یزید بن معاویہ
یزید کی سلطنت پر ایک نظر
یزید کی سلطنت تقریباً پونے چار سال رہی‘ اس کے دور حکومت میں افریقی فتوحات کے علاوہ مسلمانوں کو کوئی خاص فتح و کامیابی حاصل نہیں ہوئی‘ بلکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیس سالہ حکومت وخلافت کے بعد اندرونی جھگڑوں اور بیرونی اقوام کی طرف سے غافل ہونے کا زمانہ شروع ہو گیا‘ یزید کے دامن پر سب سے بڑا داغ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ہے‘ جس نے اس کے اور دوسرے معائب کو بھی نمایاں کر دیا ہے‘۱؎ لیکن اسی کے ساتھ اگر ہمیں تحقیق حق منظور ہے تو سکون قلب کے ساتھ واقعات کی تہ تک پہنچنے کی کوشش میں ہمت نہیں ہارنی چاہیئے‘ اور غور کرنا چاہیئے‘ کہ ان تمام مظالم اور ناشدنی برتائو کے جو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ میدان کربلا میں ہوئے اصل محرکات کیا تھے؟
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا‘ کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی تحریک پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو ولی عہد بنایا‘ ورنہ اس سے پہلے ان کو اس کا خیال بھی نہ گزارا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے خلیفہ بنانے کی تمنا کریں‘ سب سے پہلے اس تجویز کو مغیرہ رضی اللہ عنہ ہی نے کوفہ میں پروان چڑھایا‘ لیکن بنیادی طور پر یہ تجویز چوں کہ خلافت راشدہ کی سنت کے خلاف اور اسلامی جمہوریت کی روح کے منافی تھی‘ اس لیے اسی وقت مدینہ منورہ میں اس کی مخالفت شروع ہوئی‘ چنانچہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر ضض‘ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما ‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما ‘ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس کی شدت سے مخالفت کی۔ مروان نے جب اس مسئلہ کو مدینہ میں صائب الرائے اور سنجیدہ حلقوں کے سامنے رکھا تو ہر طرف سے اس کی مخالفت شروع ہوئی۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر نے صاف لفظوں میں کہا‘ کہ ہمارے لیے خلیفہ کے انتخاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفاء راشدین رضی اللہ عنھم کے طریقے سوا اور کوئی طریقہ پسندیدہ نہیں ہو سکتا۔
سیدنا عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنھما نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امیر معاویہ نے جوانتخاب کا طریقہ اختیار کیا ہے‘ یہ سنت خلفاء راشدین نہیں‘ بلکہ یہ تو قیصر و کسریٰ کا طریقہ ہے‘ جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ انتخاب مسلمانوں کی بہتری کے لیے نہیں بلکہ بربادی کے لیے
۱؎ذاتی طور پر خلیفہ یزید میں بہت سی خامیاں ہوں گی۔ سوائے انبیاءo کے کون ان خامیوں‘ کوتاہیوں سے بچا ہے۔ کسی میں کم ہوتی ہیں اور کسی میں زیادہ۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یزید کی حیثیت خلیفہ کی تھی اور اس کی (معروف میں) اطاعت مسلمانوں پر فرض تھی۔
کیا گیا ہے‘ کیوں کہ اس طرح تو خلافت اسلامیہ قیصر و کسریٰ کی سلطنت سے مشابہ ہو جائے گی کہ باپ کے بعد بیٹا تخت نشین ہو۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان صاحبان بصیرت کو راضی کرنے کے لیے یہاں تک کہلایا کہ آپ حضرات اس کو محض خلیفہ مان لیں‘ باقی تمام ملک کا نظم و نسق‘ عہدہ داروں کا تقرر و تبدل اور دوسرے انتظام مملکت وہ سب آپ حضرات ہی کے مشورے سے ہو گا‘ لیکن اس پر بھی ان میں سے کوئی تیار نہیں ہوا۔
