سیدنا علی رضی اللہ عنہ
جنگ جمل
صبح اٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کوچ کا حکم دیا‘ بلوائیوں کا لشکر جو مدینہ سے آپ کے ساتھ تھا‘ شریک لشکر رہا‘ ان کا ایک حصہ الگ ہو کر لشکر کے قریب قریب رہا اور ایک حصہ لشکر میں ملا جا رہا‘ راستے میں بکربن وائل اور عبدالقیس وغیرہ قبائل بھی لشکر علی رضی اللہ عنہ میں شریک ہو گئے‘ بصرہ کے قریب پہنچ کر مقام قصر عبیداللہ کے میدان میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ خیمہ زن ہوئے۔
ادھر سے سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ بھی بمعہ لشکر آ کر اسی میدان میں فروکش ہوئے‘ تین روز تک دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابلہ خاموش پڑے رہے‘ اس عرصہ میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے بعض ہمرائیوں نے کہا کہ ہم کو لڑائی شروع کر دینی چاہیے‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کی معرفت مصالحت کی گفتگو ہو رہی ہے ہم کو اس کے نتیجے کا انتظار کرنا چاہیے‘ صلح کی گفتگو کے دوران میں حملہ آوری کرنا کسی طرح جائز نہیں ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھی ان کے بعض لشکریوں نے جنگ کے شروع کرنے کا تقاضا کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔
ایک روز ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے استفسار کیا کہ آپ بصرہ کی طرف کیوں تشریف لائے‘ آپ نے جواباً فرمایا کہ فتنہ فرو کرنے اور مسلمانوں کے درمیان مصالحت پیدا کرنے کے لیے‘ اس نے کہا کہ اگر بصرہ والے آپ کا کہا نہ مانیں اور آپ کے مدمقابل لوگ صلح و آشتی کی طرف متوجہ نہ ہوں تو پھر آپ کیا کریں گے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں گے‘ اس شخص نے کہا کہ آپ تو ان کو چھوڑ دیں گے‘ لیکن اگر انہوں نے آپ کو نہ چھوڑا تو پھر آپ کیا کریں گے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس حالت میں ہم مدافعت کریں گے‘ اتنے میں ایک شخص بول اٹھا‘ کہ طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ وغیرہ کہتے ہیں کہ ہم نے خدائے تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے خروج کیا ہے‘ کیا آپ کے نزدیک ان کے پاس بھی کوئی دلیل خون عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینے کی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں ان کے پاس بھی دلیل ہے‘ پھر اس نے دریافت کیا کہ آپ کے پاس بھی کوئی دلیل اس بات کی ہے کہ آپ نے اس خون کا معاوضہ لینے میں تاخیر کی‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں جب کوئی امرشتبہ ہو جائے اور حقیقت کا دریافت کرنا دشوار ہو تو فیصلہ احتیاط سے کرنا چاہیے‘ جلدی کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے‘ پھر اسی شخص نے پوچھا کہ اگر کل مقابلہ ہو گیا اور لڑائی شروع ہو گئی‘ تو ہمارا اور ان کا کیا حال ہو گا؟ سیدنا علی نے فرمایا‘ کہ ہمارے اور ان کے یعنی دونوں طرف کے مقتولین جنت میں ہوں گے۔
اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حکمی بن سلمہ اور مالک بن حبیب کو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام دے کر بھیجا‘ کہ اگر آپ حضرات اس اقرار پر جس کی سیدنا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اطلاع دی ہے قائم ہیں‘ تو لڑائی سے رکے رہیں جب تک کوئی بات طے نہ ہو جائے‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ نے کہلا بھجوایا کہ آپ مطمئن رہیں ہم اپنے اقرار پر قائم ہیں‘ اس کے بعد سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ صف لشکر سے نکل کر دونوں لشکروں کے درمیان میدان میں آئے‘ ان دونوں کو میدان میں دیکھ کر ادھر سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے لشکر سے نکلے اور اس قدر قریب پہنچ گئے‘ کہ گھوڑوں کے منہ آپس میں مل گئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اول سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم نے میرے خلاف اور میری دشمنی کے لیے یہ لشکر فراہم کیا اور میرے مقابلہ پر آئے‘ کیا عند اللہ تم کوئی عذر پیش کر سکتے ہو‘ اور اپنے اس کام کو جائز ثابت کر سکتے ہو؟ کیا میں تمہارا دینی بھائی نہیں ہوں؟ کیا تم پر میرا اور مجھ پر تمہارا خون حرام نہیں ہے؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ کیا تم نے عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں سازش نہیں کی؟
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دانا و بینا ہے اور وہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجے گا اور اے طلحہ رضی اللہ عنہ کیا تم نے میری بیعت نہیں کی تھی؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں میں نے بیعت کی تھی‘ لیکن میری گردن پر تلوار تھی‘ یعنی میں نے مجبوراً بیعت کی تھی اور وہ قاتلین عثمان رضی اللہ عنہ سے قصاص لینے کے ساتھ مشروط تھی۔
اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے‘ اور کہا کہ کیا تم کو وہ دن یاد ہے‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم سے فرمایا تھا‘ کہ تم ایک شخص سے لڑوگے اور تم اس پر ظلم کرنے والے ہوگے۔۱؎ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں مجھ کو یاد آ گیا‘ لیکن آپ نے میری روانگی سے پہلے مجھ کو یہ بات یاد نہ دلائی‘ ورنہ میں مدینہ سے روانہ نہ ہوتا اور اب واللہ میں تم سے ہرگز نہ لڑوں گا اس گفتگو کے بعد ایک دوسرے سے جدا ہو کر اپنے اپنے لشکر کی طرف واپس آ کر سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ اور کہا کہ آج مجھ کو علی رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی بات یاد دلائی ہے کہ میں ان سے کسی حالت میں لڑنا پسند نہ کروں گا‘ میرا ارادہ ہے کہ میں سب کو چھوڑ کر واپس چلا جائوں‘ سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ بھی پہلے ہی سے اس قسم کا خیال رکھتی تھیں‘ مگر ام المومنین رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی بات کا ابھی کوئی جواب نہیں دیا تھا‘ کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے باپ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے کہ آپ نے جب دونوں فریق میدان میں جمع کر دئیے‘ اور ایک دوسرے کی عداوت پر ابھار دیا تو اب چھوڑ کر جانے کا قصد فرماتے ہیں‘ مجھ کو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کو دیکھ کر ڈر گئے‘ اور آپ کے اندر بزدلی پیدا ہو گئی‘ یہ سن کر سیدنا زبیر اسی وقت اٹھے اور تن تنہا ہتھیار لگا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی طرف گئے‘ اور ان کی فوج کے اندر داخل ہو کر اور ہر طرف پھر واپس آئے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو آتے ہوئے دیکھ کر پہلے ہی اپنے آدمیوں کو حکم دے دیا تھا کہ خبر دار کوئی شخص ان سے متعر رضی اللہ عنہ نہ ہو اور ان کا مقابلہ نہ کرے‘ چنانچہ کسی نے ان کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی۔
