘ کوفی کہتے تھے‘ کہ ان لوگوں نے مختار کے ہاتھ پر بیعت کر کے کوفہ میں کوئی گھر ایسا نہیں چھوڑا‘ جس میں کوئی نہ کوئی آدمی قتل نہ کیا ہو‘ اگر یہ لوگ اب چھوڑ دیئے گئے تو اسی وقت تمام کوفہ باغی ہو جائے گا‘ ان لوگوں کی کل تعداد چھ ہزار تھی جن میں صرف سات سو عرب اور باقی ایرانی لوگ تھے‘ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما نے آخر سوچ کر یہی فیصلہ کیا کہ ان لوگوں کو قتل کر دیا جائے‘ چنانچہ وہ سب قتل کر دیئے گئے‘ اور اہل کوفہ کو اطمینان میسر ہوا‘ مصعب نے مختار کے دونوں ہاتھ کٹوا کر جامع مسجد کوفہ کے دروازہ پر لٹکا دیئے‘ جو حجاج کے عہد امارت تک وہاں لٹکے رہے۔ مصعب بن زبیر رضی اللہ عنھما نے کوفہ پر قابض ہو کر ابراہیم بن مالک کو جو موصل پر قابض اور مختار کی طرف سے مامور تھا ایک خط لکھا کہ تم کو اب میری اطاعت کرنی چاہیئے‘ میں تم کو ملک شام کی سند دے دوں گا اور ساتھ ہی وعدہ کرتا ہوں کہ شام سے مغرب کی جانب جس قدر ممالک پر تم قبضہ کرتے چلے جائو گے وہ سب تمہاری جاگیر سمجھے جائیں گے‘ ادھر مختار کے مارے جانے کی خبر سن کر عبدالملک بن مروان نے دمشق سے ابراہیم کے پاس خط بھیجا‘ کہ تم میری اطاعت اختیار کر لو‘ میں تم کو عراق کی سند دے دوں گا اور جس قدر ممالک تم مشرق کی طرف فتح کرتے چلے جائو گے‘ وہ سب تمہاری حکومت میں شامل رہیں گے‘ دونوں طرف سے ایک ہی قسم کے خطوط ابراہیم کے پاس پہنچے‘ اس نے عبدالملک پر مصعب کو ترجیح دی‘ اور کوفہ میں آکر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی خلافت کو تسلیم کر کے مصعب کے ہاتھ پر بیعت کی۔ مصعب نے موصل و جزیرہ کی حکومت پر مہلب بن ابی صفرہ کو مامور کر کے بھیج دیا‘ اور ابراہیم کو اپنے پاس مہلب کی جگہ سپہ سالاری پر رکھا‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کو جب مختار کے مارے جانے اور کوفہ پر قبضہ ہونے کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے مصعب کو کوفہ کی گورنری پر نامزد کر کے بصرہ کی گورنری پر اپنے بیٹے حمزہ بن عبداللہ کو بھیجا‘ حمزہ نے اہل بصرہ کو ناراض کر دیا اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کو خطوط لکھے‘ کہ حمزہ کو معزول کر کے مصعب کو بصرہ کی حکومت پر بھیج دیجئے‘ آخر ۶۸ھ میں مصعب کو بصرہ کی حکومت بھی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے سپرد کر دی۔