سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
عمرو بن العاص کی وفات
۴۳ ہجری میں مصر کے حاکم سیدنا عمرو بن العاص فوت ہوئے‘ ان کی جگہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے بیٹے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو مصر کا حاکم مقرر کیا‘ اسی سال کوفہ میں خوارج نے یہ دیکھ کر کہ مغیرہ بن شعبہ زیاد بن ابی سفیان کی طرح زیادہ سختی نہیں کرتے اور چشم پوشی سے بہت کام لیتے ہیں‘ بغاوت کے لیے ایک سازش شروع کی‘ مغیرہ بن شعبہ کی جگہ اگر کوفہ میں زیاد بن ابی سفیان ہوتے‘ تو خوارج کو اس سازش کی جرأ ت نہ ہوتی کیونکہ زیاد بن ابی سفیان خوارج کی نبض کو خوب پہچانتے تھے‘ اور بصرہ والوں کو انہوں نے اچھی طرح سیدھا کر دیا تھا۔
مستورد بن علقمہ کی سرداری میں تین سو سے زیادہ خوارج یکم شوال ۴۳ ہجری کو عین عید الفطر کے روز کوفہ سے نکلے‘ مغیرہ نے ان تین سو کی گرفتاری کے لیے تین ہزار کا لشکر بھیجا‘ مقابلہ ہوا‘ اور تین سو خوارج نے تین ہزار کے لشکر کو شکست دی‘ اس کے بعد اور فوج بھیجی گئی‘ اس کو بھی شکست ہوئی‘ بالآخر معقل بن قیس کی سرداری میں ایک زبردست لشکر مغیرہ نے روانہ کیا‘ نتیجہ یہ ہوا کہ معقل بن قیس اور مستورد بن علقمہ دونوں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے اور خوارج کے پانچ آدمیوں کے سوا سب کے سب کھیت رہے‘ اس واقعہ کا یہ اثر ہوا کہ مغیرہ بن شعبہ خوارج کی طرف سے زیادہ چوکس رہنے لگے۔