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے واپس جا کر اپنے بیٹے سے کہا کہ میں اگر ڈرتا تو تنہا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں اس طرح نہ جاتا‘ بات صرف یہ ہے کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے سامنے قسم کھالی ہے کہ تمہارا مقابلہ نہ کروں گا اور تم سے نہ لڑوں گا‘ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ قسم کا کفارہ دے دیں‘اور اپنے غلام کو آزاد کر دیں‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے‘ اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ قتل کرے گا۔۲؎ عرض رضی اللہ عنہ جنگ و پیکار کے خیالات اور ارادے طرفین کے سرداروں نے بتدریج اپنے دلوں سے نکال ڈالے اور نتیجہ یہ ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ و طلحہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور صلح کی تمام شرائط تیسرے دن شام کے وقت طے اور مکمل ہو گئیں‘ اور بات یہ قرار پائی‘ کہ کل صبح صلح نامہ لکھا جائے‘ اور اس پر فریقین کے دستخط ہو جائیں۔
دونوں لشکروں کو ایک دوسرے کے سامنے پڑے ہوئے تین دن ہو چکے تھے‘ اس تین دن کے عرصہ میں عبداللہ بن سبا کی جماعت اور بلوائیوں کے گروہ کو جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کے متصل پڑے ہوئے تھے‘ کوئی موقعہ اپنی شرارت آمیز ارادوں کے پورا کرنے کا نہ ملا‘ اب جب کہ ان کو یہ معلوم ہوا کہ صبح کو صلح نامہ لکھا جائے گا تو بہت فکر مند ہوئے اور رات بھر مشورے کرتے رہے‘ آخر سپیدہ سحر کے نمودار ہونے کے قریب انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کے لشکر یعنی اہل جمل پر حملہ کر دیا‘ جس حصہ فوج پر یہ حملہ ہوا اس نے بھی مدافعت میں ہتھیاروں کا استعمال شروع کیا‘ جب ایک طرف سے لڑائی شروع ہو گئی‘ تو فوراً ہر طرف طرفین کی فوجیں لڑائی پر مستعد ہو کر ایک دوسرے پر حملہ آور ہو گئیں۔
لڑائی کا یہ شور سن کر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اپنے خیموں سے نکلے اور شوروغل کا سبب دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج نے اچانک حملہ کر دیا‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے افسوس علی رضی اللہ عنہ بغیر کشت و خون کے باز نہ آئیں گے۔
ادھر شور و غل کی آواز سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے خیمہ سے نکلے اور شورو غل کی وجہ پوچھی‘ تو وہاں پہلے ہی سے عبداللہ بن سبا نے اپنے چند آدمیوں کو لگا رکھا تھا‘ انہوں نے فوراً جواب دیا کہ طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ نے ہمارے لشکر پر اچانک بے خبری میں حملہ کر دیا ہے‘ اور مجبوراً ہمارے آدمی بھی مدافعا نہ لڑائی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ افسوس طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ بغیر خوں ریزی کئے باز نہ آئیں گے‘ یہ فرما کر اپنے فوج کے حصوں کو احکام بھیجنے اور دشمن کا مقابلہ کرنے پر آمادہ کرنے لگے۔
غرض بڑے زور و شور سے لڑائی شروع ہو گئی‘ فریقین کے سپہ سالاروں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو مجرم سمجھا‘ اور حقیقت اصلیہ سے دونوں بے خبر و ناواقف رہے‘ تاہم فریقین کے لشکر میں لڑائی شروع ہونے کے بعد ایک ہی قسم کی منادی ہوئی کہ’’ اس معرکہ میں کوئی شخص بھاگنے والے کا تعاقب نہ کرے‘ کسی زخمی پر حملہ نہ کرے‘ نہ کسی کا مال و اسباب چھینے‘ یہ منادی طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف سے بھی ہوئی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بھی جو دلیل اس امر کی ہے کہ دلوں میں ایک دوسرے کی عداوت و دشمنی موجود نہ تھی‘ بلکہ دونوں فریق اس لڑائی کو بہت ہی گراں اور ناگوار محسوس کر رہے تھے‘ اور مجبوراً میدان میں موجود تھے۔
عبداللہ بن سبا اور مصر وغیرہ کے بلوائیوں کی جماعت نے اب خوب آزادانہ میدان جنگ میں اپنی بہادری کے جوہر دکھانے شروع کر دئیے‘ اور ان سبائی اور بلوائیوں کی جماعت کے سرداروں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اردگردرہ کر اپنی جاں فروشی و جاں فشانی کے نظارے ان کو دکھائے۔
