مروان بن حکم

محاصرہ قرقیسا

اوپر پڑھ آئے ہو کہ مروان بن حکم کی امارت و خلافت سے پہلے قنسرین کی حکومت ظفر بن حارث کے ہاتھ میں تھی‘ مروان کی کامیابی کے بعد ظفر بن حارث سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کے پاس گیا‘ اور مصر پر مروان کے قابض ہونے کی خبر سنائی ‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما نے اس کو قرقیسا کا عامل بنا کر بھیج دیا‘ جو شام و عراق کے درمیان سرحدی ضلع تھا‘ مروان نے جنگ عین الوردہ کے بعد عبیداللہ بن زیاد کو مامور کیا‘ کہ ظفر بن حارث کو قرقیسا سے بے دخل کر دے۔ عبیداللہ بن زیاد نے قرقیسا کا محاصرہ کیا اور ظفر بن حارث نے پوری ہمت و استقامت کے ساتھ مدافعت کی‘ اس محاصرہ اور مدافعت نے اس وقت تک طول کھینچا کہ جب عبیداللہ بن زیاد مروان کے مرنے کی خبر سن کر اور محاصرے سے مایوس ہو کر دمشق کی طرف واپس ہوا۔