سیدنا علی رضی اللہ عنہ
مصرکی حالت
جیسا کہ اوپر تحریر ہو چکا ہے‘ جنگ صفین کے وقت کے مصر کے عامل محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ تھے‘ اور وہ اس لڑائی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حمایت اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مخالفت میں کوئی خدمت انجام نہ دے سکے تھے کیونکہ وہ امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہو اخواہوں کے ساتھ معرکہ آرائی اور اندرونی جھگڑوں میں گرفتار تھے‘ ہواخواہان عثمان نے معاویہ بن حدیج کو اپنا سردار بنا کر باقاعدہ مقابلہ اور معرکہ آرائی شروع کر دی اور ان کو کئی معرکوں میں کامیابی بھی حاصل ہو گئی تھی۔
جنگ صفین سے فارغ ہو کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اول مالک اشتر نخعی کو جزیرہ کی حکومت پر مامور کر کے بھیجا‘ لیکن چند روز کے بعد مالک کو مصر کی گورنری پر نامزد کر کے روانہ کیا‘ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے جب یہ خبر سنی کہ مالک اشتر مصر کی حکومت پر مامور ہو کر آ رہا ہے تو ان کو سخت ملال ہوا‘ اسی طرح سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس خبر کو سنا‘ تو وہ بھی بہت فکر مند ہوئے‘ کیونکہ وہ مالک اشتر کو صاحب تدبیر شخص سمجھتے اور جانتے تھے کہ مالک اشتر کے عصر پر قابض ہونے کے بعد مصر کا معاملہ بہت تکلیف دہ اور خطرناک صورت اختیار کر لے گا‘ مگر اتفاق کی بات کہ مالک اشتر کا مصر میں پہنچنے سے پہلے ہی راستہ میں انتقال ہو گیا اور محمد بن ابی بکرمصر پر بدستور قابض و متصرف رہے۔
مالک اشتر کے مرنے کی خبر سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ ہم نے مالک اشتر کو مصر کی حکومت پر اس لیے نامرد نہیں کیا تھا کہ ہم تم سے ناراض تھے‘ بلکہ اس کا تقرر محض اس لیے عمل میں آیا تھا کہ وہ بعض سیاسی امور کو قابلیت سے انجام دے سکتا تھا جس کی حکومت مصر کے لیے ضرورت تھی‘ اب جب کہ اس کا راستے ہی میں انقال ہو گیا‘ تو ہم تم ہی کو مصر کی حکومت کے لیے بہتر شخص سمجھتے ہیں‘ تم کو چاہیے کہ دشمنوں کے مقابلہ میں جرات و استقلال سے کام لو‘ اس خط کے جواب میں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ میں آپ کا تابع فرمان ہوں اور آپ کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہوں۔
یہ واقعات حکمین کے فیصلہ سنانے سے پہلے وقوع پذیر ہو چکے تھے‘ جب مقام اذرح میں حکمین کے فیصلے کا اعلان ہو گیا‘ تو اہل شام نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کر کے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی‘ اس سے ان کی قوت و شوکت میں پہلے سے اضافہ ہو گیا‘ اور انہوں نے معاویہ بن حدیج سے خط و کتابت کر کے اس جماعت کی ہمت افزائی کی جو محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے برسر پر خاش تھی‘ انہوں نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے اعانت و امداد طلب کی‘ یہی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا منشا تھا‘ چنانچہ انہوں نے عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو چھ ہزار کی جمعیت کے ساتھ مصر کی طرف روانہ کیا‘ اور ایک خط بھی محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے نام لکھ دیا‘ عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے مصر کے قریب پہنچ کر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا خط معہ اپنے خط کے محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا‘ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے یہ دونوں خط سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ میں بھیج دئیے۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کر کے بہت کچھ ترغیب دی‘ مگر دو ہزار سے زیادہ آدمی مصر کی مہم کے لیے تیار نہ ہوئے‘ آخر ان ہی دو ہزار کو مالک بن کعب کی سرداری میں مصر کی جانب روانہ کیا۔ادھر عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کے مقابلہ پر محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے دو ہزار کی جمعیت کنانہ بن بشر کی سرداری میں روانہ کر دی تھی‘ کنانہ بن بشر لشکر شام کے مقابلہ میں شہید ہو گئے‘ ان کے ہمراہی کچھ مارے گئے‘ کچھ ادھر ادھر بھاگ گئے۔
اس شکست کا حال سن کر محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے خود میدان جنگ کا قصد کیا‘ لیکن ان کے ہمرائیوں پر اہل شام کا کچھ ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ بغیرلڑے ان کا ساتھ چھوڑ کر علیحدہ ہو گئے‘ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو تنہا پا کر میدان جنگ سے واپس آ کر جبلہ بن مسروق کے مکان میں پناہ گزیں ہوئے‘ لشکر شام اور معاویہ بن حدیج کے ہمرائیوں نے آ کر جبلہ بن مسروق کے مکان کا محاصرہ کر لیا‘ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ زندگی سے مایوس ہو کر نکلے اور دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے گرفتار ہوئے‘ معاویہ بن حدیج نے ان کو قتل کر کے ایک مردہ گدھے کی کھال میں بھر کر جلا دیا۔
اس حادثہ کی خبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے جاسوس عبدالرحمن بن شبیب فزاری نے شام سے آ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنائی‘ آپ نے اسی وقت مالک بن کعب کے واپس بلانے کے آدمی بھیجا‘ ادہر مالک بن کعب نے تھوڑا ہی راستہ طے کیا تھا کہ حجاج بن برک بن عبداللہ عنمی انصاری مصر سے آتے ہوئے راستے میں ملے‘ انہوں نے محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے مارے جانے اور عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کے مصر پر قابض ہونے کا حال سنایا‘ اتنے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کو جمع کر کے ایک تقریر فرمائی اور ان کو ملامت کی کہ تمہاری ہی سستی اور غفلت کے سبب مصر کا ملک ہاتھ سے جاتا رہا‘ مگر اس تقریر کو سن کر بھی اہل کوفہ خاموش رہے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مصر اور شام دونوں کا خیال چھوڑ دیا‘ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ۳۸ ھ میں مصر کے اندر مارے گئے تھے۔