سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما اور ان کی خلافت کے حالات اوپر بیان ہوتے چلے آئے ہیں‘ مروان بن حکم کی وفات چوں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے عہد خلافت میں ہوئی‘ اوراس کی وفات کے بعد بھی بہت دنوں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی خلافت قائم رہی‘ لہٰذا مناسب یہی سمجھا گیا کہ یزید بن معاویہ اور معاویہ بن یزید کے بعد مروان بن حکم کے حالات قلم بند کئے جائیں اور اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے بقیہ حالات خلافت ختم کر دیئے جائیں‘ عبدالملک بن مروان اب تخت نشین ہو چکا ہے‘ لیکن اس کی خلافت و سلطنت کا زمانہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کی خلافت کے بعد بھی چوں کہ باقی رہے گا لہٰذا عبدالملک کے عنوان سے اس کی حکومت کے حالات سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے بعد لکھے جائیں گے۔
حادثہ کربلا کے بعد سے جو زمانہ شروع ہوتا ہے وہ آئندہ ۲۰ سال تک عالم اسلام کے لیے ایسا ہی پر آشوب زمانہ ہے جیسا کہ ۶ھ سے ۴۰ھ تک کا زمانہ گذر چکا ہے‘ ہم اس وقت ایک نہایت خطرناک زمانہ کے حالات کا مطالعہ کر رہے ہیں‘ اس زمانہ کے حالات لکھنے میں کسی تسلسل زمانی کاقائم رکھنا بھی بے حد دشوار ہے۔ حالات کچھ ایسے پیچیدہ وژولیدہ ہیں کہ اگر ترتیب زمانی کا لحاظ ترک کر کے ان کی الگ الگ تقسیم کی جائے‘ تو یہ بھی ممکن نہیں ہے‘ تاہم میں نے کوشش کی ہے‘ کہ دوسری تاریخوں کے مقابلہ میں اس کتاب کے اندر ربط اور ترتیب زیادہ پائی جائے‘ پڑھنے والے کے دماغ پر بوجھ کم پڑے‘ اور حقیقت کا عکس دماغ میں عمدگی سے قائم ہو سکے۔
ابتدائی حالات اور خصائل
آپ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے‘ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما بن عوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی‘ آپ کی کنیت ابو خبیب ہے‘ خود بھی صحابی ہیں اور صحابی کے بیٹے ہیں‘ آپ کے والد زبیر بن عوام عشرہ مبشرہ میں سے ہیں‘ آپ کی والدہ سیدنا اسماء رضی اللہ عنھا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بیٹی‘ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی بہن تھیں‘ آپ کی دادی سیدنا صفیہ رضی اللہ عنھا تھیں‘ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پھوپھی تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مدینہ میں ہجرت کر کے تشریف لانے سے بیس مہینے کے بعد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما پیدا ہوئے‘ آپ مدینہ منورہ میں مہاجرین کی سب سے پہلی اولاد ہیں‘ آپ کے پیدا ہونے سے مہاجرین میں غیر معمولی طور پر بہت خوشیاں منائی گئیں‘ کیوں کہ یہود ان نامسعود نے جب دیکھا‘ کہ ایک مدت تک مہاجرین کے کوئی اولاد مدینہ میں پیدا نہیں ہوئی‘ تو انہوں نے مشہور کر دیا تھا‘ کہ ہم نے جادو کر دیا ہے‘ اب مہاجرین کے کوئی اولاد پیدا نہ ہو گی‘ اسی لیے آپ کے پیدا ہونے سے جس طرح مسلمانوں کو خوشی ہوئی‘ اسی طرح یہودیوں کو رنج و ملال اور ذلت و ندامت حاصل ہوئی‘ پیدا ہونے کے بعد ہی آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیش کیا گیا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کھجور اپنے منہ میں چبا کر آپ کو چٹائی۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما روزے بہت رکھتے اور نمازیں بھی بہت پڑھتے تھے‘ کبھی ساری ساری رات قیام میں‘ کبھی ساری ساری رات رکوع میں‘ کبھی ساری ساری رات سجدے میں پڑے رہتے تھے‘ صلہ رحمی کا آپ کو بہت خیال تھا‘ آپ بہت بڑے بہادر اور زبردست سپہ سالار تھے‘ آپ کی شہ سواری قریش میں ضرب المثل اور موجب افتخار تھی‘ آپ نہایت مستقل مزاج اور مصائب کے وقت قائم رہنے والے شخص تھے‘ آپ نہایت خوش تقریر اور جہیر الصوت تھے آپ کی آواز پہاڑوں سے جا کر ٹکرایا کرتی تھی۔
عمر بن قیس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے پاس سو غلام تھے جن میں سے ہر ایک کی زبان جدا جدا تھی‘ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اسی کی زبان میں باتیں کیا کرتے تھے‘ ان ہی کا قول ہے کہ جب میں عبداللہ بن زبیر کو کوئی دین کا کام کرتے ہوئے دیکھتا تو خیال کرتا تھا‘ کہ ان کو کبھی ایک لمحہ کے لیے بھی دنیا یاد نہ آتی ہو گی۔
ایک روز عبداللہ بن زبیر اسدی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے پاس آیا اور کہا کہ امیر المومنین! میں اور آپ فلاں سلسلہ سے رشتہ دار ہیں۔
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے کہا ہاں درست ہے‘ لیکن اگر غور کرو تو تمام بنی آدم آپس میں رشتہ دار ہیں‘ کیوں کہ سب آدم و حوا کی اولاد ہیں۔
عبداللہ اسدی نے کہا کہ میرا نفقہ تمام ہو چکا ہے‘ یعنی میرے پاس اب خرچ کرنے کو کچھ نہیں رہا۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے کہا‘ میں نے تمہارے نفقہ کی کوئی ضمانت نہیں کی تھی۔
عبداللہ اسدی نے کہا میرا اونٹ سردی سے مرا جاتا ہے۔
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے کہا کہ تم اس کو کسی گرم مقام میں پہنچا دو‘ اور اس پر کوئی گرم کپڑا‘ نمدا یا کمبل وغیرہ ڈال دو۔
عبداللہ اسدی نے کہا‘ کہ میں آپ سے مشورہ لینے نہیں آیا تھا‘ بلکہ کچھ مانگنے آیا تھا‘ اس اونٹ پر لعنت ہے‘ جس نے مجھے آپ تک پہنچایا۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے فرمایا‘ اس اونٹ کے سوار پر بھی تو لعنت کہو۔