سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما
یمامہ پر نجد بن عامر کا قبضہ
نجدہ بن عامر بن عبداللہ بن ساد بن مفرح نے یمامہ کے علاقہ میں سورش و بغاوت کا سلسلہ ۶۵ھ سے شروع کر دیا تھا‘ لیکن اس نے مصلحتاً اپنی جمعیت کی سرداری خود نہیں قبول کی تھی‘ بلکہ ابو طالوت نامی ایک شخص کو سردار بنایا تھا‘ ۶۵ھ میں اس جماعت کو کوئی زیادہ اہمیت حاصل نہ تھی‘ بجز اس کے قافلوں پر چھاپے مارتے اور مسافروں کے لیے راستوں کو پر خطر بناتے تھے‘ ۶۶ھ میں ان لوگوں کو یہاں تک تقویت حاصل ہوئی‘ کہ وہ شہروں کو لوٹنے اور غارت کرنے لگے‘ ابو طالوت کو معزول کر کے نجدہ بن عامر خود امیر جماعت بنا اور ۶۶ھ کے آخری ایام میں وہ یمامہ اور اس کے نواحی علاقہ کا مستقل حکمراں بن گیا۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما ان ایام میں یمامہ کی طرف کوئی فوج نہ بھیج سکے‘ کیوں کہ ان کے لیے اس سے زیادہ ضروری اور اہم کام شام و عراق کے متعلق درپیش تھے‘ لہٰذا نجدہ بن عامر کی فرماں روائی یمامہ پر ۶۹ھ یا ۷۰ھ تک قائم رہی۔