سیدنا علی رضی اللہ عنہ
جنگ صفین کا ایک ہفتہ
ماہ محرم ۳۷ھ کی آخری تاریخ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کو حکم عام دے دیا کہ کل یکم ماہ صفر سے فیصلہ کن جنگ شروع ہو گی ساتھ ہی یہ بھی اعلان کر دیا‘ کہ حریف جب تمہارے سامنے سے پسپا ہو تو بھاگنے والوں کا نہ تو تعاقب کیا جائے‘ نہ ان کو قتل کیا جائے‘ زخمیوں کا مال نہ چھینا جائے‘ کسی لاش کو مثلہ نہ کیا جائے‘ عورتیں اگرچہ گالیاں بھی دیں‘ ان پر کوئی زیادتی نہ کی جائے‘ اسی قسم کے احکام امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے لشکر میں جاری کر دیئے‘ یکم صفر کی صبح سے لڑائی شروع ہوئی اس روز اہل کوفہ نے اشتر کی سرداری میں اور اہل شام نے حبیب بن مسلمہ کی سرداری میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیا‘ صبح سے شام تک برابر ہنگامۂ کارزار گرم رہا‘ مگر کوئی فیصلہ شکست و فتح کی شکل میں نمودار نہ ہو سکا۔
دوسرے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہاشم بن عتبہ سوار و پیادہ لشکر لے کر نکلے اور اہل شام کی طرف سے ابو الاعور سلمی نے مقابلہ کیا‘ اس روز بھی شام تک بری خون ریز لڑائی جاری رہی اور کوئی فیصلہ نہ ہوا‘ تیسرے روز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے عمرو بن العاص لشکروں کو لے کر مقابل ہوئے‘ یہ لڑائی سابقہ دو دن کی لڑائیوں سے بھی زیادہ سخت و شدید تھی‘ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے شام کے قریب آخر میں ایسا سخت حملہ کیا کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو کسی قدر پسپا ہو جانا پڑا تاہم آج بھی کوئی فیصلہ نہ ہوا‘ چوتھے روز سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کے صاحبزادے محمد بن الحنفیہ لشکر لے کر نکلے اس روز بھی خوب زور شور سے لڑائی ہوئی‘ جب شام ہونے کو آئی‘ تو عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے محمد بن الحنفیہ کو صف لشکر سے جدا ہو کر مبارزہ کی لڑائی کے لیے للکارا‘ محمد بن الحنفیہ‘ جوش شجاعت میں مقابلہ کے لیے نکلے‘ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے گھوڑا دوڑا کر اور قریب جا کر محمد بن الحنفیہ کو واپس لوٹا لیا‘ ان کے واپس ہونے کے بعد عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی لشکر شام کی طرف واپس چلے آئے۔ پانچویں روز سیدنا علی کی طرف سے سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا معاویہ کی طرف سے ولید بن عقبہ نکلے اور صبح سے شام تک بڑی سخت لڑائی جاری رہی‘ چھٹے روز ادھر سے مالک اشتر اور ادھر سے حبیب بن مسلمہ دوبارہ نبرد آزما ہوئے‘ اس روز بھی شام تک کی زور آزمائی و خوں ریزی نے کوئی نتیجہ پیدا نہیں کیا ساتویں روز سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بذات خود لشکر کو لڑائی پر آمادہ کیا اس روز بھی۔ اگرچہ لڑائی سابقہ ایام کی نسبت زیادہ سخت ہوئی‘ مگر دونوں فریق میدان میں برابر کا جوڑ ثابت ہوئے۔
اس جنگ ہفت روزہ میں ہر روز دونوں طرف سے نئے نئے سپہ سالار مقرر ہو ہو کر اپنی اپنی جنگی قابلیت کا اظہار کرتے رہے‘ چوں کہ دونوں لشکروں کی تعداد بھی نوے اور اسی ہزار یعنی قریباً برابر ہی تھی‘ اور طرفین کے لڑنے والوں میں بھی ایک ہی حیثیت اور ایک ہی سی طاقت و شجاعت والے لوگ تھے‘ لہذا کسی کو نہ فتح حاصل ہوئی نہ شکست‘ البتہ اس بات کا اظہار ہوتا رہا‘ کہ طرفین میں لڑائی کے لیے کافی جوش اور اظہار شجاعت کا کافی شوق ہے‘ یہ ہفتہ اسلام کے لیے بڑا ہی منحوس تھا کہ مسلمانوں کی تلواریں پوری تیزی کے ساتھ مسلمانوں کی گردنیں کاٹ رہی تھیں‘ اور دشمنان اسلام اطمینان کے ساتھ مصروف تماشا تھے‘ لیکن اس ہفتہ سے بھی زیادہ منحوس دو دن اور آنے والے تھے۔