سیدنا علی رضی اللہ عنہ
خوارج کی شورش
اوپر بیان ہو چکا ہے کہ جس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ حکمین کا فیصلہ سننے کے لیے چار سو آدمی مقام اذرح کی طرف بھیجنے لگے تھے توحرقوص بن زہیر نے کہا تھا‘ کہ آپ اب بھی اپنی پنچایت کی کارروائی میں حصہ نہ لیں اور ملک شام پر چڑہائی کریں‘ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس بات کے ماننے سے صاف انکار فرما دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم بدعہدی نہیں کر سکتے اور اپنے تحریری اقرار نامہ سے نہیں پھر سکتے‘ اب حرقوص اور تمام خوارج نے جب دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پنچایت اور پنچوں کے فیصلے کو بے حقیقت اور ناقابل التفات ثابت کر کے لوگوں کو ملک شام پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں توزرعہ بن البرج اور حرقوص بن زہیر دونوں خارجی سردار سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ نے ہمارے صحیح مشورے کو پہلے حقارت سے رد کر دیا اور اب آپ کو وہی کام کرنا پڑا جس کے لیے ہم کہتے تھے‘ پنچایت کے تسلیم کرنے میں آپ نے غلطی کی تھی لیکن آپ نے اس غلطی کو تسلیم نہیں کیا‘ اور اب آپ پنچایت کو بے حقیقت بتانے اور ملک شام پر حملہ آور ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں‘ پس ہم اب آپ کا ساتھ اس وقت دیں گے جب آپ اپنی غلطی اور گناہ کا اقرار کر کے اس سے توبہ کریں گے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پنچایت کے تسلیم کرنے اور حکم مقرر کرنے میں تم ہی لوگوں نے مجھ کو مجبور کیا تھا‘ ورنہ لڑائی کے ذریعہ اسی وقت فیصلہ ہو چکا ہوتا‘ یہ کیسی الٹی بات ہے کہ اب مجھ کو خطا کار ٹھہراتے اور مجھ سے توبہ کراتے ہو‘ انہوں نے کہا کہ اچھا ہم تسلیم کئے لیتے ہیں کہ ہم نے بھی گناہ کیا‘ لہذا ہم بھی توبہ کرتے ہیں آپ بھی اپنے گناہ کا اقرار کر کے توبہ کریں‘ پھر شامیوں سے لڑنے چلیں‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب میں گناہ ہی تسلیم نہیں کرتا تو توبہ کیسے کروں‘ یہ سن کر وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے اور لا حکم الا للہ‘ لا حکم الا للہ کہتے ہوئے اپنی قیام گاہوں کی طرف چلے گئے۔
اس کے بعد سیدنا علی مسجد کوفہ میں خطبہ دینے کھڑے ہوئے‘ تو مسجد کے ایک گوشہ سے ایک خارجی نے بلند آواز سے کہا کہ لاحکم الا للہ‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ دیکھو لوگ کلمہ حق سے باطل کا اظہار کرتے ہیں۔ (کَلِمَۃُ حَقٌّ اُرِیْدُ بِھَا الْبَاطِلْ) اس کے بعد آپ نے پھر خطبہ شروع کیا تو یہی آواز آئی لا حکم الا للہ‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ ہمارے ساتھ بہت ہی نا مناسب برتائو کر رہے ہو‘ ہم تم کو مسجدوں میں آنے سے منع نہیں کرتے‘ جب تک تم ہمارے ساتھ رہے ہم نے مال غنیمت میں بھی تم کو برابر حصہ دیا‘ اور ہم تمہارے ساتھ اس وقت تک نہ لڑیں گے‘ جب تک کہ تم ہم سے نہ لڑو‘ اور اب ہم تمہاری بابت اللہ کے حکم کو دیکھیں گے کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے‘ یہ فرما کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسجد سے نکل کر مکان کی طرف تشریف لے گئے۔