اس دور کے عوام کے جذبات اور یزید کے کردار کا اندازہ اس سے کیجئے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کے نام ایک عام حکم جاری کیا کہ لوگوں سے یزید کی خوبیاں بیان کرو‘ اور اپنے اپنے علاقوں کے بااثر لوگوں کا ایک ایک وفد میرے پاس بھیجو کہ میں بیعت یزید کے متعلق لوگوں سے خود بھی گفتگو کروں‘ چنانچہ ہر صوبے سے جو وفد آیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے الگ الگ بھی گفتگو کی‘ اور پھر سب کو ایک مجلس میں جمع کر کے ایک خطبہ دیا جس میں خلفاء کے فرائض‘ حقوق حکام کی اطاعت اور عوام کے فرائض بیان کر کے یزید کی شجاعت‘ سخاوت‘ عقل و تدبیر اور انتظامی قابلیت کا تذکرہ کر کے اس بات کی خواہش ظاہر کی کہ یزید کی ولیعہدی پر بیعت کر لینی چاہیئے‘ لیکن اس کے جواب میں مدینہ کے وفد کے ایک رکن محمد بن عمرو بن حزم نے کھڑے ہو کر کہا:
’’امیر المومنین آپ یزید کو خلیفہ تو بناتے ہیں‘ لیکن ذرا اس بات پر بھی خیال فرما لیں‘ کہ قیامت کے دن آپ کو اپنے اس فعل کا خدائے تعالیٰ کی جناب میں جواب دہ ہونا پڑے گا‘‘۔
محمد بن عمرو بن حزم کے ان الفاظ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عوام بھی یزید کی خلافت سے خوش نہ تھے‘ اور اس کی خلافت کے جوئے کو اپنی گردن پر رکھنے کے لیے تیار نہ تھے۔ خود آخر وقت میں امیر معاویہ کے سامنے یزید نے جس قسم کی سرکشی کا اظہار کیا تھا اس سے بھی اس پر روشنی پڑتی ہے کہ وہ کہاں تک خلافت کا اہل تھا۔
شروع ماہ رجب ۶۰ھ میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے‘ اس بیماری میں جب انہیں یقین ہونے لگا‘ کہ اب آخری وقت قریب آ گیا ہے تو انہوں نے یزید کو بلوایا‘ یزید اس وقت دمشق سے باہر شکار میں یا کسی مہم پر گیا ہوا تھا‘ فوراً قاصد گیا اور یزید کو بلا کر لایا‘ یزید حاضر ہوا تو انہوں نے اس سے مخاطب ہو کر کہا:
’’اے بیٹے میری وصیت کو توجہ سے سن اور میرے سوالوں کا جواب دے‘ اب اللہ تعالیٰ کا فرمان یعنی میری موت کا وقت قریب آچکا ہے‘ تو بتا کہ میرے بعد مسلمانوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہتا ہے۔
یزید نے جواب دیا کہ میں کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کروں گا۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا سنت صدیقی پر بھی عامل ہونا چاہیئے‘ کہ انہوں نے مرتدین سے جنگ کی اور اس حالت میں وفات پائی کہ امت ان سے خوش تھی۔
یزید نے کہا‘ نہیں صرف کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کی پیروی کافی ہے۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پھر کہا کہ اے بیٹے سیرت عمر رضی اللہ عنہ کی پیروی کر‘ کہ انہوں نے شہروں کو آباد کیا‘ فوج کو قوی کیا‘ اور مال غنیمت فوج پر تقسیم کیا۔
یزید نے کہا نہیں‘ صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کافی ہے۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا اے بیٹے سیرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر عامل ہونا کہ انہوں نے لوگوں کو زندگی میں فائدہ پہنچایا‘ اور سخاوت کی۔
یزید نے کہا نہیں‘ صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میرے لیے کافی ہے‘‘۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا‘ اے بیٹے تیری ان باتوں سے مجھ کو یقین ہو گیا‘ کہ تو میری باتوں پر عمل درآمد نہیں کرے گا‘ بلکہ میری وصیت و نصیحت کے خلاف ہی کرے گا۔
