ملک عرب

قربانی

بت پرست لوگ جب حج کو آتے تو قربانی کے لیے اونٹ بھی لاتے جن کا خون بتوں پر چڑھایا جاتا‘ ان اونٹوں کے گلے میں جوتا باندھ کر لٹکا دیتے اور ان کے کوہان کو زخمی کر دیتے تھے جو علامت اس بات کی تھی کہ یہ قربانی کا اونٹ ہے‘ پھر کوئی شخص اس اونٹ سے تعرض نہ کرتا اونٹوں کے بچے‘ بھیڑیں اور مختلف چوپائے بتوں پر قربان کئے جاتے تھے‘ بعض قبائل ان بتوں پر آدمی کی قربانی بھی چڑھاتے تھے۔ بعض مؤرخین کا قول ہے کہ عرب کے بت پرست توحید کے قائل تھے اور اللہ کو ایک جانتے تھے‘ ان بتوں کی پرستش وہ اس لیے کرتے تھے کہ یہ بارگاہ الہی میں ان کے سفارشی ہیں‘ ان میں بعض قبائل کا یہ عقیدہ تھا کہ جس شخص کی قبر پر اونٹنی ذبح کی جاتی ہے وہ قیامت کے دن اس اونٹنی پر سوار ہو کر اٹھے گا‘ یہ عقیدہ دلیل اس بات کی ہے کہ وہ حشر و نشر اور یوم جزاء کے قائل تھے۔۱؎