سیدنا علی رضی اللہ عنہ
خوارج کا خطرناک منصوبہ!
اوپر بیان ہو چکا ہے کہ جنگ نہروان میں خوارج کے صرف نو آدمی بچ گئے تھے ان نو آدمیوں نے جو خوارج میں امامت و سرداری کی حیثیت رکھتے تھے اول فارس کے مختلف مقامات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوتوں اور سازشوں کو کامیاب بنانے کی کوششوں میں حصہ لیا‘ مگر جب کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی تو عراق حجاز میں آ کر ادھر ادھر آوارہ پھرنے لگے۔
آخر مکہ معظمہ میں عبدالرحمن بن ملجم مرادی‘ برک بن عبداللہ تمیمی‘ عمروبن بکر تمیمی تین شخص جمع ہوئے‘ اور آپس میں مقتولین نہروان کا ذکر کرکے دیر تک افسوس کرتے رہے‘ پھر تینوں اس رائے پر متفق ہوئے کہ آئو تین سب سے بڑے سرداروں کو جنہوں نے عالم اسلام کو پریشان کر رکھا ہے قتل کر ڈالیں‘ تینوں نے باہم عہدو پیمان کیا اور یہ قرار پایا کہ عبدالرحمن ابن ملجم مرادی مصری سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو‘ اور برک بن عبداللہ تمیمی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو‘ اور عمروبن بکر تمیمی سعدی عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ حاکم مصر کو قتل کرے‘ اور یہ تینوں قتل ایک ہی تاریخ اور ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہوں‘ چنانچہ ۱۶ رمضان المبارک یوم جمعہ نماز فجر کا وقت مقرر ہوا‘ تینوں آدمی کوفہ‘ دمشق اور مصر کی طرف روانہ ہو گئے۔
جب رمضان المبارک کی مقررہ تاریخ آئی‘ تو برک بن عبداللہ تمیمی نے دمشق کی مسجد میں داخل ہو کر جب کہ امیر معاویہ نماز فجر کی امامت کر رہے تھے تلوار کا ایک ہاتھ مارا اور یہ سمجھ کر کہ تلوار کا ہاتھ کاری لگا ہے بھاگا‘ لیکن گرفتار کر لیا گیا‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ زخمی تو ہوئے مگر زخم مہلک نہ تھا‘ چند روز کے علاج معالجہ سے اچھا ہو گیا‘ برک کو ایک روایت کے مطابق اسی وقت اور دوسری روایت کے موافق کئی برس کے بعد قید رکھ کر قتل کیا گیا‘ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد مسجد میں اپنے لیے محفوظ جگہ بنوائی‘ اور پہرہ بھی مقرر کیا۔
اسی مقرر تاریخ اور مقررہ وقت میں عمروبن بکر نے مصر کی مسجد میں نماز فجر کی امامت کرتے ہوئے خارجہ بن ابی حبیبہ بن عامر کو عمروبن العاص رضی اللہ عنہ سمجھ کر تلوار کے ایک ہی وار میں قتل کر دیا‘ اس روز اتفاقاً عمروبن العاص رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تھے‘ اور انہوں نے اپنی جگہ خارجہ بن حبیبہ ایک فوجی افسر کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا‘ عمروبن بکر نے سمجھا کہ یہی عمروبن بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کو قتل کیا۔
اسی روز کوفہ میں عبدالرحمن بن ملجم نے نماز فجر کے وقت مسجد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا‘ اور اس زخم کے صدمہ سے دو روز کے بعد ۱۷ رمضان المبارک ۴۰ ھ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔
تفصیل اس حادثہ جانکاہ کی یہ ہے کہ عبدالرحمن بن ملجم کوفہ میں آ کر اپنے دوستوں سے ملا‘ مگر کسی پر اپنے ارادہ کو ظاہر نہ کیا‘ آخر خوب سوچ سمجھ کر اپنے ایک دوست شبیب بن بجرۃ اشجعی پر اپنا راز ظاہر کیا اور اس سے امداد چاہی اور کہا کہ ہم کو مقتولین نہروان کے عوض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا چاہیے‘ اول تو شبیب نے اس ارادہ سے باز رکھنا چاہا‘پھر کچھ متامل ہوا‘ اور آخر کار ابن ملجم کے کام میں امداد کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
قبیلہ تمیم کے دس آدمی جو خارجی ہو کر لشکر خوارج میں شامل تھے‘ جنگ نہروان میں مقتول ہوئے تھے‘ ان مقتولین کے عزیزوں اور رشتہ داروں کو جو کوفہ میں رہتے تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عناد اور ملال تھا۔ ابن ملجم ان لوگوں سے اکثر ملتا اور اکثر ان کے گھروں میں آتا جاتا رہتا تھا‘ اس نے ایک نہایت حسین و جمیل عورت دیکھی جس کا نام قطام تھا‘ اس عورت کا باپ اور بھائی دونوں انہیں دس مقتولین میں شامل تھے‘ ابن ملجم نے قطام کے پاس شادی کا پیغام بھیجا قطام نے کہا کہ پہلے مہر ادا کر دو تو میں نکاح کے لیے تیار ہوں‘ جب اس نے مہر کی مقدار دریافت کی گئی تو اس نے کہا کہ تین ہزار درہم‘ ایک لونڈی‘ ایک غلام اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا کٹا ہوا سر میرا مہر ہے‘ ابن ملجم تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قتل کی نیت سے آیا ہی تھا‘ اس نے کہ میں صرف آخری شرط پوری کر سکتا ہوں‘ باقی شرائط کی بجا آوری سے اس وقت مجبور ہوں۔ قطام نے کہا کہ اگر تم آخری شرط کو پوری کر دو‘ تو میں باقی چیزوں کو خود چھوڑتی ہوں‘ ابن بلجم نے کہا کہ اگر تو چاہتی ہے کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قتل پر قادر ہو جائوں تو اس راز کو کہیں فاش نہ کرنا‘ قطام نے راز کی حفاظت کا وعدہ کیا‘اور اپنے رشتہ داروں میں سے ایک شخص وردان نامی کو ابن ملجم کے ساتھ مقرر کیا کہ وہ ابن ملجم کی مدد کرے۔
آخر مقررہ تاریخ یعنی ۱۶ رمضان المبارک جمعہ کا دن آ پہنچا‘ اور ابن ملجم‘ شبیب بن بجرہ اور وردان تینوں پچھلی رات سے مسجد کوفہ میں آئے‘ اور دروازہ کے قریب چھپ کر بیٹھ گئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو حسب عادت نماز کے لیے آوازیں دیتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے‘ سب سے پہلے وردان نے بڑھ کر تلوار کا وار کیا‘ مگر اس کی تلوار دروازہ کی چوکھٹ یا دیوار پر پڑی‘ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے‘ ابن ملجم نے فوراً آگے لپک کر آپ کی پیشانی پر تلوار کا ہاتھ مارا جو بہت کاری پڑا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے زخم کھا کر حکم دیا کہ ان کو پکڑو‘ لوگ نماز کے لیے مسجد میں آ چکے تھے‘ یہ حکم سنتے ہی دوڑ پڑے‘ وردان اور شبیب دونوں مسجد سے نکل کر بھاگے‘ مگر ابن ملجم مسجد سے باہر نہ نکل سکا وہ مسجد ہی کے ایک گوشہ میں چھپا اور گرفتار کر لیا گیا‘ شبیب کو ایک شخص حضرمی نے پکڑا‘ مگر وہ چھوٹ کر بھاگ گیا اور ہاتھ نہ آیا وردان بھاگ کر اپنے گھر کے قریب پہنچ چکا تھا کہ لوگوں نے جا لیا اور وہیں قتل کر دیا۔
ابن ملجم گرفتار ہو کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا‘ آپ نے حکم دیا کہ اگر میں اس زخم سے مر جائوں تو تم بھی اس کو قتل کر دینا اور اگر میں اچھا ہو گیا تو خود جو مناسب سمجھوں گا کروں گا‘ پھر آپ نے بنو عبدالمطلب کو وصیت کی کہ میرے قتل کو مسلمانوں کی خوں ریزی کا بہانہ نہ بنانا‘ صرف اسی ایک شخص کو جو میرا قاتل ہے قصاص میں قتل کر دینا۔
پھر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے فرمایا‘ کہ اے حسن رضی اللہ عنہ اگر اس زخم کے صدمہ سے میں مر جائوں تو تم بھی اس کی تلوار سے ایسا ہی ایک وار کرنا کہ اس کا کام تمام ہو جائے اور مثلہ ہرگز نہ کرنا کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
ابن ملجم کی تلوار کا زخم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی کنپٹی تک پہنچا تھا اور تلوار کی دھار دماغ تک اتر گئی تھی‘ مگر آپ جمعہ کے دن تک زندہ رہے‘ ہفتہ کے روز ۱۷ رمضان المبارک کو آپ نے وفات پائی‘ آپ کے وفات پانے سے پیشتر جندب بن عبداللہ نے آ کر عرض کیا کہ آپ ہم سے جدا ہو جائیں یعنی وفات پا جائیں تو کیا ہم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں‘ آپ نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہتا‘ تم جو مناسب سمجھنا کرنا۔
پھر حسنین کو بلا کر فرمایا کہ میں تم کو خدائے تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور دنیا میں مبتلا نہ ہونے کی وصیت کرتا ہوں‘ تم کسی چیز کے حاصل نہ ہونے پر افسوس نہ کرنا‘ ہمیشہ حق بات کہنا‘ یتیموں پر رحم اور بے کسوں کی مدد کرنا‘ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار رہنا‘ قرآن شریف پر عامل رہنا‘ اور حکم خدا کی تعمیل میں ملامت کرنے والوں کی ملامت سے نہ ڈرنا۔
پھر محمد بن الحنفیہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں تم کو بھی ان ہی باتوں کی اور دونوں بھائیوں کی تعظیم مدنظر رکھنے کی وصیت کرتا ہوں‘ ان کا حق تم پر زیادہ ہے‘ ان کی منشاء کے خلاف تم کو کوئی کام نہیں کرنا چاہیے‘ حسنین رضی اللہ عنہ کی جانب مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم کو بھی محمد بن الحنفیہ کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک اور رعایت کے ساتھ پیش آنا چاہیے‘ پھر ایک عام وصیت تحریر کرانے لگے‘ کہ وفات کا وقت آ گیا‘ اور سوائے لا الہ الا اللہ کے دوسرا کلمہ زبان مبارک سے نہ نکلا۔