سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
ابتدائی حالات
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہجرت سے سترہ سال پہلے پیدا ہوئے تھے‘ یعنی وہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے چھ سال چھوٹے تھے‘ سیدنا امیر معاویہ کی ماں ہند بنت عتبہ کی شادی اول فاکہ بن مغیرہ قریشی سے ہوئی تھی‘ فاکہ کو ایک مرتبہ اپنی بیوی ہند کی عصمت و پاک دامنی کے متعلق شبہ گذرا‘ اس نے ہند کو ٹھوکریں مار کر گھر سے نکال دیا‘ اس کا لوگوں میں چرچا ہوا‘ اور ہند کے باپ عتبہ نے بیٹی سے پوچھا‘ کہ یہ کیا معاملہ ہے صاف بتائو‘ اگر فاکہ تم کو متہم کرنے میں سچا ہے تو ہم کسی شخص سے کہہ دیں گے کہ وہ فاکہ کو قتل کر دے گا‘ اور ہم بدنامی سے بچ جائیں گے‘ لیکن اگر وہ جھوٹا ہے‘ اور بلاوجہ بدنام کرتا ہے‘ تو ہم اس معاملہ کو کسی کاہن کی طرف رجوع کریں گے۔
ہند نے اپنی برات و بے گناہی ثابت کرنے کے لیے قسمیں کھائیں اور الزام سے قطعی انکار کیا‘ عتبہ کو جب بیٹی کی بے گناہی کا یقین آگیا‘ تو اس نے فاکہ بن مغیرہ کو مجبور کیا کہ وہ اپنی قوم بنی مخزوم کے لوگوں کو ہمراہ لے کر یمن کے کسی کاہن کے پاس چلے …اسی طرح عتبہ بن ربیعہ بھی اپنے ہمراہ عبد مناف کے چند لوگوں اور ہند کو مع اس کی ایک سہیلی کے لے کر روانہ ہوا‘ کاہن کے پاس ان لوگوں نے پہنچ کر کہا کہ ان دونوں عورتوں کے معاملہ کی طرف توجہ کیجئے۔
کاہن اول ہند کی سہیلی کے پاس گیا‘ اور اس کے دونوں مونڈہوں پر کچھ ضربیں لگا کر کہا کہ اٹھ‘ پھر ہند کے پاس آیا اور اس کو بھی مار کر کہا‘ اٹھ‘ نہ تجھ سے کوئی بدی سرزد ہوئی ہے نہ تو نے زنا کیا ہے‘ اور تو ایک بادشاہ کو جنے گی‘ جس کا نام معاویہ ہو گا۔
فاکہ نے یہ سن کر ہند کا ہاتھ پکڑ لیا‘ مگر ہند نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور کہا کہ اگر میرے پیٹ سے کوئی بادشاہ ہونے والا ہے تو وہ تیرے نطفہ سے نہ ہو گا۔ چنانچہ اس تصدیق بے گناہی کے بعد ہند نے فاکہ سے کوئی تعلق نہ رکھا۔ اس کے بعد ابو سفیان بن حرب نے ہند سے شادی کر لی‘ اور معاویہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے وقت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی عمر چالیس سال سے کچھ زیادہ تھی‘ ابوسفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دس سال عمر میں بڑے تھے‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں لڑکپن ہی سے ایسے علامات پائے جاتے تھے‘ جس سے لوگ ان کو کسرائے عرب کہتے تھے‘ ان کی دانائی‘ خوش تدبیری‘ سلامت روی اور اعتدال پسندی کی خاص طور پر شہرت تھی‘ وہ طویل القامت‘ سرخ و سفید رنگ‘ خوبصورت‘ اور مہیب آدمی تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ عرب کے کسریٰ ہیں‘ جس روز معاویہ رضی اللہ عنہ تم میں سے اٹھ جائیں گے تو تم دیکھو گے کہ بہت سے سر جسموں سے جدا کئے جائیں گے۔ آخر عمر میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا پیٹ کسی قدر بڑھ گیا تھا اور ممبر پر بیٹھ کر خطبہ سناتے تھے‘ بیٹھ کر خطبہ سنانے کی ابتداء امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہی سے ہوئی۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خوب پڑھے لکھے آدمی تھے‘ فتح مکہ کے روز اپنے باپ ابو سفیان کے ہمراہ آکر پچیس سال کی عمر میں مسلمان ہوئے‘ اور پھر وفات نبوی صلی اللہ علیہ و سلم تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے‘ جنگ حنین اور محاصرہ طائف میں بھی شریک تھے‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں تشریف لا کر عمرہ ادا کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے‘ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ مدینہ میں آئے اور کاتب وحی مقرر ہوئے‘ کتابت وحی کی خدمت کے علاوہ باہر سے آئے ہوئے وفود کی مدارت اور ان کے قیام و طعام کا اہتمام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بھائی یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کے ساتھ شام کی طرف بھیجا‘ تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک دستہ فوج دے کر ان کا کمکی مقرر کیا‘ فتوحات شام میں انہوں نے اکثر لڑائیوں کے اندر بطور مقدمہ الجیش کا رہائے نمایاں انجام دیئے اور اپنی شجاعت و مردانگی کا سکہ دلوں پر بٹھایا۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو علاقہ اردن کا مستقل حاکم مقرر کیا‘ طاعون عمواس میں جب سیدنا ابوعبیدہ اور یزید بن ابی سفیان وغیرہ صحابی فوت ہوگئے تو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کو ان کے بھائی یزید کی ولایت دمشق کا والی مقرر فرمایا‘ علاقہ اردن اور دوسرے اضلاع بھی ان کی حکومت میں شامل رہے۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جب بیت المقدس تشریف لے گئے‘ تو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی ان کا استقبال کیا‘ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے ہمرکاب رہے‘ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا کہ تم نے شاہانہ شان و شکوہ اختیار کی ہے‘ اور سنا ہے‘ کہ تم نے دربان بھی مقرر کئے ہیں؟
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ شام کی سرحدوں پر قیصر کی فوجوں کا اجتماع اور حملہ آوری کا ہمیشہ خطرہ رہتا ہے‘ قیصر کے جاسوس ملک شام میں پھیلے ہوئے ہیں‘ قیصر اور عیسائیوں کو مرعوب رکھنے کے لیے ظاہری شان و شوکت اور قیصر کے جاسوسوں سے محفوظ رہنے کے لیے دربانوں کو ضروری سمجھتا ہوں۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس جواب کو معقول سمجھ کر پھر کوئی تعرض نہیں فرمایا۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے بحری حملے کی اجازت طلب کی کہ قسطنطنیہ پر بحری حملہ کیا جائے اور بحر روم کے جزیروں کو فتح کر لیا جائے‘ لیکن فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کو اس کی اجازت نہیں دی۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بعد جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے‘ تو انہوں نے امیر معاویہ کو تمام ملک شام اور اس کے متعلقات کا حاکم بنا دیا‘ بحری فوج کے تیار کرنے کی بھی اجازت دے دی‘ ان کے اختیارات کو بھی وسیع کر دیا‘ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے تمام ملک شام پر قابض و متصرف ہو کر اس ملک میں حکومت اسلامیہ کو خوب مضبوط و مستحکم کیا اور ہمیشہ قیصر روم کو اپنی طرف سے خائف و مرعوب رکھ کر اس امر کا موقع نہیں دیا کہ عیسائی لوگ اسلامی ممالک پر حملہ آوری کی جرأت کر سکیں۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں کے مابین جو کچھ ہوا‘ اس کا ذکر پہلی جلد میں آچکا ہے‘ ربیع الاول ۴۱ ہجری کے آخری عشرہ میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے درمیان مصالحت ہوئی‘ اور تمام عالم اسلامی نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے ان کو خلیفہ وقت تسلیم کیا‘ اس وقت یعنی ربیع الاول ۴۱ ہجری تک امیر معاویہ بیس سال اور زندہ رہے‘ ان کی حکمرانی کا کل زمانہ چالیس سال ہے‘ اس چالیس سال کے نصف اول میں وہ ایک صوبہ دار یا گورنر تھے‘ اور نصف آخر میں خلیفہ نصف اول کے مجمل حالات اور اہم واقعات پہلی جلد میں بیان ہو چکے ہیں‘ اس جگہ ہم کو ان کے حالات بحیثیت خلیفہ یعنی نصف آخر کے واقعات بیان کرتے ہیں‘ اور ان کا نام بطور خلیفہ زیب عنوان کیا گیا ہے۔