بہرحال مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی کوشش سے یزید عالم اسلامی کا خلیفہ ہوا‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی زندگی میں یزید کے لیے بیعت لینا ایک سخت غلطی تھی اور یہ غلطی ان سے غالباً محبت پدری کی وجہ سے سرزد ہوئی‘ مگر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی غلطی ان سے بھی بڑی ہے‘ کیوں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خیال مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہی کی تحریک پر پیدا ہوا تھا‘۱؎ لیکن یزید نے اس منصب کو حاصل کرنے کے بعد اپنے آپ کو خلافت کا اہل ثابت نہیں کیا‘ وہ خوب جانتا تھا کہ اس زمانے میں ایسے بزرگ موجود ہیں جو اپنی پاکیزہ سیرت‘ بلند اخلاقی‘ عبادت و ریاضت اور عملی زندگی اورقوت ایمانی کی وجہ سے آفتاب سمجھے جاتے ہیں‘ بجائے اس کے کہ وہ اپنی حکومت کا نظم و نسق ان بزرگوں کے
۱؎امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور علی کے درمیان جو کچھ ہوا‘ تحقیق کے بعد اب یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اس میں بنیادی کردار سبائی گروہ اور منافق کا تھا۔ دوسرا یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بشری تقاضے کے تحت جو کچھ غلطیاں سرزد ہوئیں‘ وہ ماضی کا حصہ ہیں۔ ہمیں ان کو اچھالنے اور بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ آج کوئی عام کلمہ گو مسلمان جو دین سے بے بہرہ اور عملی اعتبار سے بھی دین سے کوسوں دور ہو‘ اس کے مر جانے کے بعد ہم اس کے کردار کے بارے میں بحث نہیں کرتے بلکہ اس کے بارے میں خاموش رہتے ہیں‘ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا گروہ تو اس امت کا صالح ترین گروہ تھا۔ وہ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ ان کے اچھے کردار کا تذکرہ ہوتا رہے۔
مشورے سے چلاتا‘ اس نے خلافت کے حاصل کرتے ہی اپنے ظلم و استبداد کی چکی کو تیز سے تیز تر کر دیا‘ اس نے مدینہ اور مکہ میں اس وقت جتنے بزرگ موجود تھے‘ مثلاً سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور دوسرے بزرگوں سے بیعت لینے کے لیے وہاں کے عاملوں کے نام احکام جاری کئے کہ ان سب سے میری بیعت لی جائے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جب اس کا یہ پیغام پہنچا‘ تو جناب عالی مقام جیسی مقدس شخصیت اس کے ہاتھ پر بیعت کیسے کر سکتی تھی‘ کیوں کہ اول تو اس کا انتخاب ہی غیر شرعی طریقہ پر ہوا تھا اور اس کی حکومت ایک غیر شرعی حکومت تھی‘ دوسرے یہ کہ وہ اپنے اعمال و کردار کے اعتبار سے بھی اس قدر گرا ہوا تھا‘ کہ وہ ہمیشہ لہو و لعب اور سیر و شکار میں مصروف رہتا تھا‘ خواجہ سرائوں کو اس نے اپنی خدمت گذاری پر مامور کیا تھا‘ رقص و سرود کی محفلوں میں وہ بے محابا شریک ہوتا تھا‘ یہ اور اس قسم کے بہت سے عیوب اس میں تھے‘ وہ کسی طرح بھی اس قابل نہیں تھا کہ اسے ایک منٹ کے لیے بھی مسلمانوں کا خلیفہ یا سردار تسلیم کیا جائے‘ تو ان حالات میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اس کو کیسے خلیفہ تسلیم کر کے اس کے ہاتھ پر بیعت کر سکتے تھے۔
یہ تھے وہ محرکات جس کی وجہ سے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزیدی حکومت کے نظام باطل کی مخالفت کی اور ظلم و استبداد اور باطل حکومت کے خلاف آپ نے اپنے عمل سے ایک ایسی شمع روشن کی کہ جس کی روشنی میں قیامت تک حق پرستوں کے قافلے آگے بڑھتے رہیں گے۔
چنانچہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اس حقیقت کو اپنے مختلف خطبوں میں جو آپ نے میدان کربلا اور دوران سفر کربلا میں دیئے تھے بیان فرمایا‘ مقام بیضہ میں آپ نے حر کے ساتھیوں اور اپنے ہمرائیوں کے سامنے ایک خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا:
’’لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ جس نے ایسے بادشاہ کو دیکھا جو ظالم ہے‘ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرتا ہے‘ اللہ کے عہد کو توڑتا ہے‘ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت کرتا ہے‘ اللہ کے بندوں پر گناہ اور زیادتی کے ساتھ حکومت کرتا ہے اور دیکھنے والے کواس پر اپنے عمل اور قول سے غیرت نہ آئی‘ تو اللہ کو یہ حق ہے کہ اس بادشاہ کی بجائے اس دیکھنے والے کو جہنم میں داخل کر دے‘ تم اچھی طرح سمجھ لو کہ ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت قبول کر لی ہے اور رحمن کی اطاعت چھوڑ دی ہے اور زمین پر فتنہ و فساد پھیلا رکھا ہے‘ حدود الٰہی کو معطل کر دیا ہے اور مال غنیمت میں اپنا حصہ زیادہ لیتے ہیں‘ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کر دیا ہے‘ اس لیے مجھے ان باتوں پر غیرت آنے کا زیادہ حق ہے‘‘۔
یہ تھے وہ اسباب جو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں لائے‘ آپ اور آپ کے اہل بیت اظہار کلمۃ الحق کرتے ہوئے ایک نظام باطل کے مٹانے کی سعی میں شہید ہوئے۔
عام نقطہ نظر سے بھی یزید امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا کوئی اچھا جانشین نہ تھا‘ اس کو مذہب اور روحانیت سے بہت ہی کم تعلق تھا‘ اس نے حکومت اور سیاست میں بھی کسی قابلیت کا اظہار نہیں کیا‘ وہ اگر کسی قابل ہوتا تو سب سے پہلے اس کی کوشش اور ہمت اس کام میں صرف ہوتی کہ لوگ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے تنازعات کو بھول جائیں‘ لیکن اس نے یا تو اس طرف توجہ ہی کم دی‘ یا وہ اپنی ناقابلیت کے سبب کامیاب نہ ہو سکا۔
یزید نے اپنی عملی زندگی کا جو نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کیا‘ اس میں چونکہ فسق و فجور اور خلاف احکام شرع اعمال بھی تھے‘ لہٰذا عام طور پر مسلمانوں کی مذہبی خصوصیات اور عملی زندگی کو نقصان پہنچا‘ اور ضعیف الایمان لوگ گناہوں کے ارتکاب میں شاہی نمونہ دیکھ کر دلیر ہو گئے‘ یزید ہی کے بدنما نمونے نے مسلمانوں کو گانے بجانے اور شراب پینے کی بھی ترغیب دی‘ ورنہ اس سے پہلے عالم اسلام ان خرابیوں سے بالکل پاک تھا۔
یزید کے زمانہ تک حکومت و خلافت میں وراثت کے اصول کو مسلمانوں نے تسلیم نہیں کیا تھا‘ اور وہ سمجھتے تھے‘ کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد یزید کا خلیفہ ہو جانا ایک سخت غلطی ہے‘ اور اس غلطی کی اصلاح ہونی چاہیئے‘ چنانچہ حصین بن نمیر اسی لیے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما کو خلیفہ بنانے کا خواہشمند تھا‘ لیکن یزید کے بعد بتدریج اس وراثت کے خیال کو بنی امیہ کی کوششوں کے سبب تقویت پہنچی‘ اور بالآخر اس رسم بد نے ایسی جڑ پکڑی کہ آج تک مسلمانوں کو اس سے رست گاری (نجات) حاصل نہ ہوئی۔
یزید کا پہلا نکاح ام ہاشم بنت عتبہ بن ربیعہ کے ساتھ ہوا تھا‘ جس سے دو بیٹے معاویہ اور خالد پیدا ہوئے۔ یزید کو خالد کے ساتھ زیادہ محبت تھی‘ لیکن معاویہ کواس نے اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا۔
دوسرا نکاح اس کا ام کلثوم بنت عبداللہ بن عامر سے ہوا‘‘ جس کے بطن سے عبداللہ بن یزید پیدا ہوا جو تیر اندازی کی قابلیت میں کمال شہرت رکھتا تھا‘ اس کے علاوہ چند بیٹے یزید کے لونڈیوں کے پیٹ سے بھی پیدا ہوئے۔