اس کے بعد خارجی لوگ بھی عبداللہ بن وہب کے مکان پر بغرض مشورت جمع ہوئے‘ عبداللہ بن وہب حرقوص بن زہیر‘ حمزہ بن سنان زید الطائی‘ شریح بن ابی اوفی عنبسی وغیرہ کی یہی رائے قرار پائی کہ کوفہ سے نکل پہاڑی مقامات کو قرار گاہ بنانا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حکومت سے آزاد ہو کر اپنی الگ حکومت قائم کرنا چاہیے‘ ہمزہ بن سنان اسدی نے کہا کہ روانگی سے پہلے ہم کو چاہیے‘ کہ کسی ایک شخص کو امیر بنا لیں اور اس کے ہاتھ میں اپنا جھنڈا دیں۔
اس کام کے لیے اگلے دن شریح کے مکان پر پھر مجلس منعقد ہوئی‘ اس مجلس میں عبداللہ بن وہب کو خوارج نے اپنا امیر بنایا‘ اور اس کے ہاتھ پر بیعت کی‘ عبداللہ بن وہب نے کہا کہ ہم کو یہاں سے اب کسی ایسے شہر کی جانب چلنا چاہیے جہاں ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کو جاری کر سکیں کیونکہ ہم اہل حق ہیں‘ شریح نے کہا کہ ہم کو مدائن کی طرف جانا چاہیے‘ کیونکہ اس پر ہمارا قبضہ بڑی آسانی سے ہو جائے گا اور وہاں کی تھوڑی سی فوج کو ہم بآسانی مغلوب کر سکیں گے‘ وہیں ہم اپنے ان بھائیوں کو بلوا لیں گے جو بصرہ میں موجود ہیں‘ زید بن حصین نے کہا کہ اگر ہم سب کے سب مجتمع ہو کر نکلے تو عجب نہیں ہمارا تعاقب کیا جائے‘ لہذا مناسب یہ ہے کہ دو دو‘ چار چار‘ دس دس کی ٹولیوں میں یہاں سے نکلیں اور اول مدائن نہیں بلکہ نہروان کی جانب چلیں اور وہیں اپنے بھائیوں کو خط بھیج کر بصرہ سے بلوا لیں‘ اس آخری رائے کو سب نے پسند کیا۔
قرار داد کے موافق یہ لوگ متفقہ طور پر چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں کوفہ سے نکلے‘ کوفہ سے نکل کر انہوں نے خوارج بصرہ کو لکھا کہ تم بھی بصرہ سے نکلو اور ہم سے نہروان میں آملو‘ بصرہ سے مشعر بن فدکی تیمی پانچ سو خوارج کی جمعیت لے کر نکلا۔
جب کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ خوارج کی جمعیت کثیر کوفہ سے نکل کر مدائن کی طرف روانہ ہوئی ہے تو انہوں مدائن کے عامل سعد بن مسعود کے پاس تیز رو ایلچی بھیجا‘ کہ خوارج کی روک تھام کریں اور ان سے غافل نہ رہیں‘ سعد بن مسعود نے اپنے بھتیجے کو اپنا قائم مقام بنا کر مدائن میں چھوڑا اور خود فوج لے کر خوارج کے روکنے کو روانہ ہوئے‘ راستے میں خوارج کی ایک جمعیت سے مقام کرج میں مقابلہ ہوا شام تک لڑائی ہوتی رہی‘ رات کی تاریکی میں خوارج دجلہ کو عبور کر گئے۔
اس کے بعد بصرہ کے خوارج پہنچ گئے‘ ان سے بھی مقابلہ و مقاتلہ ہوا‘ وہ بھی دجلہ کو عبور کرنے اور مقام نہروان میں اپنے بھائیوں سے جا ملنے میں کامیاب ہو گئے‘ نہروان میں خوارج نے اپنی جمعیت کو خوب مضبوط اور منظم کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے تابعین پر کفر کا فتویٰ لگا کر ان لوگوں کو جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حق پر تسلیم کرتے تھے قتل کرنا شروع کیا‘ ان کی جمعیت روز بروز ترقی کرتی گئی‘ یہاں تک کہ ان کی تعداد ۲۵ ہزار تک پہنچ گئی۔