کعب بن مسور سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آ کر عرض کرنے لگے کہ لڑائی شروع ہو گئی ہے‘ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اونٹ پر سوار ہو جائیں اور صلح کی کوئی صورت پیدا ہو جائے‘ یہ سن کر سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ نے آمادگی ظاہر کی اور فوراً اونٹ پر سوار ہو گئیں‘ آپ کے ہودج پر لوگوں نے احتیاط کی غرض سے زرہیں پھیلا دیں‘ اور اونٹ کو ایسے موقع پر لا کھڑا کر دیا جہاں سے لڑائی کا ہنگامہ خوب نظر آتا تھا‘ مگر توقع کے خلاف بجائے اس کے کہ لڑائی کم ہوتی اور رکتی اس اونٹ یعنی ام المومنین رضی اللہ عنہ کی سواری کو دیکھ کر لڑائی میں اور بھی زیادہ اشتعال و اشتداد پیدا ہو گیا۔ لڑنے والوں نے یہ سمجھا کہ سیدنا ام المومنین رضی اللہ عنہ بحیثیت سپہ سالار میدان جنگ میں تشریف لائی ہیں‘ اور ہم کو زیادہ بہادری کے ساتھ لڑنے کی ترغیب دے رہی ہیں۔
ادھر سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اہل جمل کی شدت و چیرہ دستی دیکھ کر خود مسلح ہو کر حملہ آور ہونا اور اپنی فوج کو ترغیب جنگ دینا ضروری سمجھا‘ لڑائی کو شروع ہوئے تھوڑی ہی دیر گذری تھی کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے پائوں میں ایک تیر لگا اور تمام موزہ خون سے بھر گیا‘ اس تیر کا زخم نہایت اذیت رساں تھا‘ اور خون کسی طرح نہ رکتا تھا‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی یہ حالت سیدنا قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے دیکھی جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھے‘ اور فرمایا کہ اے ابومحمد رضی اللہ عنہ ! آپ کا زخم بہت خطرناک ہے‘ آپ فوراً بصرہ میں واپس تشریف لے جائیں‘ چنانچہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بصرہ کی طرف متوجہ ہوئے‘ بصرہ میں داخل ہوتے ہی وہ زخم کے صدمہ سے بے ہوش ہو گئے اور وہاں پہنچنے کے بعد ہی انتقال کر گئے‘ اور وہیں مدفون ہوئے۔
مروان بن الحکم اس لڑائی میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ و زبیر رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھا‘ جب لڑائی شروع ہو گئی تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ میں بھی علی رضی اللہ عنہ کا مقابلہ ہرگز نہ کروں گا‘ اسی خیال سے وہ لشکر سے الگ ہو کر ایک طرف کھڑے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی باتوں پر غور کر رہے تھے‘ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ و سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گفتگو اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ والی پیشگوئی کو یاد کر کے اس لڑائی سے بالکل جدا اور غیر جانب دار ہونا چاہتے تھے‘ اس حالت میں مروان بن الحکم نے ان کو دیکھا اور وہ سمجھ گیا کہ یہ لڑائی میں کوئی حصہ لینا نہیں چاہتے‘ اور صاف بچ کر نکل جانا چاہتے ہیں‘ چنانچہ اس نے اپنے غلام کو اشارہ کیا اس نے مروان کے چہرے پر چادر ڈال دی‘ مروان نے چادر سے اپنا منہ چھپا کر کہ کوئی شناخت نہ کرے ایک زہر آلود تیر کمان میں جوڑ کر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو نشانہ بنایا‘ یہ تیر سیدنا طلحہ کے پائوں کو زخمی کر کے گھوڑے کے پیٹ میں لگا اور گھوڑا سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو لیے ہوئے گرا‘ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے غلام کو جو اتفاقاً اس طرف سامنے آ گیا تھا بلایا‘ اور اس کے ہاتھ پر یا سیدنا قعقاع رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر جو وہاں آ گئے تھے نیابتاً سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور اس تجدید بیعت کے بعد بصرہ میں آ کر انتقال فرمایا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا تو انہوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی اور ان کی بہت تعریف فرماتے اور افسوس کرتے رہے۔