ملک عرب
امن کے مہینے
انہوں نے سال میں ایک یا کئی مہینے ایسے بھی مقرر کر رکھے تھے جن میں لڑائی کو جائز نہیں سمجھتے تھے‘ اس امن و امان کی مدت مقررہ میں تمام لڑائیاں ملتوی ہو جاتی تھیں‘ انہی ایام میں خانہ کعبہ کے حج اور زیارت کو جاتے انہی ایام میں بڑے بڑے میلے لگتے اور مشاعرے منعقد ہوتے‘ انہی ایام میں تجارتی کاروبار کی سہولتیں بھی بہم پہنچا لیتے تھے۔ مندرجہ بالا سطور سے اہل عرب کی خوبیوں اور ان کے اخلاق فاضلہ کا اندازہ ہو سکتا ہے‘ پس یہی خوبیاں ان کے اندر موجود تھیں جو مذکورہ بیان میں سب کی سب ظاہر کر دی ہیں‘ اب ان کے دوسرے پہلو کا بھی معائنہ کرنا چاہیئے۔